حرم شریف میں عورتوں کی محاذات کے مسئلہ کا حل:

6 min readFatwa Vol 2 #182Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

حرم شریف میں عورتوں کی محاذات کا مسئلہ لا ینحل سا ہے اس میں کوئی گنجائش نکل سکتی ہے یا کسی اور کے مذہب پر فتوی کی گنجائش ہے یا نہیں؟ فقہاء نے اس مسئلہ کی صراحت کی ہے یا نہیں؟

Answer

محاذات سے فسادِ صلاۃکا مسئلہ صرف مذہبِ احناف کے مطابق ہے ورنہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک محاذات کوئی چیز نہیں ۔ پھر احناف کی دلیل اس مسئلہ میں صرف عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه کا قول ہے: "
أخّروهن من حيث أخرهن الله"
ملا علی قاری رحمه الله نے شرح نقایہ میں فرمایا مرفوعاً حدیث صحیح نہیں ہے لیکن عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه سے موقوفاً صحیح ہے تب بھی صرف استحباب ثابت ہو سکتا ہے کہ عورتوں کو پیچھے نماز پڑھنا مستحب ہے جیسے بچوں کے لیے پیچھے مستحب ہے اگر تسلیم بھی کرے کہ امر وجوب کے لیے اور موقوف مرفوع کے حکم میں ہے تب بھی حالتِ محاذات میں نماز فاسد ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ فسادِ نماز کے لیے مضبوط دلیل چاہیے جو یہاں موجو د نہیں ہے لہذا نماز فاسد نہ ہونی چاہیے، لیکن ملا علی قاری رحمه الله کی عبارت متون شروح و فتاوی سے مختلف ہے لہذا اعتبار متون و شروح و فتاوی کا ہونا چاہیے ۔ دونوں میں تطبیق یہ ہو سکتی ہے کہ عام حالات میں تو متون وغیرہ ہی کا اعتبار ہوگا یعنی محاذات مفسد ہے لیکن حرم شریف میں چونکہ محاذ ات سے بچنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن سا ہے لہذا ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوے ملا علی قاری رحمه الله کی اس عبارت پر فتوی دیا جائے تو مناسب ہوگا ۔
کیونکہ علامہ شامی رحمه الله وغیرہ نے تو صراحت فرمائی ہے کہ مفتی اگر غیر مشہور قول پر فتوی دے مواضعِ ضرورت میں آسانی کا پہلو سامنے رکھتے ہوے تو ٹھیک ہے اور گنجائش ہے ۔ اس کے بر خلاف ہم یہ کہیں کہ حرم میں بھی نماز فاسد ہو جائے گی تو اس میں بہت تنگی اور حرج ہے ۔
بعض علماء نے یہ جواب مرحمت فرمایا ہے کہ چونکہ ائمۂ حرم عورتوں کی امامت کی نیت نہیں کرتے لہذا عورتوں کی نماز ہی نہ ہو گی اور محاذات کا تحقق نہ ہوگا، لیکن اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ائمہ کے مذہب کے مطابق عورتوں کی علیحدہ نیت کی ضرورت نہیں، دوسری بات یہ ہے کہ ائمہ نے خود بتایا کہ ہم عورتوں کی امامت کی نیت کرتے ہیں، چنانچہ حضرت مولا نا علاء الدین صاحب مد ظلہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود شیخ سبیل سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم عورتوں کی بھی نیت کرتے ہیں، لہذا یہ کہنا کہ عورتوں کی نیت نہیں کرتے تو محاذات نہ ہو گی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔
حاصل کلام: حرم شریف میں مسئلہ محاذات کا حل یہی ہو سکتا ہے کہ ملا علی قاری رحمه الله کی عبارت پر فتوی دے، علامہ شامی رحمه الله کے قول کے مطابق ضرورت کے وقت آسانی کا پہلو سامنے رکھتے ہوے ۔
ملا علی قاری رحمه الله کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

وأما قول صاحب الهداية لقوله ﷺ أخّروهن من حيث أخّرهن الله فغير معروف رفعه وأغرب منه أنه جعله من المشاهير وهذا خلاف ما عليه الجماهير، والحاصل أنه لا يصح رفعه لكنه ثبت عن ابن مسعود رضي الله عنه ووقفه رواه الطبراني

والحديث مع كونه موقوفاً لا دلالة له فيه إلا على الاستحباب فأخّروهن عن الرجال كتأخر الأطفال وفق ما ثبت في الأحاديث المرفوعة وعلى تسليم أن الأمر للوجوب بناء على أنه في حكم المرفوع فلا دلالة فيه على إبطال الصلاة حال المحاذاة. (شرح النقاية: ۱/ ۲۰٤، ترتيب الصفوف، سعيد)

ملاحظہ ہو علامہ شامی کا قول مواضعِ ضرورت میں غیر مشہور روایت پر فتوی دینا:

وفي المعراج عن فخر الأئمة: لو أفتي مفت بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلباً للتيسير كان حسناً. (شامي: ۱/۲۸۹ باب الحيض، مطلب لو أفتي مفت الخ، سعيد. ورسم المفتي: ٤٤)

نیز علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے بھی یہ قول البحر الرائق میں نقل کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو :

وفي معراج الدراية معزياً إلى فخر الأئمة لو أفتي مفت بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلباً للتيسير كان حسناً. (البحر الرائق: ۱/۱۹۳، باب الحيض، الماجدية)

نیز قواعد شریعت اور مزاجِ شریعت کے بھی موافق ہے: یعنی حرج اور تنگی نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ آسانی کا پہلو اختیار کرنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو :

قال الله تعالي: ﴿وما جعل عليكم في الدين من حرج﴾ و﴿يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر﴾
عن أبي بردة قال بعث النبي ﷺ جده أبا موسى ومعاذ إلى اليمن فقال: "يسّرا ولا تعسّرا وبشّرا ولا تنفّرا وتطاوعا ولا تختلفا" متفق على ه. (مشكاة: ۲/۳۲۳ باب ما على الولاة من التيسير)

شرح مجلۃ میں ہے:

المشقة تجلب التيسير. المادة ۱۷: (شرح المجلة ۲۷. ۲۸)
إن الصعوبة تصير سبباً للتسهيل ويلزم التوسيع في وقت المضايقة

اعلم أن أصل الشرع مبناه على اليسر والتسهيل، قال الله تعالي: ﴿يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر﴾ و﴿وما جعل عليكم في الدين من حرج﴾ وقال ﷺ: "أحب الدين إلى الله الحنيفية السمحة". المادة ۱۷: (شرح المجلة: ۱/٤۸، رشيديه، محمد خالد الاتاسي)

مفتی اعظم پاکستان ہمارے استاذِ محترم حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله بھی حرم میں محاذات کے باوجود نماز کی صحت کا فتوی دیتے تھے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.