فقیر کی ملک میں زکوٰۃ کی اشیاء ہو تو مالدار کے استعمال کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #115Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۳): زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

Question

بہت سی مرتبہ فقیر کو زکوٰۃ کی چیزیں ملتی ہیں: مثلاً کتابیں، برتن، بستر، چار پائی، بڈشیٹ وغیرہ وغیرہ اور اس کے پاس صاحبِ نصاب اغنیاء آتے ہیں تو وہ انہی چیزوں کو استعمال کرتا ہے، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

ہدایہ ج ۳، کتاب المکاتب کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ غنی کے لئے ان چیزوں کا استعمال بطورِ تملیک جائز ہے اور بطورِ اباحت جیسے کہ سوال میں مذکور ہے ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

وهذا بخلاف ما إذا أباح للغني والهاشمي لأن المباح له يتناوله علي ملك المبيح فلم يتبدل الملك فلا تطيبه. (الهداية: ۳/۳۳۹).

لیکن اس میں بہت حرج اور دقت ہے مثلاً کسی کے ہاں زکوٰۃ کی قالین بچھی ہے اور وہ اغنیاء سے کہتا ہے کہ یہاں تشریف نہ رکھیں یہ زکوٰۃ کا مال ہے، اس کے علاوہ زکوٰۃ کا مال ظاہر کرنا بھی ذلت سمجھی جاتی ہے، لہذا اس مسئلہ میں شارحِ ہدایہ سعدی چلپی رحمه الله کا میلان استعمال کے جواز کی طرف ہے، بندہ فقیر کا میلان بھی اس طرف ہے ۔
صاحبِ ہدایہ نے فرمایا ہے کہ صدقہ میں خبث و خرابی نہیں اس کے لینے میں خرابی ہے اس لئے ہاشمی اور غنی کے لئے زکوٰۃ کا لینا ذلت ہے تو حضرت مولانا سعدی چلپی نے فرمایا کہ اگر غنی فقیر کے گھر پر زکوٰۃ کی چیز استعمال کرے تو یہ جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے کیوں کہ بطورِ ملک نہیں لیا صرف استعمال کیا ۔
قال المصنف رحمه الله: ولا يجوز ذلك للغني من غير حاجة وللهاشمي لزيادة حرمته. أقول: فعلي هذا لو أباح الفقير للغني أو الهاشمي ينبغي أن يطيب لهما عنده، إذ لا أخذ منهماكما لا يخفي. (تكملة فتح القدير مع حاشية سعدي چلپي: ۹/۲۱٤، دار الفكر).

نیز زکوٰۃ کے مال میں زکوٰۃ کا بتلانا بھی ضروری نہیں ہے، اسی وجہ سے مال دار حضرات بھی استعمال کر سکتے ہیں ورنہ اگر مالداروں کے استعمال کی اجازت نہ ہوتی تو بتلانا ضروری ہوتا کہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے حالانکہ ایسا نہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.