دوبارہ سورج نظر آنے پر مغرب کی نماز کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے ایرپورٹ میں مغرب کی نماز پڑھ لی اور جہاز مغرب کی طرف اڑا اور دوبارہ سورج نظر آنے لگا پھر غائب ہوا تو کیا دوبارہ مغرب کی نماز پڑھنا ضروری ہوگا؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں مغرب کی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: ایک شخص مغرب کی نماز ادا کر کے ہوائی جہاز پر سوار ہوا جہاز مغرب کی طرف اتنا تیز چلا کہ آفتاب دوبارہ نظر آنے لگا تو کیا اس پر مغرب کی نماز دوبارہ واجب ہو گی؟
الجواب باسم ملہم الصواب: مغرب کی نماز دوبارہ پڑھنا واجب نہیں۔
قال في شرح التنوير فلو غربت ثم عادت هل يعود الوقت؟ الظاهر نعم. قال ابن عابدين رحمه الله تعالى: (قوله الظاهر نعم) بحث صاحب النهر حيث قال: ذكر الشافعية أن الوقت يعود
قلت: على ان الشيخ إسماعيل رد ما بحثه في النهر تبعاً للشافعية بأن صلوة العصر بغيبوبة الشفق تصير قضاءً ورجوعها لا يعيدها أداءً وما في الحديث خصوصية علي رضي الله عنه كما يعطيه قوله عليه الصلوة والسلام انه كان في طاعتك وطاعة رسولك. قلت: ويلزم على الاول بطلان صوم من افطر قبل ردها وبطلان صلاة المغرب لو سلمنا عود الوقت بعودها للكل. رد المحتار: ۱/۳٦۰. (أحسن الفتاوى ٤/٦۹)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: ایک شخص یہاں مغرب کی نماز ادا کر کے ہوائی جہاز کے ذریعہ مکہ مکرمہ پہنچ جائے۔ مکہ میں مغرب کی نماز تفاوتِ وقت کے سبب ابھی ہی ہوتی ہے کیا پھر دوبارہ اس کو مغرب کی نماز ادا کرنا لازم ہے؟
الجواب:
احتراماً للوقت وموافقة للمسلمين،
وہ نماز پڑھے اگرچہ اس کا فریضہ ادا اور مکمل ہو چکا۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۰/۳۷
، کتاب الصوم، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.