مقبرہ میں جوتے کے ساتھ چلنے کا حکم:
Question
مقبرہ میں جوتے کے ساتھ چلنے کا کیا حکم ہے؟ عام کتابوں میں مکروہ لکھتے ہیں اس میں بظاہر حرج ہے ۔
Answer
مقبرہ میں جوتے کے ساتھ چلنا آداب کے خلاف ہے، البتہ اگر حرج ہو اور جوتے گندگی و آلائش وغیرہ سے صاف ہو نیز چلنے میں تکبر کا اظہار نہ ہو بلکہ قبور کا احترام کرتے ہوے تواضع و انکساری کے ساتھ چلے تو اس کی گنجائش ہے ۔ ملاحظہ ہو بذل المجہود میں ہے:
عن بشير مولي رسول الله ﷺ
بينما أنا أماشي مع رسول الله ﷺ
ثم مر بقبور المسلمين
فإذا رجل لم أقف على تسميته يمشي في القبور عليه نعلان فقال يا صاحب السبتيتين ويحك ألق سبتيتيك فنظر الرجل فلما عرف رسول الله ﷺ خلعهما فرما بهما
وأمره بالخلع احتراماً بالنعال بين القبور قلت: لا يتم ذلك إلا على بعض الوجوه المذكورة. (بذل المجهود: ٤/۲۱۳)
آنحضور ﷺ کے زمانہ میں بال اترے ہوے جوتے فیشن ایبل سمجھے جاتے تھے تو حدیث میں اس بات کی تلقین ہے کہ مقبرہ میں تواضع کی ہیئت اختیار کرے تکبر والی چیزوں سے اجتناب کرے اس لیے موجود ہ زمانہ میں صاف بغیر بالوں کے جوتے عام استعمال کی چیز ہے لہذا مقبرہ میں اس کا استعمال کرنا درست ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
والمشي في المقابر بنعلىن لا يكره عندنا كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ۱/۱٦۷، الفصل السادس في القبر والدفن)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
قبروں پر جوتے پہن کر یا بغیر پہنے ہوے چلنا سخت ممنوع اور مکروہ ہے، مگر جس جگہ پر قبر نہیں خالی جگہ ہے تو جوتے پہن کر چلنے میں کوئی حرج نہیں بلا کراہت جائز ہے، عالمگیری میں ہے:
والمشي في القبور لا يكره عندنا
۔ ہاں احتیاط رکھے بالخصوص قبر کے پاس فاتحہ خوانی کے وقت جوتے اتار دے تو بہتر ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/۹۷، کتاب الجنائز) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.