تراویح اور تہجد دونوں علیحدہ نمازیں ہیں:

18 min readFatwa Vol 2 #311Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۰): تراویح کی نماز کا بیان

Question

تراویح کے بعد تہجد ہے یا نہیں یا تراویح تہجد کے قائم مقام ہے؟

Answer

احادیث اور آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ تراویح اور تہجد دونوں علیحدہ نمازیں ہیں تراویح تہجد کے قائم مقام نہیں ہو سکتی، تہجد کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے علیحدہ پڑھنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه سأل عائشة رضي الله تعالى عنها كيف كانت صلاة رسول الله ﷺ في رمضان فقالت: ما كان رسول الله ﷺ يزيد في رمضان ولافي غيره على إحدى عشرة ركعة

يصلي أربعاً فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي أربعاً فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي ثلاثاً

(رواه البخاري: ۱/۱٥٤، باب قيام النبي ﷺ بالليل في رمضان وغيره)

محدثین میں سے امام مسلم، امام مالک، امام عبد الرزاق، امام ابو داؤد، امام نسائی، امام ترمذی، امام ابو عوانہ، امام ابن خزیمہ، امام مروزی، امام دارمی، صاحبِ بلوغ المرام، صاحبِ مشکوۃ ان تمام نے یہ حدیث نقل فرمائی ہے لیکن تراویح کے باب میں نہیں ۔
لامع الدراری میں ہے:

ومما ينبغي التنبيه له أن عائشة رضي الله تعالى عنها لم تذكر هنا إلا ما كانت عادته في صلاته بالليل وكان دوامه عليها فأما ما وقع أحياناً ونادراً كصلاته بالقوم في رمضان ليالي فغير معترض به نفياً ولا إثباتاً وذلك كثير في الكلام

قوله في رمضان ولافي غيره: أي في صلاته المعتادة المعروفة بالتهجد وصلاة الليل لا أنه لم يزد على ذلك أبداً.

حاشیہ میں حضرت شیخ رحمه الله فرماتے ہیں:

وهذا أيضاً ظاهر أن التراويح صلاة مختصة برمضان والسؤال كان عن صلاة تعم رمضان وغيره. (لامع الدراري: ۲/۱۸٦، باب قيام النبي ﷺ في رمضان وفي غيره)

فتح الباری میں ہے:

وفي الحديث دلالة على أن صلاته كانت متساوية في جميع السنة. (فتح الباري: ۳/۳۳، باب قيام النبي ﷺ، دار نشر الكتب الإسلامية)

عمدۃ القاری میں ہے:

ذكر ما يستفاد منه فيه أن عمله ﷺ كان ديمة في شهر رمضان وغيره وأنه كان إذا عمل عملاً أثبته ودوام على ه. (عمدة القاري: ٥/٤۹٥، باب قيام النبي ﷺ، دار الحديث ملتان)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
تہجد الگ نماز ہے جو کہ رمضان اور غیر رمضان دونوں میں مسنون ہے، تراویح صرف رمضان مبارک کی عبادت ہے تہجد اور تراویح کو ایک نماز نہیں کہا جا سکتا ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۳/۳۰
، لدھیانوی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
اکابر کی تحقیق کے مطابق تراویح اور تہجد کا فرق اور شاہ صاحب کا نظریہ:
حضرت شاہ صاحب رحمه الله کا نظریہ:
تراویح اور تہجد ایک نماز ہے یا الگ الگ نمازیں ہیں؟ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمه الله کی تقریر سے پتا چلتا ہے کہ یہ دونوں نمازیں ایک ہی ہیں صرف دونوں کی صفت اور وقت میں فرق ہے نماز ایک ہے ۔ ہاں تراویح کی ۲۰ رکعت کے حضرت شاہ صاحب قائل ہیں ۔ العرف الشذی علی الترمذی میں مذکور ہے:

ولم يثبت في رواية من الروايات أنه عليه السلام صلي التراويح والتهجّد على حدة في رمضان، بل طوّل التراويح، وبين التراويح والتهجد في عهده لم يكن فرق في الرّكعات بل في الوقت والصّفة أي التراويح تكون بالجماعة في المسجد بخلاف التهجد، وإن الشروع في التراويح يكون في أوّل الليل وفي التهجد في آخر الليل، نعم ثبت عن بعض التابعين الجمع بين التراويح والتهجد

فإنه لم يثبت عنه عليه السلام ولا عن الصحابة جمعهم بين التراويح والتهجد. وأمّا ما في موطأ مالك أن عمر رضي الله عنه كان يصلي التراويح آخر الليل فمراده أنه إذا لم يصل مع الجماعة أوّل الليل. (العرف الشذي على الترمذي: ۱/۱٦٦، ديوبند)

فیض الباری میں ہے:

وهما متحدان عند الشافعية: فإن صلاها قبل النوم سميت صلاة الليل وإن صلاها بعد ما استيقظ من نومه سميت تهجداً، فالفرق بينهما وصفي، وكذا الوتر عندهم، فالوتر والتهجد وصلاة الليل كلها عندهم متحدة مصداقاً، ومتباينة مفهوماً

وقلنا أما الفرق بين صلاة الليل والتهجد فكما ذكرتم، لكنّ الوتر صلاة مستقلّة. (فيض الباري: ۲/٤۰۷)

دیگر اکابر رحمه الله کی تحقیق:
جمہور کے نزدیک تراویح کی نماز تہجد سے الگ اور مستقل نماز ہے اس پر کافی دلائل موجود ہیں:
(۱) آنحضرت ﷺ کی احادیث اور فقہاء و محدثین کے کلام میں اس نماز کی اضافت رمضان کی طرف کی گئی، مثلا سننِ نسائی میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه کی مرفوع حدیث ہے:

قا ل رسول الله "إن الله تبارك وتعالى فرض صيام رمضان عليكم وسننت لكم قيامه. (سنن نسائي: ۱/۳۰۸)

اور مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

كان رسول الله ﷺ يرغب في قيام رمضان من غير أن يأمرهم بعزيمة. (مسلم شريف: ۱/۲٥۹)

اور صلاۃ اللیل میں نماز کی نسبت رات کی طرف کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نماز ہر رات کے ساتھ خاص ہے اسی طرح قیامِ رمضان کا مطلب ایسی نماز جو رمضان ہی میں پڑھی جاتی ہے اور صلاۃ اللیل یا تہجد رمضان کے ساتھ خاص نہیں اس لیے یہ قیامِ رمضان سے الگ نماز ہے ۔
(۲) تراویح اور تہجد میں فرق کا ایک قرینہ اختلافِ وقت ہے، دونوں نمازوں کے وقتوں میں اختلاف ہے، تہجد کا وقت نیند سے اٹھنے کے بعد ہے اور تہجد کا اصل معنی یہی ہے: نیند سے بیدار ہونا، لہذا تہجد اسی نماز کو کہیں گے جو نیند سے بیدار ہونے کے بعد پڑھی جائے ۔
علامہ طبری رحمه الله
﴿ومن الليل فتهجد به نافلة لك﴾
کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:
ومن الليل فاسهر بعد نومة يا محمد بالقرآن نافلة لك خالصة لك دون أمتك، والتهجد التيقظ والسهر بعد نومة من الليل. (تفسير طبري: ۱/۹٥، دار المعرفة، بيروت لبنان)

تفسیر ابن کثیر میں مذکور ہے:

فإن التهجد ما كان بعد نوم، قاله علقمة والأسود وإبراهيم النخعي وغير واحد، وهو معروف في لغة العرب، وكذلك ثبتت الأحاديث عن رسول الله ﷺ أنه كان يتهجد بعد نومه. (تفسير ابن كثير: ۳/٦۱. ومثله في روح المعاني: ۱٥/۱۳۸)

لسان العرب میں ہے:

وأما التهجد فهو القائم إلى الصلاة من النوم. (لسان العرب: ۳/٤۳۱، بيروت)
وفي الصحيح للإمام مسلم عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله ما شاء أن يبعثه من الليل فيتسوك

(مسلم شريف: ۱/۲٥٦)

خلاصہ یہ ہے کہ تہجد وہ نماز ہے جو نیند سے اٹھ کر پڑھی جاتی ہے اس کے برعکس تراویح شروع کرنے کا وقتِ مستحب اول اللیل ہے اور یہی امت کا تعامل ہے، اس کے متعلق المغنی لابن قدامۃ میں مذکور ہے:

وقيل لا حمد نؤخر القيام يعني في التراويح إلى آخر الليل، قال: لا، سنة المسلمين أحب إلى. (المغني: ۱/۸۰۱، دار الكتب العلمية، بيروت)

جب دونوں نمازوں کا وقتِ مستحب الگ الگ ہے تو دونوں کو الگ الگ نمازیں شمار کریں گے ۔
(۳) آپ علیہ السلام کے زمانے میں صلاۃ اللیل باجماعت ادا کرنے کے لیے کبھی اجتماع نہ ہوا اور نہ آپ نے کبھی باجماعت صلاۃ اللیل ادا کرنے کی ترغیب دی، خلفاءِ راشدین اور بعد کے زمانے میں بھی صلوۃ اللیل باجماعت پڑھنے کا رواج نہ تھا اس کے بر خلاف آپ علیہ السلام نے تراویح کی جماعت بھی کرائی، اور دوسروں کو تراویح باجماعت پڑھتے ہوے دیکھ کر اس کی تحسین بھی فرمائی، اور حضرت عمر رضي الله عنه نے تمام صحابہ کی موجود گی میں تراویح کی نماز باجماعت شروع کرائی اور یہ معمول اب تک تمام مساجد میں جاری ہے ۔

أخرج البخاري برواية عائشة أم ّ المؤمنين رضي الله تعالى عنها أن رسول الله ﷺ صلى ذات ليلة في المسجد، فصلى بصلاته ناس، ثم صلى من القابلة فكثر الناس، ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة أو الرابعة، فلم يخرج إليهم رسول الله ﷺ فلما أصبح قال: لقد رأيت الذي صنعتم ولم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن يفرض على كم، وذلك في رمضان. (بخاري شريف: ۱/۱٥۲)
وأخرج عبد الرزاق بسنده عن السائب بن يزيد قال: كنا ننصرف من القيام على عهد عمر رضي الله عنه وقد دنا فروع الفجر، وكان القيام على عهد عمر رضي الله عنه ثلاثة وعشرين ركعة. (مصنف عبد الرزاق: ٤/۲٦۱، ۲٥۲)

(٤) تہجد کی مشروعیت قرآن کریم سے ہوئی:

قال الله تعالي: ﴿ومن الليل فتهجد به نافلة لك﴾
وقال تعالى: ﴿يايها المزمل قم الليل إلا قليلاً نصفه أو انقص منه قليلاً﴾

اور تراویح کی مشروعیت حدیث شریف سے ہے:

قال عليه الصلاة والسلام: وسننت لكم قيامه. (نسائي شريف: ۱/۳۰۸)

اگر کوئی ک ہے کہ سنت کا مطلب اللہ تعالی کے حکم کا عملی طریقہ آپ ﷺ نے بتلایا، تو مشروعیت تراویح کی حدیث سے نہ ہوئی؟
جواب: آپ علیہ السلام نے بصورتِ تقابل یہ ارشاد فرمایا:

إن الله تبارك وتعالى فرض صيام رمضان على كم، وسننت لكم قيامه،

حالانکہ صوم کا عملی طریقہ بھی آپ علیہ السلام نے بھی بتلایا ۔
(۵) تہجد کا حکم مکہ مکرمہ میں ہوا اور تراویح کا مدینہ منورہ میں ۔
(٦) آپ علیہ السلام نے کبھی پوری رات تہجد نہیں پڑھی ۔
مسلم میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها في حديث طويل، قالت: ولا أعلم نبي الله ﷺ قرأ القرآن كله في ليلة ولا صلي ليلة إلى الصبح. (مسلم شريف: ۱/۲٥
٦
)

اس کے بر خلاف تراویح سے متعلق حضرت ابو ذر غفاری رضي الله عنه کی روایت میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تین متفرق راتوں میں صحابہ کے ساتھ تراویح باجماعت پڑھی ہے اور ان میں سے تیسری رات میں آپ علیہ السلام نے تراویح کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی جمع کیا اور اتنی دیر تک نماز پڑھائی کہ ہ میں خطرہ ہونے لگا کہ کہیں سحری کا وقت نہ نکل جائے ۔
ابو داود میں ہے:

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: صمنا مع رسول الله ﷺ رمضان فلم يقم بنا شيئاً من الشهر حتى بقي سبع، فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل، فلما كانت السادسة لم يقم بنا، فلما كانت الخامسة قام بنا حتى ذهب شطر الليل

فلما كانت الثالثة جمع أهله ونساء ه والناس فقام بنا حتى خشينا أن يفوتنا الفلاح قال: قلت: ما الفلاح قال السحور. (أبو داود: ۱/۱۹٥، قيام شهر رمضان. ونسائي ۱/۲۳۸، قيام شهر رمضان. وابن ماجة: ۱/۹٤، قيام شهر رمضان)

(۷) تمام فقہی مکاتبِ فکر کے محدثین و فقہاء کا یہی طرزِ عمل چلا آ رہا ہے کہ وہ صلاۃ اللیل اور تہجد وغیرہ پر الگ ابو اب و فصول قائم کرتے ہیں اور قیامِ رمضان اور تراویح کے الگ، حتی کہ بہت سے محدثین سے قیامِ رمضان کا ذکر کتا ب الصوم میں کیا ہے مثلا امام بخاری رحمه الله نے بخاری شریف میں، اور علامہ ابن خزیمہ نے صحیح ابن خزیمہ میں امام ترمذی نے سنن الترمذی میں اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ نمازیں ہیں ۔
(۸) مسلم شریف کی روایت کے مطابق تہجد پہلے فرض تھی پھر فرضیت منسوخ ہو گئی جب کہ تراویح میں نسخ واقع نہیں ہوا ۔
مسلم میں ہے:

عن سعد بن هشام فيما سأل عائشة رضي الله تعالى عنها يقول: فقلت أنبئيني عن قيام رسول الله ﷺ فقالت: ألست تقرء يا أيها المزمل، قلت: بلي قالت: فإن الله عزوجل افترض قيام الليل في أول هذه السورة فقام نبي الله ﷺ وأصحابه حولاً وأمسك الله خاتمتها اثني عشر شهرا في السماء حتى أنزل الله في آخر هذه السورة التخفيف فصار قيام الليل تطوعا بعد فريضة. (مسلم شريف: ۱/۲٥
٦
)

(۹) مفتی رشید احمد صاحب رحمه الله نے مذکورہ بالا فرق کو اس طور پر بیان فرمایا ہے کہ نماز ِ تہجد پہلے فرض تھی اس کے بعد وحی الٰہی نے اس کی فرضیت منسوخ کر دی اب دوبارہ فرضیت والا خطرہ نہ رہا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے تراویح پر دوام نہ فرمانے کی حکمت خشیتِ فرضیت بیان فرمائی ہے اس سے ثابت ہوا کہ یہ تراویح تہجد سے الگ کوئی نماز ہے، کیوں کہ تہجد کی فرضیت تو پہلے ہی منسوخ کر کے آپ علیہ السلام کو مطمئن کر دیا گیا تھا ۔ (احسن الفتاوی:
۳/٥۳۲)

(۱۱) ایک فرق یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تہجد کو ہر روز آخرِ شب میں پڑھا ہے، چنانچہ بخاری و مسلم کی روایت ہے:
ثم قلت فأي حين كان يقوم من الليل، قالت: كان إذا سمع الصارخ.

اور دیگر روایات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے ۔
اور تراویح کو آپ نے اول لیل میں پڑھا ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ:
۳٥
٤)

قوله: إذا سمع الصارخ. (بخاري: ۱/۱٥۲. ومسلم شريف: ۱/۲٥٥ عن عائشة رضي الله تعالى عنها)
قوله:
تراویح اول لیل میں پڑھا ہے ۔
هذا الحديث قد مرّ ذكره. (نسائي: ۱/۲۳۸)

پھر احادیث کی روشنی میں بھی ان دونوں نمازوں کا الگ ہونا ثابت ہے، کہ آپ علیہ السلام نے تراویح پڑھ کر پھر اور کوئی نماز پڑھی یعنی تہجد، نیز صحابہ سے بھی یہ عمل ثابت ہے ۔

(۱) أخرج أبو داود بسنده عن قيس بن طلق قال: زارنا طلق بن على في يوم من رمضان وأمسي عندنا وأفطر، ثم قام بنا تلك الليلة وأوتر بنا ثم انحدر إلى مسجد ه فصلى بأصحابه حتى إذا بقي الوتر قدم رجلاً فقال: أو تر بأصحابك فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: لا وتران في ليلة. (أبو داود: ۱/۲۰۳)

حضرت گنگوہی رحمه الله اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے اول لوگوں کے ساتھ موافقِ فعل رسول اللہ ﷺ کے اول وقت میں تراویح ادا کی، اور وتر بھی اس کے ساتھ پڑھی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ۔ اور بعد اس کے اپنی مسجد میں جا کر آخر وقت میں تہجد ادا کیا اور اس کے ساتھ وتر نہیں پڑھی ۔ (فتاوی رشیدیہ:
۳٦۱)

صحابہ کے عمل سے بھی ثابت ہوا کہ یہ دونوں الگ نمازیں ہیں ۔

وفي الموطأ عن عمر رضي الله عنه قال: والتي تنامون أفضل من التي تقومون يعني آخر الليل. (موطأ: ۹۸)

حضرت گنگوہی رحمه الله فرماتے ہیں:
اس سے اگر مغایرت دونوں نمازوں کی نکالی جائے تو بعید نہیں کیوں کہ اس قول کے معنی یہ ہے کہ جو نماز کہ تم اس سے سورھتے ہو یعنی تہجد کہ آخر رات میں ہوتی ہے افضل ہے اس نماز سے جو تم پڑھتے ہو یعنی تراویح کہ اول وقت پر پڑھتے تھے ۔ (فتاوی رشیدیہ:
۳٦۰)

(٤) امام بخاری رحمه الله کے حالات میں لکھا ہے کہ ابتدائے شب میں اپنے شاگردوں کے ساتھ باجماعت تراویح پڑھتے تھے، اور بوقتِ سحر تہجد انفراداً پڑھتے تھے ۔ (احسن الفتاوی:
۳/٥۳۲)
قلت: وقد ذكره الحافظ في مقدمة الفتح في ترجمة أبي عبد الله: رحمه الله
وقال الحاكم أبو عبد الله (الحافظ أخبرني محمد بن خالد ثنا مقسم بن سعيد قال: كان محمد بن إسماعيل البخاري رحمه الله إذا كان أول ليلة من شهر رمضان، يجتمع إليه أصحابه فيصلي بهم ويقرأ في كل ركعة عشرين آية، وكذلك إلى أن يختم القراٰن، وكان يقرأ في السحر ما بين النصف إلى الثلث من القرآن فيختم عند السحر في كل ثلاث ليال. (هدي الساري: ٤۸۱)

(۵) احسن الفتاوی میں ہے:
فقہِ حنبلی کی مشہور کتاب مقنع میں ہے:

ثم التراويح وهي عشرون ركعة يقوم بها في رمضان في جماعة ويوتر بعدها في جماعة، فإن كان له تهجد جعل الوتر بعده. (المقنع: ۱۸٤). (أحسن الفتاوى۳: ٥۳۲)

یہ عبارت
"المبدع شرح المقنع: ۲/۲٤٥"
پر مذکور ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ تراویح اور تہجد الگ الگ نمازیں ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.