کون سے غزوہ میں صحابہ کا شعار یا محمداہ تھا؟
Question
کون سے غزوہ میں صحابہ کا شعار رسول اللہ کی وفات کے بعد "
يا محمداه يا محمداه"
تھا، اور غیر اللہ کی ندا نا جائز ہے تو صحابہ نے اس کو کیسے اپنا شعار بنایا؟
Answer
جنگِ یمامہ میں ۱۱ ھ جو مسیلمہ کذاب و بنی حنیفہ کے خلاف ہو ئی، اس میں صحابہ کا یہ شعار تھا اور صحابہ کے اس شعار سے مقصود نبی پاک کو متصرف فی الامور اور مدد مانگنا نہیں تھا بلکہ اظہار محبت کے لیے تھا ۔
"یا" کے لفظ سے ندا ہر جگہ مطلوب نہیں کبھی اظہار محبت، غم و حزن و تمنی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جیسے بیماری میں کو ئی وائے اماں کہتا ہو، یہاں سنانا مقصود نہیں، اظہار محبت یا اظہار حزن مقصود ہے اظہار محبت تو ہمیشہ حاضر فی القلوب ہو تا ہے ۔
اس پر احادیث اور شعراء کا کلام دال ہے، حضرت ابراہیم کی وفات پر حضور
ﷺ
نے فرمایا
"إنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون" (رواه البخاري: ۱/۲٦٦)
۔ اور شعر میں:
ألا يا رسول الله أنت رجاءنا وكنت بنا براً ولم تكن جافياً
نحو کی کتاب میں ندبہ کے لیے "یا" اور "وا" کے الفاظ ہیں ۔
اور حضرت فاطمہ رضي اللہ عنہ نے نبی پاک ﷺ کی وفات پر یہ کلمات فرمائے ۔
يا أبتاه أجاب ربا دعاه، يا أبتاه إلى جبرئيل ننعاه، يا أبتاه جنة الفردوس مأواه.
كتب إلى السري عن شعيب عن سيف عن ضحاك بن يربوع عن أبيه عن رجل من بني سحيم قد شهدها مع خالد لما اشتد القتال وكانت يومئذ سجالاً إنما تكون مرة على المسلمين ومرة على الكافرين ثم برز خالد حتى إذا كان أمام الصف دعا إلى البراز وانتمي وقال: أنا ابن الوليد العود أنا ابن عامر وزيد ونادى بشعارهم يومئذ وكان شعارهم يومئذ "يا محمداه" فجعل لا يبرز له أحد إلا قتله. (تاريخ الأمم والملوك للطبري: ۳ /۲۵۰).
وكذا نقل ابن الأثير في "الكامل في التاريخ" (۲/۳٦٤) في ذكر مسيلمة وأهل اليمامة ۱۱ هـ وابن كثير في "البداية والنهاية" (٦/۷۱۷) في مقتل مسيلمة الكذاب ۱۱ هـ.
اوپر والی سند میں چند روات پر کلام ہے: (۱)
سيف وهو سيف بن عمر التيمي أكثر الطبري الرواية عنه في تاريخه، قال ابن عدي بعض أحاديثه مشهورة وعامتها منكرة لم يتابع عليها، وقال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الأثبات وقالوا: إنه يضع الحديث، اتهم بالزندقة وقال الحاكم: اتهم بالزندقة وهو في الرواية ساقط. "وقد مر الكلام عليه آنفاً"
(۲) ضحاك بن يربوع؛ قال ابن حجر رحمه الله في "اللسان" (۲/۳۳۸، ترجمة: ۳۹٦۰)، والذهبي في "الميزان" (۳/٤۱): قال الأزدي: حديثه ليس بالقائم.
(۳) رجل من بني سحيم: مجهول.
(٤) شعيب بن إبراهيم وهو مجهول، قال الإمام الذهبي رحمه الله في "الميزان" (۲/٤٦۵): فيه جهالة
۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت معتبر اور قابل استدلال نہیں ہے، اور اگر بالفرض روایت ثابت بھی ہو تو یا محمداہ کا مطلب وہی ہو گا جو اوپر گذر چکا سلف صالحین یا رسول اللہ وغیرہ کے الفاظ سے محض غلبہ اشتیاق مراد لیتے تھے نہ کہ حاضر و ناظر وغیرہ ۔ (گلدستہ توحید ص ۱٤۲) نیز یہ مسئلہ عقائد میں بھی گذر چکا وہاں بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.