جنازہ کے موقعہ پر حیلۂ اسقاط کا حکم:
Question
بعض علاقوں میں جنازہ کے موقعہ پر حیلۂ اسقاط رائج ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ کئی حضرات حلقہ بنا کر بیٹھتے ہیں اور اپنے سامنے کچھ روپے اور صابن وغیرہ رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو بخشتے ہیں یہ عمل چند بار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس حیلہ سے میت کے ذمہ ہزاروں نمازیں اور بہت سے روزے ساقط ہو جاتے ہیں اور اس کے لیے عالمگیری وغیرہ کا حوالہ پیش کرتے ہیں، کیا یہ عمل مفید ہے یا نہیں؟
Answer
حیلہ اسقاط بذاتِ خود مشروع ہے، اس کے لیے اصل موجود ہے، البتہ حیلہ مروجہ شرائط معتبرہ کی عدم رعایت کی وجہ سے حیلہ استحصال بن گیا ہے، لہذا میت کا ذمہ فارغ ہونے کے لیے مروجہ حیلہ اسقاط بے سود ہے ۔ البتہ اس حیلہ کی مشروعیت کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کی رعایت رکھنا نہایت ضروری ہے:
(۱) اول یہ کہ وصیت کے نہ ہونے کی صورت میں ورثاء میں نابالغ اور غائب نہ ہوں کیوں کہ ان کے مال سے تبرع جائز نہیں ہے ۔
(۲) یہ کہ قطار یادائرہ میں مساکین ہوں، غنی کو دینے سے فراغت ذمہ نہیں ہوتی ۔
(۳) یہ کہ اس مسکین کو حقیقتاً مالک بنا دے، محض زبانی تملیک نہ کرے ۔
كما صرح به ابن عابدين في منة الجليل حيث قال: ويجب أن يدفعها حقيقة لا تحيلاً ملاحظاً أن الفقير إذا أبي عن الهبة إلى الوصي كان له ذلك ولا يجبر على الهبة. (رسائل ابن عابدين: ۱/۲۲۵، منة الجليل لبيان إسقاط ما على الذمة من كثير وقليل. (
فتاوی فریدیہ: ۲/۶۰۵، ۶۱۰) ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطي كفارة صلواته يعطي لكل صلاة نصف صاع من بر
وإن لم يترك مالاً يستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى مسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲۵، الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت، مسائل متفرقة).
در مختار میں ہے:
ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصي بالكفارة يعطي لكل صلاة نصف صاع من بر كالفطرة
ولو لم يترك مالاً يستقرض وارثه نصف صاع مثلاً ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم. (الدر المختار: ۲/۷۲، باب قضاء الفوائت، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.