سیلاب کی وجہ سے میت کو منتقل کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #518Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

اگر قبر سیلاب کی زد میں آ گئی اور میت کے بہہ جانے کا خطرہ ہے تو میت کو دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

پانی کے غلبہ سے میت کے منتقل کرنے میں اختلاف ہے قرینِ قیاس یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر گمان غالب کے موافق صاحبِ قبر کا جسد صحیح سالم ہے تو اس کو منتقل کرنے میں حرج نہیں جیسے کہ حضرت جابر رضي الله عنه نے اپنے والد کو احد میں منتقل کیا تھا کیوں کہ شہداء کے اجساد کو مٹی نہیں کھاتی اور اگر ایسا نہ ہو تو منتقل نہ کیا جائے ۔ ملاحظہ ہو طحطاوی میں ہے:

إذا غلب الماء على القبر فقيل: يجوز تحويله لما روي أن صالح بن عبيد الله رؤي في المنام وهو يقول حولوني عن قبري فقد آذاني الماء ثلاثاً فنظروا فإذا شقه الذي يلي الماء قد أصابه الماء فأفتي ابن عباس رضي الله عنه بتحويله وقال الفقيه أبو جعفر: يجوز ذلك أيضاً ثم رجع ومنع. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٦۱٥، قديمي).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.