حج کی رقم موجود ہے تو مکان بنانے میں خرچ کرنے یا حج کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #241Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۱): حج کی فرضیت، شرائط، ارکان وغیرہ کا بیان

Question

ایک شخص کرایہ کے مکان میں رہتا ہے اور اس کے پاس حج کی رقم موجود ہے کیا یہ رقم ذاتی مکان کی خریداری میں خرچ کرنا چاہیے یا حج پہلے کرنا چاہیے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اس شخص نے اگر حاجیوں کے نکلنے سے پہلے رقم مکان بنانے میں خرچ کر لی تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر حاجیوں کے نکلنے تک رقم موجود ہے تو پہلے حج کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

فضلاً عما لا بد منه كما مر في الزكاة ومنه المسكن ومرمته ولو كبيراً يمكنه الاستغناء ببعضه، والحج بالفاضل فإنه لا يلزمه بيع الزائد، نعم هو الأفضل، وعلم به عدم لزوم بيع الكل والاكتفاء بسكني الإجارة بالأولى، وكذا لوكان عنده مالو اشتري به مسكناً وخادماً لا يبقي بعده ما يكفي للحج لا يلزمه، خلاصة، وحرر في النهر أنه يشترط بقاء رأس مال لحرفته إن احتاجت لذلك، وإلا لا، وفي الأشباه: معه ألف وخاف العزوبة إن كان قبل خروج أهل بلده فله التزوج ولو وقته لزمه الحج. وفي الشامية: قوله لا يلزمه تبع في عز وذلك إلى الخلاصة ما في البحر والنهر، والذي رأيته في الخلاصة هكذا وإن لم يكن له مسكن ولا شيء من ذلك، وعنده دراهم تبلغ به الحج وتبلغ ثمن مسكن وخادم وطعام وقوت وجب عليه الحج، وإن جعلها في غيره أثم. لكن هذا إذا كان وقت خروج أهل بلده كما صرح به في اللباب أما قبله فيشتري به ما شاء لأنه قبل الوجوب كما في مسألة التزوج الآتية، وعليه يحمل كلام الشارح، فتدبر. (الدر المختار مع الشامي: ۲/٤٦۱، سعيد).

فتح القدیر میں ہے:

وذكر المصنف في التجنيس: أنه إذا كان له مال يكفي للحج وليس له مسكن ولا خادم أو خاف العزوبة فأراد أن يتزوج ويصرف الدراهم إلى ذلك، إن كان قبل خروج أهل بلده إلى الحج يجوز لأنه لم يجب الأداء بعد، وإن كان وقت الخروج فليس له ذلك لأنه قد وجب عليه. (فتح القدير: ۲/۳۲٤، رشيديه).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر مکان کی ضرورت حج سے پہلے ہی پیش آ گئی اور اس مجبوری کی وجہ سے مکان بنا لیا تو اس کے ذمہ حج فرض نہیں ہوا تھا، اگر وقتِ حج یعنی جس وقت کہ لوگ آس پاس سے حج کے لیے جا رہے تھے اس وقت تو مکان کی ضرورت نہ تھی، بلکہ بعد میں ضرورت پیش آئی اور اس میں روپیہ خرچ کر لیا تو اس کے ذمہ حج فرض ہو چکا تھا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۲۹۰، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.