ڈاکٹر کے لیے بوقت ضرورت فرض نماز توڑنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #466Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۸): مسائل شتیٰ نماز کے متفرق مسائل

Question

اگر کوئی ڈاکٹر آن کال (ON CALL) ہو اور اس وقت کوئی فرض یا واجب نماز ادا کر رہا ہو تو اس فرض یا واجب نماز کو توڑ سکتا ہے یا نہیں؟
آن کال (ON CALL) کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر اپنے معمول کے مطابق دن کے آٹھ گھنٹے ہسپتال میں مکمل کر کے اپنے مریضوں کے پاس ایک نرس کو چھوڑ کر واپس آ جاتا ہے، وہ نرس ڈاکٹر کی ہدایات کے موافق مریضوں کی تیمار داری و نگرانی کرتی رہتی ہے، لیکن اگر کسی مریض کی حالت سنگین محسوس کرتی ہے تو وہ نرس ڈاکٹر کو فون کر کے فوراً بلا لیتی ہے، اور آن کال میں بعض مرتبہ نائب موجود نہیں ہوتا ہے، ایسے وقت میں اگر فرض نماز کے دوران یا خطبہ جمعہ کے دوران بلاوا آ جائے تو نماز جاری رکھے یا توڑ دے؟ اگر نماز توڑ دی تو قضا واجب ہو گی یا نہیں؟

Answer

جب کسی مریض کی حالت بہت سنگین ہو جائے مرض بڑھ جانے یا جان چلے جانے کا خطرہ ہو، اور کوئی نائب [جو اچھی طرح یہ کام انجام دے سکتا ہو] موجود نہ ہو تو نماز توڑ کر جانا واجب ہے چاہے نماز فرض ہو یا نفل، ہاں اگر نماز قریب الختم ہے یا چند منٹ میں ختم ہو جائے گی تو نماز پوری کر کے چلا جائے کیوں کہ اکثر چند منٹ گزرنے سے فرق نہیں پڑتا ۔
پھر جو نماز توڑ دی ہے اس کو بعد میں پڑھ لے اگر وقت ہے ورنہ قضا کر لے ۔
اور اگر کوئی صحیح ماہر نائب موجود ہو تو پھر نماز پوری کر کے جائے ۔
خطبہ سننے کے دوران اگر اس قسم کی کوئی ضرورت پیش آ جائے تو خطبہ چھوڑ کر جانے کی گنجائش ہے، اور اس کی کوئی قضا نہیں ہے ۔
اگر نماز ِ تراویح کے دوران نماز توڑ کر جانے کی ضرورت ہو تو بعد میں دو رکعت کی قضا کرے ۔
در مختار میں ہے:

ويجب القطع لنحو إنجاء غريق أو حريق. وفي الشامية: والحاصل أن المصلي متي سمع أحداً يستغيث وإن لم يقصده بالنداء، أو كان أجنبياً، وإن لم يعلم ما حل به أو علم، كان قدرة على إغاثته وتخليصه، وجب عليه إغاثته وقطع الصلاة فرضاً كانت أو غيره قطع الصلاة

والواجب لا حياء نفس. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/٥۱، ٥۲، سعيد).

فتاوی سراجیہ میں ہے:

إذا خاف المصلي أن يسقط أعمي أو صبي من سطح، أو تحرقه نار، أو يغرقه ماء، عليه قطع الصلاة، ولو سرق منه ما يساوي درهماً له قطع الصلاة. (الفتاوى السراجية، ص: ۱۰٥).
وللاستزادة انظر: (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٦٥٤، سعيد، والفتاوى الهندية: ۱/۱۰۹، والبحر الرائق: ۲/۷۱، كوئته).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.