تقلید اور اتباع میں کوئی مغایرت نہیں ہے:
Question
کیا تقلید اور اتباع میں کوئی مغایرت ہے، بمعنی مفہوم ایک کو ناجائز اور دوسرے کو جائز مانا جاتا ہے، اس قسم کی تفریق اسلاف سے کہیں منقول ہے یا نہیں؟
Answer
تقلید اور اتباع میں کوئی مغایرت نہیں ہے دونوں ایک ہی ہیں نیز اسلاف سے بھی ان دونوں کے مابین کوئی معنوی تفریق منقول نہیں ہے ہاں البتہ اس کے خلاف (تفریق کے) ضرور منقول ہے ۔ ذیل میں چند عبارات درج کی جاتی ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ تقلید اور اتباع ایک ہی ہیں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو: اہل حدیث کے شیخ الکل مولانا سید نذیر حسین دہلوی (م ۱۳۳۰ ھ) تقلید کی تعریف میں لکھتے ہیں:
اور معنی تقلید کے عرف میں یہ ہیں کہ وقت لا علمی کے کسی اہل علم کا قول مان لینا اور اس پر عمل کرنا اور اس معنی عرفی میں مجتہدوں کے اتباع کو تقلید بولا جاتا ہے ۔
آگے فرماتے ہیں:
پس ثابت ہوا کہ آنحضرت کی پیروی کو مجتہدین کی اتباع کو تقلید کہنا مجوز ہے ۔
انتهى بلفظه
۔ (
معيار الحق، ص: ٦٦. ٦۷. الكلام المفيد في إثبات التقليد، ص: ۳۰).
نور الانوار میں ہے:
التقليد اتباع الرجل غيره الخ. (نور الأنوار، ص: ۲۲۰).
حاشیہ نامی میں ہے:
التقليد اتباع الغير على ظن. (حاشية نامي على الحسامي، ص: ۱۹۰).
کشاف اصطلاحات الفنون میں ہے:
التقليد اتباع الإنسان غيره فيما يقول. (كشاف اصطلاحات الفنون للشيخ القاضي محمد التهانوي (م ۱۱۹۱ هـ): ۲/ ۱۱۷۸، سهيل اكاديمي).
ان تمام عبارات سے یہ بات بخوبی واضح ہو گئی کہ تقلید اور اتباع دونوں ایک ہی ہیں اور اہل حدیث کے شیخ الکل کے نزدیک بھی دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے البتہ عرفاً ائمہ کے اتباع کو تقلید اور آنحضرت کے اتباع کو اتباع کہتے ہیں اکثر غیر مقلدین اتباع و تقلید کو مختلف سمجھتے ہیں کہ اتباع محمود ہے اور تقلید مذموم ہے، لیکن جب تقلید کے خلاف لکھتے ہیں تو خود اپنی تسلیم شدہ حقیقت کے برخلاف یہ تحریر کرتے ہیں ۔
﴿بل نتبع ما وجدنا عليه آباءنا﴾
یعنی مقلدین مشرکین کی طرح ہیں جیسے وہ اپنے آباء و اجداد کا اتباع کرتے تھے، پھر تقلید کو اتباع بھی کہتے ہیں، لیکن ان کے ذہنوں میں یہ بات نہیں آتی کہ مشرکین کے آباء کب مجتہد تھے کہ تقلید کی مثال ان کے ذریعہ سے دی جائے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.