قنوتِ نازلہ میں مسنون کے علاوہ دیگر ادعیہ پڑھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #262Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۸): نماز ِ وتر اور دعاء قنوت کا بیان

Question

کیا یہ جائز ہے کہ قنوتِ نازلہ میں مسنون کے علاوہ دوسری دعائیں پڑھ لیں اگر امام مسنون کے ساتھ دوسری دعاؤں کا بھی اضافہ کیا تو کیا حکم ہے؟

Answer

دعا ءِ قنوت میں منقول دعا کے علاوہ دوسری دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں، ہاں دنیوی دعاؤں کے مشابہ نہ ہوں مثلا یا اللہ فلاں جگہ سونے کی کان عطا کر دے یا فلاں لڑکی سے نکاح کا انتظام فرما دے، شامی میں یہ دعا منقول ہے:

اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات. وألّف بين قلوبهم، وأصلح ذات بينهم، وانصرهم على عدوك وعدوهم، اللهم العن كفرة الكتاب الذين يكذبون رسلك ويقاتلون أوليائك، اللهم خالف بين كلمتهم، وزلزل أقدامهم، وأنزل عليهم بأسك الذي لا يرد عن القوم المجرمين. (شامي: ۲/٦، باب الوتر والنوافل، سعيد)

اور اس سے ملتی جلتی دعا علامہ خوارزمی نے کفایہ شرح ہدایہ میں ۱/۳۷۹ پر نقل فرمائی ۔
علامہ کاسانی رحمه الله بدائع الصنائع میں تحریر فرماتے ہیں:

وأما دعاء القنوت: وليس في القنوت دعاء موقت كذا ذكر الكرخي في كتاب الصلاة لأنه روي عن الصحابة أدعية مختلفة في حال القنوت، ولأن الموقت من الدعاء يجري على لسان الداعي من غير احتىاج إلى إحضار قلبه وصدق الرغبة منه إلى الله تعالى فيبعد عن الإجابة. (بدائع الصنائع: ۱/۲۷۳، سعيد)

علامہ کاسانی رحمه الله کی اس عبارت سے یہ باتیں مفہوم ہوئیں:
(۱) قنوت میں مخصوص دعا ضروری نہیں ۔
(۲) صحابہ سے مختلف دعائیں مروی ہیں ۔
(۳) مخصوص دعا پڑھنے کی عادت کی وجہ سے کبھی خشوع اور توجہ نہیں رہتی بلکہ معنی کی طرف کبھی خیال بھی نہیں جاتا ۔ ہاں قنوتِ وتر میں احناف کے ہاں
"اللهم إنا نستعينك"
پڑھنا مسنون ہے اس کے ساتھ دوسری دعا پڑھ لے تو درست ہے ۔ بدائع الصنائع میں ہے:

وقال بعض مشايخنا المراد من قوله ليس في القنوت دعاء موقت ما سوى قوله اللهم إنا نستعينك لأن الصحابة اتفقوا على هذا في القنوت. (بدائع الصنائع: ۱/۲۷۲، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.