دوبارہ وقت داخل ہو تو نماز کا حکم:
Question
اگر کسی نے جمعہ کی نماز اول وقت میں پڑھی پھر تیز رفتار فلائٹ میں گیا جہاں پہونچا وہاں پھر جمعہ کا وقت داخل ہوا تو دو بارہ نماز فرض ہے یا نہیں؟
Answer
فرض نماز دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہے فریضہ ادا ہو چکا، البتہ احتراماً للوقت اور مسلمانوں کی موافقت میں پڑھ لینا چاہیے۔
ملاحظہ ہو فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: ایک شخص یہاں مغرب کی نماز ادا کر کے ہوائی جہاز کے ذریعہ مکہ مکرمہ پہونچ جائے۔ مکہ میں مغرب کی نماز تفاوتِ وقت کے سبب ابھی ہی ہوتی ہے کیا پھر دوبارہ اس کو مغرب کی نماز ادا کرنا لازم ہے؟
جواب:
احتراماً للوقت وموافقة للمسلمين
وہ نماز پڑھے اگر چہ اس کا فریضہ ادا اور مکمل ہو چکا۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۳۷، کتاب الصوم، جامعہ فاروقیہ)
احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: ایک شخص مغرب کی نماز ادا کر کے ہوائی جہاز پر سوار ہوا جہاز مغرب کی طرف اتنا تیز چلا کہ آفتاب دو بارہ نظر آنے لگا تو کیا اس پر مغرب کی نماز دوبارہ واجب ہو گی؟
الجواب باسم ملہم الصواب: مغرب کی نماز دوبارہ پڑھنا واجب نہیں۔
قال في شرح التنوير فلو غربت ثم عادت هل يعود الوقت؟ الظاهر نعم. قال ابن عابدين رحمه الله تعالى: (قوله الظاهر نعم) بحث صاحب النهر حيث قال: ذكر الشافعية أن الوقت يعود
قلت: على أن الشيخ إسمٰعيل رد ما بحثه في النهر تبعاً للشافعية بأن صلاة العصر بغيبوبة الشفق تصير قضاءً ورجوعها لا يعيدها أداءً وما في الحديث خصوصية علي رضي الله عنه كما يعطيه قوله عليه الصلاة والسلام: إنه كان في طاعتك وطاعة رسولك. قلت: ويلزم على الأول بطلان صوم من أفطر قبل ردها وبطلان صلاة المغرب لو سلمنا عود الوقت بعودها للكل. رد المحتار ۱/۳۳٤. (
احسن الفتاوی
: ٤/٦۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.