تفسیر جلالین پڑھتے وقت تعوذ و تسمیہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #97Urdu
Vol. 1كتاب التفسير والتجويدآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

جلالین کے درس کے شروع میں استاذ اور طلبہ "
أعوذ بالله"
پڑھیں گے یا صرف "
بسم الله"
کا فی ہے؟

Answer

استاذ اور طلبہ درس جلالین کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھیں گے تعوذ قراءت کا تابع ہے اور استاذ و طلبہ کا مقصد قراءت قرآن کریم نہیں ہے اس وجہ سے تسمیہ کا فی ہے ۔ ملاحظہ ہو:
رد المحتار میں ہے:

وحاصله: أنه إذا أراد أن يأتي بشيء من القرآن كالبسملة والحمدلة فإن قصد به القراءة تعوذ قبله وإلا فلا كما لو أتى بالبسملة في افتتاح الكلام كالتلميذ حين يبسمل في أول درسه للعلم فلا يتعوذ وكما لو قصد بالحمدلة الشكر وكذا إذا تكلم بغير ما هو من القرآن فلا يسن التعوذ بالأولى. (فتاوى الشامي: ۱/٤۸۹، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

إذا أراد أن يقول: "بسم الله الرحمن الرحيم" فإن أراد افتتاح أمر لا يتعوذ وإن أراد قراءة القرآن يتعوذ كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱٦).
البحر الرائق
میں ہے:

يعني أن التعوذ سنة القراءة فيأتي به كل قارئ للقرآن لأنه شرع لها صيانة عن وساوس الشيطان فكان تبعاً لها. (البحر الرائق: ۱/۳۱۰).

معارف القرآن میں حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ اس آیت کریمہ:
﴿إذا قرأت القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم﴾
کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:
تلاوتِ قرآن کے علاوہ کسی دوسرے کلام یا کتاب پڑھنے سے پہلے "
أعوذ بالله
" پڑھنا سنت نہیں و ہاں صرف
"بسم الله"
پڑھنا چاہیے ۔ (معارف القرآن
۵
/
۳۸۹
) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.