دو عذر والے کے پیچھے ایک عذر والے کی اقتداء کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #192Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

اگر امام کو خروجِ ریح اور سلس البول دو عذر ہوں اور مقتدی کو صرف خروجِ ریح کا عذر ہو تو اقتدا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اقتدا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ امام مقتدی سے ادنیٰ حال والا ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

وأما إذا صلى خلف من به السلس وانفلات ريح لا يجوز لأن الإمام صاحب عذرين والمؤتم صاحب عذر واحد

(شامي: ۱/٥۷۸باب الإمامة، سعيد)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

ولا يجوز أن يصلي خلف من به سلس البول وانفلات ريح لأن الإمام صاحب عذرين والمأموم صاحب عذر واحد. (الجوهرة النيرة: ۸۲، إمدادية ملتان)

امداد الفتاح میں ہے:

ولا يكون أدني حالاً من المأموم كان يكون

معذوراً والمقتدي خالياً عنه. (إمداد الفتاح: ۳۳۳، شروط صحة الاقتداء، بيروت).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.