جزئی مسائل میں دوسرا مذہب اختیار کرنا :
Question
کیا کوئی شخص جزئی مسائل میں ایک امام کے مذہب کو ترک کر کے دوسرے پر عمل کر سکتا ہے مثلاً اگر شافعی رمضان کا روزہ رکھنا چاہتا ہے تو رات کو نیت ضروری ہے اگر بھول گیا تو کیا مذہب حنفیہ پر صبح کو روزہ کی نیت کر سکتا ہے، یا اگر بیوی شافعی ہو اور شوہر حنفی تو جب بھی لمس ہو گا وضو ٹوٹ جائے گا ایسی صورت میں عورت مذہب حنفیہ پر عمل کر سکتی ہے یا نہیں؟ (وضوء کے بارے میں) ۔
Answer
صرف ضرورتِ شدیدہ کے موقع پر دوسرے مجتہد کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش و اجازت ہے عام حالات میں یہ مرضی پر موقوف نہیں ہے اسی طرح غرض اور محض ہویٰ پر ستی کی خاطر کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کرنا بالکل ناجائز ہے، اور کہاں ضرورت ہے اور کہاں نہیں اس کا فیصلہ محقق علماء اور مفتیانِ کرام ہی کر سکتے ہیں یہ ہر شخص کا کام نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو عقود رسم المفتی میں علامہ ابن عابدین لکھتے ہیں:
لو أفتى مفت بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلبا للتيسير كان حسناً وبه علم أن المضطر له العمل بذلك لنفسه كما قلنا وأن له الإفتاء به للمضطر فما مر أنه ليس له العمل بالضعيف والإفتاء بالمجهول على غير موضع الضرورة كما علمته عن مجموع ما قررناه. (عقود رسم المفتي، ص: ٤٤).
الدر المختار کی عبارت کے تحت لکھتے ہیں:
(إن الحكم والفتيا بالقول المرجوح جهل) قلت: لكن هذا في غير موضع الضرورة. (رد المحتار: ۱/ ۷٤، مطلب لا يجوز العمل بالضعيف، ط: سعيد).
خلاصہ یہ کہ سخت ضرورت ہو تو اجازت ہے بلا ضرورت اجازت نہیں ورنہ اندیشہ ہے کہ دین کھیل نہ بن جائے قبول شہادت کے باب میں علامہ شامی تحریر فرماتے ہیں ۔
(ولا من انتقل من مذهب أبي حنيفة إلى مذهب الشافعي) قوله من مذهب أبي حنيفة أي استخفافاً قال في القنية من كتاب الكراهية: ليس للعامي أن يتحول من مذهب إلى مذهب ويستوي فيه الحنفي والشافعي.
وفي آخر هذا الباب من المنح: وإن انتقل إليه لقلة مبالاته في الاعتقاد والجرأة على الانتقال من مذهب إلى مذهب كما يتفق له ويميل طبعه إليه لغرض يحصل له فإنه لا تقبل شهادته. (رد المحتار: ۵/ ٤۸۱، كتاب الشهادات، ط: سعيد).
الدر المختار میں ہے:
وإن الحكم الملفق باطل بالإجماع وفي رد المحتار مثاله متوضئ سال من بدنه دم ولمس امرأة ثم صلى فإن صحة هذه الصلاة ملفقة من مذهب الشافعي والحنفي والتلفيق باطل فصحته منتفية. (الدر المختار: ۱/ ۷۵، مطلب لا يجوز العمل بالضعيف، ط: سعيد).
صورتِ مسئولہ میں عورت نے جب مذہب حنفی کے مطابق وضو کیا ہے تو مذہب شافعی کے مطابق اس کی نماز درست نہ ہوگی وجہ یہ کہ مسِ مرأۃ عند الشوافع ناقضِ وضو ہے لہذا اس کا وضو کالعدم سمجھا جائے گا نیز سوال میں درج کردہ صورتوں میں ضرورتِ شدیدہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنا مذہب چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.