صریف الاقلام کا جائے وقوع:
Question
اگر سدرۃ المنتہی کو معراج کی انتہاء بتلائیں تو پھر بخاری شریف کی روایت کا کیا جواب ہوگا جس میں یہ عبارت ہے:
"فظهرت على مستوى أسمع فيه صريف الأقلام"
یعنی صریف الاقلام مقام
"سدرة المنتهي"
سے پہلے ہے یا بعد میں؟
Answer
در اصل دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، وہ اس طرح کہ حضور ﷺ کا صریف الاقلام کو سننا مختلف کتبِ حدیث میں حضرت ابن عباس
رضي الله عنه
اور حضرت ابو حبہ انصاری رضي اللہ عنہ سے مروی ہے اس کے ساتھ اسراء اور معراج سے متعلق احادیث میں کہیں یہ صراحت باوجود تتبع کے نہ مل سکی کہ سدرۃ المنتہی کے بعد مقام صریف الاقلام پر تشریف لے گئے ہو ں، ہاں اس کے برعکس ملتا ہے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
قال ابن شهاب: فأخبرني ابن حزم أن ابن عباس رضي الله عنه وأبا حبة الأنصاري رضي الله عنه كانا يقولان: قال النبي ﷺ ثم عرج بي حتى ظهرت لمستوى أسمع فيه صريف الأقلام ثم انطلق بي حتى انتهى بي إلى سدرة المنتهي. (صحيح البخاري: ۱/۵۱، كتاب الصلاة، ط: فيصل، وصحيح مسلم: ۱/۹۳، باب الإسراء، ط: فيصل).
البداية والنهاية
میں ہے:
ثم جاوز مراتبهم كلهم حتى ظهر لمستوى يسمع فيه صريف الأقلام، ورفعت لرسول الله ﷺ سدرة المنتهي. (البداية والنهاية: ۳/۱۲۲ فصل: الإسراء برسول الله صلى عليه وسلم من مكة إلى بيت المقدس، ط: الرياض).
البتہ بعض کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صریف الاقلام سدرۃ المنتہی کے بعد ہے ۔
ملاحظہ ہو
"السيرة الحلبية"
میں ہے:
فقال: ورأى ﷺ جبريل عليه السلام عند تلك السدرة فتأخر جبرئيل عليه الصلاة والسلام ثم عرج به ﷺ أي في تلك السحابة حتى ظهر لمستوى سمع فيه صرير الأقلام وفي رواية صريف (السيرة الحلبية: ۱/٤۰۱، باب الإسراء والمعراج، ط: بيروت).
حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ نے "سیرۃ المصطفیٰ" (۱/۲۸۷، ط: مکتبہ عثمانیہ) میں صریف الاقلام کو سدرۃ المنتہی کے بعد ثابت کیا ہے ۔
لیکن بخاری شریف کی ذکر کردہ روایت سے صراحۃً معلوم ہوا کہ مقام صریف الاقلام سدرۃ المنتہی سے نیچے اور پہلے ہے اور سدرۃ المنتہی اس کے بعد ہے اور گزشتہ سوال کے جواب میں معلوم ہو چکا کہ آپ ﷺ سدرۃ المنتہی سے آگے تشریف نہیں لے گئے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.