صائم کے لیے ماء البحر سے وضو کا حکم:
Question
اگر کوئی روزہ دار وضو کرنا چاہے اور سمندر کے پانی سے وضو کرے تو کیا اس نمکین پانی سے مضمضہ کر سکتا ہے؟ اگر کر لے تو کوئی کراہت ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء نے جہاں وضو اور غسل میں غرغرہ کو مستحب کہا وہاں اس حکم سے صائم کو مستثنیٰ کیا کہ اس کے لیے یہ مکروہ ہے، لیکن جس جگہ سمندر کے پانی سے یا ماء مالح سے وضو کا ذکر کیا وہاں صائم کا استثناء منقول نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ سمندر کے نمکین پانی سے وضو مکروہ نہیں اور جس جگہ کسی چیز کے چکھنے کو مکروہ لکھا ہے وہاں چونکہ اس کا ذائقہ مزاج کے موافق ہے اس لیے مکروہ ہے اور ماء البحر کا ذائقہ موافق طبیعت نہیں اور فقہاء نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زوقِ شئی کے مکروہ کی علت تعریض الصوم للفساد قرار دی ۔ جب کہ یہ بات ماء البحر میں نہیں ہے بائیں وجہ اس میں کراہت نہیں ہے ۔
قال في البحر: وكره ذوق شيء ومضغه بلا عذر لما فيه من تعريض الصوم للفساد. (البحر الرائق: ۲/۳۰۱، دار المعرفة).
(وكذا في الجوهرة: ۲/٤۲، والهداية: ۱/۲۲۰، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٦۷۹، قديمي).
بدائع الصنائع
میں ہے:
والماء المطلق هو الذي تتسارع أفهام الناس إليه عند إطلاق اسم الماء كماء الأنهار والعيون والآبار وماء السماء وماء الغدران والحياض والبحار فيجوز الوضوء بذلك كله سواء كان في معدنه أو في الأواني لأن نقله من مكان إلى مكان لا يسلب إطلاق اسم الماء عنه وسواء كان عذباً أو ملحاً لأن الماء الملح يسمي ماء على الإطلاق، وقال النبي ﷺ: خلق الماء طهوراً لا ينجسه شيء إلا ما غير لونه أو طعمه أو ريحه والطهور هو الطاهر في نفسه المطهر لغيره وقال الله تعالى: وأنزلنا من السماء ماء طهوراً. (بدائع الصنائع: ۱/۱۵، سعيد).
وقال في حاشية الطحطاوي: قال ابن سيده في المحكم: البحر الماء الكثير ملحاً كان أو عذباً وقد غلب على الملح فيكون التنصيص عليه دفعاً لمظنة توهم عدم جواز التطهير به لأنه مر منتن كما توهم بعض الصحابة، وفي الخبر من لم يطهره ماء البحر فلا طهره الله. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۲۰).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.