فرض پڑھنے والے کے پیچھے سنت پڑھنے کا حکم:
Question
اگر ایک شخص نے ظہر کی نماز کسی کے پیچھے پڑھ لی اس کے بعد دوسری جگہ کوئی شخص ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا تو یہ شخص اس کے پیچھے ظہر کی سنت ادا کر سکتا ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں فرض پڑھنے والے کے پیچھے سنت پڑھنا جائز ہے اس لیے کہ خروج عن العہدہ کے لیے مطلق نیت کافی ہے جیسا کہ علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا ہے: ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
ثم اعلم أن ما ذكره المصنف هنا مخالف لما قدمه في شروط الصلاة بقوله وكفي مطلق نية الصلاة لنفل وسنة وتراويح، وذكر الشارح هناك أنه المعتمد، ونقلنا هناك عن البحر أنه ظاهر الرواية وقول عامة المشايخ وصححه في الهداية وغيرها، ورجحه في الفتح ونسبه إلى المحققين. قلت: فعلى هذا يصح الاقتداء في التراويح وغيرها بمفترض وغيره، ومثلها سائر السنن الرواتب كما تفيده عبارة الخانية تأمل. (شامي: ۱/٥۹۰ باب الإمامة، سعيد كمپني).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.