لفظ تقلید کا اصطلاحی، عرفی اور عمومی استعمال:
Question
لفظ تقلید کا اصطلاحی معنی میں استعمال کا کب رواج ہوا اور اس کا عمومی استعمال شہرت کے درجہ میں کب آیا، کیا لفظ تقلید دور نبوی اور دورِ صحابہ میں رائج اور مستعمل تھا؟
Answer
اگر چہ تقلید کا معنوی ثبوت تو ملتا ہے لیکن لفظِ تقلید کا رواج اس زمانہ میں نہیں تھا، جیسا کہ احادیث کی اصطلاحات مثلاً حدیث کا مضطرب، حسن اور ضعیف ہونا ان اصطلاحات کا ثبوت صحابۂ کرام کے زمانہ میں نہیں تھا لیکن بعد میں یہ اصطلاحات مقرر ہو کر عام ہو گئیں، اسی طرح لفظ تقلید کا بعد میں رواج ہو گیا، البتہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں تقلید کے معنی کا ضرور ثبوت ہے ۔ چنانچہ اقتداء اور اتباع کے الفاظ اس زمانہ میں بھی استعمال کیے جاتے تھے، مثلاً
"اقتدوا بالذين من بعدي أبي بكر وعمر". (رواه الترمذي وحسنه، رقم: ۳٦٦۲).
اور جیسا کہ صحابہ کرام کے بارے میں ارشاد نبوی ہے "
بأيهم اقتديتم اهتديتم". (رواه رزين، مشكاة: ۲/ ۵۵٤، باب مناقب الصحابة، ورواه عبد بن حميد في "مسنده" من حديث ابن عمر مرفوعاً، كذا في "التلخيص الحبير": ٤/ ٤٦۲، باب أدب القضاء).
اور سوال یہ ہے کہ اصول حدیث کی اصطلاحات بھی اس زمانہ میں نہیں تھیں لیکن بعد میں اجماعِ تواتر سے یہ مقبول اور متعارف ہیں، اس طرح دیکھا جائے تو محدثین کے طبقات میں طبقاتِ حنفیہ طبقاتِ شافعیہ اور طبقاتِ مالکیہ و حنابلہ تو موجود ہیں لیکن کہیں بھی طبقۂ غیر مقلدین کا ثبوت نہیں ملتا ۔
چنانچہ صحیح اور درست بات یہ ہے کہ تقلید فقط متعارض یا مشتبہ نصوص میں کسی امام کے قول پر اعتماد کا نام ہے، ورنہ اتباع در حقیقت شریعت اور شارع ہی کا ہے نہ کہ مجتہد کی ذات کا ، اگر کسی کو تقلید کے نام ہی سے چڑ اور نفرت ہو تو نام نہ لینے سے ہم اسے تارکِ فرض نہیں کہیں گے لیکن یہ بات طے ہے کہ تقلید کی حقیقت تسلیم کرنے سے مفر ممکن نہیں ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.