ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کا حکم:
Question
(الف) اگر ولی کی اجازت کے بغیر نکاح ہو جائے تو بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ناجائز ہے فقط امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک جائز ہے تو ہم امام ابو حنیفہ رحمه الله کے قول کو کیوں لیتے ہیں، ان کے پاس مضبوط دلائل نہیں ہیں، دوسرے ائمہ کے پاس دلائل ہیں؟ اس کا کیا جواب ہے؟
(ب) غیر کفو میں نکاح منعقد ہونے سے متعلق ظاہر الروایہ پر فتویٰ ہونا چاہیے ہونا چاہیے یا متاخرین کے قول پر؟
(ج) اگر کسی لڑکی نے غیر کفو میں نکاح کر لیا تو فسخ کرنا چاہیے یا نہیں؟ اور کفاءت کا معیار کیا ہے؟
بينوا بالتفصيل توجروا بالأجر الجزيل.
Answer
(الف) مسئلہ مذکورہ بالا میں امام ابو حنیفہ رحمه الله متفرد ہیں، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ امام صاحب رحمه الله کے پاس مضبوط دلائل نہیں ہیں، بلکہ اس مسئلہ میں امام صاحب رحمه الله کے پاس مضبوط دلائل موجود ہیں ۔
قرآن اور احادیث سے چند دلائل ملاحظہ کیجیے:
(
۱
) قال الله تعالى: ﴿وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن﴾ [البقرة: ۲۳۲].
(۲) وقال تعالى: ﴿فإذا بلغن أجلهن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن بالمعروف﴾ [البقرة: ۲۳٤].
(۳) قال تعالى: ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره﴾ [البقرة: ۲۳۰].
مذکورہ بالا تمام آیاتِ مبارکہ میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے ۔ معلوم ہوا کہ عورت خود اپنا نکاح کر سکتی ہے ۔
احادیث سے دلائل ملاحظہ کیجیے:
(
٤
) عن القاسم بن محمد أن عبد الرحمن بن يزيد الأنصاري ومجمع بن يزيد الأنصاري أخبراه أن رجلاً منهم يدعي خذاماً أنكح ابنة له فكرهت نكاح أبيها فأتت النبي ﷺ فذكرت ذلك له فرد عنها نكاح أبيها فتزوجت أبا لبابة بن عبد المنذر فذكر يحيى أنه بلغه أنها كانت ثيباً. (أخرجه الإمام احمد، رقم: ۲٦۷۸۹، وابن ماجه، رقم: ۱۸۷۳، والدارمي في سننه، رقم: ۲۱۹۱، وابن أبي شيبة، رقم: ۱٦۲۰۳).
وقال بشار عواد وحسين سليم أسد: إسناده صحيح. وقال الشيخ شعيب: إسناده صحيح على شرط البخاري. (التعليقات على مسند أحمد وسنن الدارمي، سنن ابن ماجه).
وأخرج البخاري عن عبد الرحمن ومجمع ابني يزيد بن جارية عن خسناء بنت خذام الأنصارية أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك فأتت رسول الله ﷺ فرد نكاحه. (البخاري، رقم: ۵۱۳۸، و ٦۹٦۹).
(
۵
) وعن ابن بريدة عن أبيه قال: جاءت فتاة إلى النبي ﷺ، فقالت: إن أبي زوجني ابن أخيه ليرفع بي خسيسته قال: فجعل الأمر إليها، فقالت: قد أجزت ما صنع أبي، ولكن أردت أن تعلم النساء أن ليس إلى الآباء من الأمر شيء. وفي الزوائد: إسناده صحيح. (رواه ابن ماجه، رقم: ۱۸۷٤، والدارقطني، رقم: ٤۵كتاب النكاح، وإسحاق بن راهويه في مسنده، رقم: ۱۳۵۹).
(٦) وعن ابن عباس رضي الله عنه أن جارية بكراً أتت النبي ﷺ فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة، فخيرها النبي ﷺ. (رواه ابن ماجه، رقم: ۱۸۷۵، أبو داود، رقم: ۲۰۹۸، واحمد، رقم: ۲٤٦۹).
قال الشيخ شعيب: إسناده صحيح على شرط البخاري.
(
۷
)
عن أم سلمة قالت: ولدت سبيعة الأسلمية بعد وفاة زوجها بنصف شهر فخطبها رجلان: أحدهما شاب والآخر كهل فحطت إلى الشاب فقال الكهل: لم تحلل وكان أهلها غيباً ورجا إذا جاء أهلها أن يؤثروه بها فجاءت رسول الله ﷺ فقال: قد حللت فانكحي من شئت. (رواه ابن حبان في صحيحه، رقم: ٤۲۹۷).
قال الشيخ شعيب: إسناده صحيح على شرطهما.
(
۸
) روي البخاري عن أنس رضي الله عنه قال: جاءت امرأة إلى رسول الله ﷺ تعرض عليه نفسها قالت: يا رسول الله ألك بي حاجة
(رواه البخاري: ۲/۷٦۷، قديمي).
(۹) عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: دخل علي رسول الله ﷺ بعد وفاة أبي سلمة فخطبني إلى نفسي فقلت يا رسول الله إنه ليس أحد من أوليائي شاهداً فقال: إنه ليس منهم شاهد ولا غائب يكره ذلك قالت: قم يا عمر فزوج النبي ﷺ
(شرح معاني الآثار: ۲/۸).
اس وقت عمر بن ابی سلمہ نابالغ تھے اس لیے ان کا نکاح کرانا شرعاً معتبر نہیں ۔
قال: عمر هذا ابنها وهو يومئذٍ طفل صغير غير بالغ. (شرح معاني الآثار: ۲/۸).
(۱۰) عن الحكم قال: كان علي إذا رفع إليه رجل تزوج امرأة بغير ولي فدخل بها أمضاه. (رواه ابن أبي شيبة في مصنفه، رقم: ۱٦۲۰٦).
وعن أبي قيس أن امرأة من عائذ الله يقال لها سلمة بنت عبيد زوجها أمها وأهلها، فرفع ذلك إلى علي رضي الله عنه فقال: أليس قد دخل بها؟ فالنكاح جائز. (سنن سعيد بن منصور، رقم: ۵۵۷).
وفي رواية البيهقي: عن علي رضي الله عنه أنه أجاز نكاح امرأة زوجتها أمها برضا منها. (السنن الكبرى، رقم: ۱٤۰۱۹).
(
۱۱
) عن ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: الأيم أحق بنفسها من وليها والبكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها. (رواه مسلم: ۱/٤۵۵).
"ايم"
کے معنی بے شوہر عورت کے ہیں، حنفیہ کے نزدیک یہ لفظ دوشیزہ اور شوہر دیدہ دونوں کو شامل ہے ۔
(
۱۲
) عن عائشة رضي الله عنه زوج النبي ﷺ أنها زوجت حفصة بنت عبد الرحمن المنذر بن الزبير وعبد الرحمن غائب بالشام
(شرح معاني الآثار: ۲/٦).
(
۱۳
) عن سعيد بن المسيب قال: قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: لا تنكح المرأة إلا بإذن وليها أو ذي الرأي من أهلها أو السلطان. (أخرجه البيهقي في الكبرى، رقم: ۱٤۰۱۱، ومالك في المؤطا، رقم: ۱۰۹۳، والدارقطني، رقم: ۳۲، كتاب النكاح).
مفتی تقی عثمانی صاحب دام فضلہ فرماتے ہیں:
اس مسئلہ میں حنفیہ کو بہت زیادہ نشانہ ملامت بنایا گیا ہے اس لیے کہ اس میں امام ابو حنیفہ رحمه الله متفرد ہے
حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں بھی امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مسلک متفرد ہونے کے باوجود نہایت مضبوط قوی اور راجح ہے ۔ (درسِ ترمذی: ۳/۳۷٤) ۔
وللاستزادة ينظر: (إعلاء السنن: ۱۱/٦۵. ۷۰، وفيض الباري: ٤/۲۸٦، باب من قال: لا نكاح إلا بولي، والمبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۵/۱۰۷، وعمدة القاري: ۱٤/۷۹، ودرس ترمذي: ۳/۳۷۳. ۳۸۲، ورسائل اعظمي، ص ٤٤۰).
حدیث شریف: "
أيما امرأة نكحت بغير إذن مواليها فنكاحها باطل"
کا واضح اور بے غبار مطلب:
بعض لوگوں کو بچپن سے وہ حدیث یاد ہوتی ہے جس میں بغیر ولی کے نکاح کو باطل کہا گیا ہے ۔ اس حدیث پر کلام سے قطع نظر حدیث کے باطل سے فقہاء والا باطل مراد نہیں، بلکہ باطل کے ایک معنی بے فائدہ ہے:
﴿ربنا ما خلقت هذا باطلاً﴾
اے اللہ آپ نے یہ آسمان و زمین بے فائدہ نہیں بنایا، بلکہ اس میں حکمتیں اور مصلحتیں ہیں ۔
اسی طرح جو نکاح اولیاء کی ناراضگی کے ساتھ ہو اس میں رشتہ داروں سے میل ملاپ نہ ہونے کی وجہ سے شادی کے فوائد سے محرومی ہوتی ہے ۔
نیز باطل کے ایک معنی فانی ہے حضرت لبید کا شعر ہے:
ألا كل شيء ما خلا الله باطل
ظ
وكل نعيم لا محالة زائل
ما سوی اللہ ہر شئی فانی ہے اور ہر نعمت زائل ہونے والی ہے، اسی طرح جو نکاح بغیر اولیاء کے یا اولیاء کی ناراضگی کے ساتھ ہو وہ اکثر جلدی ختم ہو جاتا ہے، لڑکی والدین اور رشتہ داروں کے بائیکاٹ کی وجہ سے نکاح سے اُکتا جاتی ہے اور طلاق کا مطالبہ کرتی ہے یا جھگڑے شروع کرتی ہے باطل اور فاسد وغیرہ کی اصطلاحات بعد میں فقہاء نے ایجاد کی ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
ظاہر الروایہ کے مطابق غیر کفو میں نکاح منعقد ہو جاتا ہے:
الجواب: (ب) مذہب احناف میں ظاہر الروایہ کے مطابق غیر کفو میں نکاح منعقد ہو جاتا ہے اور امام حسن بن زیاد رحمه الله کی روایت کے مطابق منعقد نہیں ہوتا ۔ متاخرین علماء جیسے علامہ شامی رحمه الله وغیرہ نے امام حسن بن زیاد رحمه الله کی روایت کو مفتی بہ قرار دیا ہے لیکن بعض دوسرے فقہاء مثلاً: امام قاضيخان رحمه الله، برہان الائمہ اور دیگر مشائخ نے ظاہر الروایہ پر فتویٰ دیا ہے ۔ مجمع الفقہ الاسلامی الہند کا بھی یہی فیصلہ ہے ۔ اس کی مختصر وضاحت پہلے بھی آ چکی ہے ۔ مزید کچھ دلائل اور ملاحظہ کیجیے:
قال في فتاوى قاضيخان: إذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء كان للأولياء حق الفسخ ما لم تلد منه
(فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۱/۳۵۱).
وقال في الفتاوى البزازية: ولو زوجت بلا إذن الولي من غير كفء، يفتي في زماننا برواية الحسن رحمه الله عن الإمام رحمه الله، أنه لا يجوز النكاح لأن كل قاضٍ لا يعدل، ولا كل شاهدٍ يعدل، ولا كل واقعٍ يدفع ويرفع فكان الاحتياط في إبطال النكاح
وذكر برهان الأئمة: إن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم لقوة دليل الإمام قال الله تعالى: ﴿فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن﴾. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/۱۱۸، الخامس في الأكفاء).
قال في خلاصة الفتاوى: المرأة إذا زوجت نفسها غير كفء هل لها أن تمتنع نفسها حتى يرضي الأولياء أفتي الفقيه أبو الليث رحمه الله أن لها ذلك وإن كان خلاف ظاهر الرواية وكثير من مشايخنا أفتوا بظاهر الرواية ليس لها أن تمتنع. (خلاصة الفتاوى: ۲/۱۳، رشيدية).
قال في الدر: (ويفتي) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلاً)، والمختار للفتوي (لفساد الزمان)
وقال في الشامية: قوله وهو المختار للفتوي) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط كذا في تصحيح العلامة قاسم
(الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۵٦، سعيد).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۲۹۲، وبدائع الصنائع: ۲/۲٤۷، سعيد، والبحر الرائق: ۳/۱۲۸، وكفايت المفتي: ۵/۲۰۹، دار الاشاعت).
ظاہر الروایہ کی وجوہِ ترجیح:
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ دونوں قول مفتی بہ ہیں لیکن چند وجوہات کی بنا پر ظاہر الروایہ کو ترجیح دینا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
(۱) علامہ شامی رحمه الله نے علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله سے نقل فرمایا ہے کہ فتویٰ میں اختلاف ہو جائے تو ظاہر الروایہ کو ترجیح ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو شرح عقود رسم المفتی میں ہے:
الفتوى إذا اختلفت كان الترجيح لظاهر الرواية. (شرح عقود رسم المفتي، ص ٦۷، بشرى).
(۲) ظاہر الروایہ کے موافق صاحبین کا بھی ایک قول مروی ہے اور جس روایت پر ائمہ ثلاثہ حنفیہ متفق ہوں وہ فتویٰ کے لیے راجح ہے ۔
قال في الدر المختار: ما اتفق عليه أصحابنا في الروايات الظاهرة يفتي به قطعاً. (الدر المختار: ۱/٦۹، مقدمة، سعيد).
اور صاحبین کا امام کے ساتھ متفق ہونا درجِ ذیل کتب میں مصرح ہے:
(الفتاوى الهندية: ۱/۲۹۲، وفتح القدير: ۳/۲۵٦، دار الفكر، ورمز الحقائق: ۱/۲۰۰، والبحر الرائق: ۳/۱۲۸، والكفاية، والبزازية: ٤/۱۱۸).
(۳) ظاہر الروایہ دلیل کے لحاظ بھی قوی اور مضبوط ہے ۔ جیسا کہ برہان الائمہ فرماتے ہیں:
وذكر برهان الأئمة: إن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم لقوة دليل الإمام قال الله تعالى: ﴿فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن﴾. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/۱۱۸، الخامس في الأكفاء).
(٤) متون میں یہی مذکور ہے اور اس پر بہت سارے مشائخ نے فتویٰ دیا ہے ۔ فقہاء کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ جب تصحیح مختلف ہو تو متون کو ترجیح ہو گی ۔ چنانچہ علامہ شامی رحمه الله علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله سے نقل فرماتے ہیں:
إذا اختلف التصحيح والفتوى فالعمل بما في المتون أولي. (فتاوى الشامي: ۳/۸۹، سعيد، والبحر الرائق: ۳/۱٤۲، دار المعرفة، مجمع الأنهر: ۱/۵۰۳).
(۵) حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله نے رسالہ وصل السبب ضمیمہ نہایات الارب میں لکھا ہے کہ: اصل قولِ امام صاحب وہی ہے جو ظاہر مذہب ہے اور ظاہر مذہب چھوڑنا بدونِ قوتِ دلیل جائز نہیں ہے ۔ (ص ٤) اور یہاں قوتِ دلیل تو در کنار سرے سے دلیل ہی نہیں ہے، لہذا بقولِ حضرت موصوف اس قول (روایتِ حسن رحمه الله) پر عمل کی اجازت نہیں ۔
(٦) حضرت امام شافعی رحمه الله کی تصریح اس کے مطابق ہے:
ليس نكاح غير الكفاء حراماً فأرد به النكاح وإنما هو تقصير بالمرأة والأولياء فإذا رضوا صح. (فتح الباري: ۹/۱۰٤، والمجموع شرح المهذب: ۱٦/۱۸٤).
نیز ہمارے اکابر علمائے کرام کے فتاوی بھی اسی کے موافق ہیں ۔ ان حضراتِ اکابر کی عبارات پہلے گزر چکی ہیں فقط حوالہ جات پر اکتفاء کیا جاتا ہے ۔
(کفایت المفتی: ۵/۲۰۹، دار الاشاعت، و مجموعہ قوانین اسلامی، ص ۹۸، و مجمع الفقہ الاسلامی کا گیارہواں سیمینار منعقدہ اپریل ۱۹۹۹ ء ۔ جدید فقہی مباحث: ۱۷/۲۵۱، و کتاب الفسخ و التفریق کے حاشیہ میں قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمه الله کا تفصیلی فتویٰ ۔ (۱۲۰) ۔
غیر کفو میں نکاح کی چند مثالیں:
(۱) حضرت مقداد رضی اللہ تعالی عنہ و ضباعہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح:
دخل رسول الله ﷺ على ضباعة بنت الزبير فقال لها
وكانت تحت المقداد بن الأسود رضي الله عنه. (
بخاری شریف، رقم: ۵۸۹) ۔
آنحضرت ﷺ نے اپنی چچا زاد بہن حضرت ضباعہ رضي الله عنه کا نکاح حضرت مقداد کندی رضي الله عنه سے کر دیا تھا، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضرت مقداد رضي الله عنه قبیلہ کندہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہ قبیلہ قریشی نہ تھا ۔ بنا بریں وہ حضرت ضباعہ کے کفو نہیں تھے ۔ نیز اس قبیلہ کے افراد کو عرب لوگ بافندگی (کپڑا بننے) کا طعنہ دیا کرتے تھے، حضرت معاویہ بن خدیج کندی رضي الله عنه کی نسبت ابن النساجہ اور اشعث بن قیس رضي الله عنه کی نسبت حائک بن حائک وغیرہ الفاظ تاریخ و تذکرہ کی کتابوں میں آج بھی موجود ہیں ۔
(۲) حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ سے:
قدم النبي ﷺ المدينة وكانت زينب بنت جحش رضي الله تعالى عنها ممن هاجر مع رسول الله ﷺ وكانت امرأة جميلة فخطبها رسول الله ﷺ على زيد بن حارثة فقالت: لا أرضاه وكانت أيم قريش قال: فإني قد رضيته لك فتزوجها زيد رضي الله عنه. (المستدرك للحاكم: ٤/۲۸).
حضرت زینب آنحضرت ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور حضرت زید کلبی تھے، مگر غلامی کی زندگی بسر کر چکے تھے، اسی لیے حضرت زینب اور ان کی بہن، حضرت زید سے نکاح کو پسند بھی نہ کرتی تھیں، بلکہ ابتدا میں جب حضرت نے مشورہ دیا تو بہت برہم ہوئیں، لیکن سورۂ احزاب کی ایک آیت کے نزول کے بعد بہت پشیمان ہوئیں اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں خود ہی کہلا بھیجا کہ آپ جس سے چاہیں میرا نکاح کر دیجیے ۔
(۳) حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ سے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها زوج النبي ﷺ أن أبا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد الشمس وكان ممن شهد بدراً مع رسول الله ﷺ تبني سالماً وأنكحه بنت أخيه هند بنت الوليد بن عتبة بن ربيعة وهو مولى لامرأة من الأنصار
(رواه البخاري: ۲/۵۷۰، قديمي).
حضرت سالم رضي الله عنه فارسی النسل غلام تھے، یعنی عربی بھی نہ تھے مگر حضرت ابو حذیفہ قریشی نے ان کا نکاح اپنی بھتیجی ہند سے کر دیا تھا ۔
(٤) حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح:
حضرت بلال رضی اللہ تعالی معروف و مشہور صحابی ہے اصلاً وہ حبشی غلام تھے، اور ان کی شادی حضرت عبد الرحمن بن عوف قریشی کی بہن سے ہوئی تھی، اور ایک شادی ان کی آنحضرت ﷺ نے بنو لیث میں کرا دی تھی ۔
عن أبي الحسن عن حنظلة بن أبي سفيان الجمحي عن أمه قالت: رأيت أخت عبد الرحمن بن عوف تحت بلال. (السنن الكبرى للبيهقي: ۷/۲۲۲، والدارقطني: ٤/٤٦۲).
عن زيد بن أسلم مرسلاً: إن بني بكير أتوا رسول الله ﷺ فقالوا: زوج أختنا من فلان فقال: أين أنتم عن بلال، فعادوا فأعاد ثلاثاً فزوجوه قال: وكان بنو بكير من المهاجرين من بني ليث. (أخرجه البيهقي في الكبرى، رقم: ۱٤۱٦۰، ۷/۲۲۲، أبو داود في مراسيله، رقم: ۲۲۹).
(۵) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن کا نکاح اشعث رضي الله عنه سے:
عن مصعب بن عبد الله قال: وأم فروة بنت أبي قحافة أخت أبي بكر الصديق عمة عائشة رضي الله تعالى عنها
زوجها أبو بكر الأشعث بن قيس فولدت له محمد اً وإسحاق وحبابة وقريبة. (المستدرك للحاكم: ٤/۸۰، ومجمع الزوائد: ۹/٤۱۵، دار الفكر).
اشعث بن قیس کندی تھے، اور ان کو حائک بن حائک کہا جاتا تھا، بایں ہمہ حضرت ابو بکر رضي الله عنه نے اپنی بہن ام فروہ کا نکاح ان سے کر دیا تھا، روایت میں ہے کہ اشعث کے بیٹے محمد وغیرہ ام فروہ کے بطن سے تھے ۔
(٦) حضرت ابو ہند حجام کا نکاح بنو بیاضہ میں :
عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن أبا هند مولي بني بياضة كان حجاماً حجم النبي ﷺ فقال رسول الله ﷺ:
وأنكحوا أبا هند وأنكحوا إليه. رواه الطبراني في الأوسط وفيه عبد الواحد بن إسحاق الطبراني ولم أعرفه وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد: ۹/۳۷۷، دار الفكر).
حضرت ابو ہند غلام تھے اور پچھنا لگانے کا کام کرتے تھے ۔ آنحضرت ﷺ نے خود اس قبیلہ کو جن کے وہ غلام تھے حکم دیا تھا کہ ان کی شادی اپنے قبیلہ میں کردو ۔
(۷) حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ۔
عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنه أن أبا عمرو بن حفص طلقها البتة وهو غائب
فلما حللت ذكرت له أن معاوية بن أبي سفيان وأبا جهم خطباني فقال رسول الله ﷺ أما أبو جهم فلا يضع عصاه عن عاتقه وأما معاوية فصعلوك لا مال له انكحي أسامة بن زيد فكرهته ثم قال: انكحي أسامة فنكحته فجعل الله فيه خيراً واغتبطت. (رواه مسلم، رقم: ۱٤۸۰، باب المطلقة ثلاثاً لا نفقة لها).
حضرت فاطمہ رضي الله عنه ایک قریشی خاتون تھیں، اور حضرت معاویہ رضي الله عنه وغیرہ جیسے قریشی حضرات ان کے خواستگار ہو چکے تھے، مگر آنحضرت ﷺ نے قریشیوں کے مقابلہ میں حضرت اسامہ رضي الله عنه کو جو قریشی نہ تھے بلکہ آزاد شدہ غلام کے لڑکے تھے ترجیح دی اور باوجودیکہ فاطمہ رضي الله عنه اس رشتہ کے لیے آمادہ نہ تھیں، صراحۃً ناراضگی ظاہر کر چکی تھیں، مگر آنحضرت ﷺ نے یہ فرما کر ان کو آمادہ کر دیا کہ تم کو خدا اور رسول کا حکم ماننا بہتر ہے، حضرت فاطمہ رضي الله عنه کا بیان ہے کہ آگے چل کر یہ رشتہ ایسا مبارک ثابت ہوا کہ عورتیں مجھ پر رشک کرتی تھیں ۔
ولی کو فسخ نکاح کا اختیار:
الجواب: (۳) شریعتِ مطہرہ میں مصالحِ نکاح کو باقی رکھنے اور مستقبل کی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے نکاح میں کفاءت کا اعتبار کیا گیا ہے، چنانچہ فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں عورت کا حق ہے وہیں پر ولی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر کوئی عورت غیر کفو میں نکاح کر لے اور ولی کو عار محسوس ہوتی ہو یا یہ محسوس ہو کہ عورت نے نادانی میں فیصلہ کر لیا ہے آگے چل کر نباہ نہ ہو سکے گا تو ولی کو قاضی کے پاس معاملہ پیش کر کے فسخ نکاح کا اختیار ہوگا ۔ ملاحظہ ہو المبسوط میں ہے:
وإذا زوجت نفسها من غير كفء فقد الحقت الضرر بالأولياء فيثبت لهم حق الاعتراض لدفع الضرر عن أنفسهم كما أن الشفيع له حق الأخذ بالشفعة لدفع الضرر عن نفسه
(المبسوط: ۵/۱۳، إدارة القرآن).
بدائع الصنائع میں ہے:
حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم وللأولياء حق الاعتراض كان في الكفاءة حقاً للأولياء لأنهم ينتفعون بذلك ألا تري أنهم يتفاخرون بعلو نسب الختن ويتعيرون بدناءة نسبه فيتضرون. (بدائع الصنائع: ۲/۳۱۸، سعيد).
قال في الأحوال الشخصية: وإنما اعتبرت الكفاءة بين الزوجين لأن النكاح يعقد للعمر ويشتمل على أغراض ومقاصد كالازدواج والصحبة والألفة وتأسيس القرابات ولا ينتظم ذلك عادة إلا بين الأكفاء ولأنهم يتعيرون بعدم الكفاءة فيتضرر الأولياء به
والكفاءة حق الولي وحق المرأة فلو أسقط كل منهما حقه فالأمر ظاهر ولو أسقط واحد منهما حقه بقي حق المرأة. (الأحوال الشخصية: ۱/۱۷۰، ط: دار السلام).
تاہم اگر کسی لڑکی نے غیر کفو میں نکاح کر لیا تو اگر لڑکا دیندار اور اچھے اخلاق والا ہو تو ولی کو چاہیے کہ خواہ مخواہ فسخ نہ کریں، اس لیے کہ اصل تو دینداری اور خوش اخلاقی ہے ۔
حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:
قال ﷺ: إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه ان لا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد عريض. أقول: ليس في هذا الحديث أن الكفاءة غير معتبرة كيف وهي مما جبل عليه طرائف الناس، وكاد يكون القدح فيها أشد من القتل، والناس على مراتبهم والشرائع لا تهمل مثل ذلك، ولذلك قال عمر رضي الله عنه: لا منعن النساء إلا من أكفائهن، ولكنه أراد إلا يتبع أحد محقرات الأمور نحو قلة المال ورثاثة الحال ودمامة الجمال
بعد أن يرضي دينه وخلقه، فإن أعظم مقاصد تدبير المنزل الاصطحاب في خلق حسن، وأن يكون ذلك الاصطحاب سبباً لصلاح الدين. (حجة الله البالغة: ۲/۲۱۷، ط: قديمي).
قال في البدائع: وعندنا الأفضل اعتبار الدين والاقتصار عليه. (بدائع الصنائع: ۲/۳۱۷، سعيد).
وقال في المبسوط: وتأويل الحديث الآخر الندب إلى التواضع وترك طلب الكفاءة لا الالتزام به وبه نقول: إن عند الرضاء يجوز العقد. (المبسوط:
۵
/
۲۳
، إدارة القرآن).
خلاصہ یہ ہے کہ کفاءت بحیثیتِ حقوق اللہ نہیں ہے بلکہ بحیثیت حق العبد ہے اور وہ بھی جوازی ہے نہ کہ وجوبی ۔ (رسائل اعظمی، ص ٤۳۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
کفاءت کا معیار:
احناف کے نزدیک کفاءت چھ چیزوں میں معتبر ہیں: (۱) کفاءت فی الدین ۔ لڑکا دینداری اور تقوی میں لڑکی کے ہم پلہ ہو ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص، و جدید فقہی مسائل۳/۷۰) ۔
(۲) کفاءت فی المال: ۔ شوہر بیوی کی حیثیت کے مطابق نفقہ وغیرہ پر قادر ہو ۔ اور دونوں کی مالی حیثیت میں ایسا فرق نہ ہو جو لڑکی کے لیے باعثِ عار بنے ۔ تفصیل ملاحظہ ہو ۔ (الاحوال الشخصیۃ: ۱/۱۸۱، و جدید فقہی مسائل: ۳/۷۲) ۔
(۳) کفاءت فی الحرفۃ: ۔ امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مشہور قول یہی ہے کہ صنعت و حرفت اور پیشہ معاش میں کفاءت کا اعتبار نہیں ہوگا، قاضی ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک ایسے پیشہ کے لوگ جن کے پیشوں کو حقیر سمجھا جاتا ہو دوسرے پیشہ کے لوگوں کے لیے کفو نہیں ہو سکتے ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (جدید فقہی مسائل: ۳/۸۲، و مجموعہ قوانین اسلامی، دفعہ: ۱۱۸، و الفتاوی الہندیۃ: ۱/۲۹۱ و الاحوال الشخصیۃ: ۱/۱۸۵، و بذل المجہود: ۷/۸) ۔
(٤) کفاءت فی الاسلام: ۔ اہل عرب کے بارے میں حکم یہ ہے کہ نو مسلم اور خاندانی مسلمان ایک دوسرے کے کفو ہیں، البتہ اہل عجم کا حکم یہ ہے کہ جس شخص نے اسلام قبول کیا اور اس کے والدین کافر ہو ں وہ امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام محمد رحمه الله کے نزدیک ایسے شخص کا کفو نہیں بن سکتا جس کے خاندان میں دو پشتوں سے اسلام ہو ۔ مزید ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مسائل: ۳/۷۵، و مجموعہ قوانین اسلامی، ص۹۷، و الاحوال الشخصیۃ: ۱/۱۷۹) ۔
اصل بات یہ ہے کہ اس مسئلہ کا مدار عرف پر ہے ۔
(۵) کفاءت فی الحریۃ: ۔ غلام آزاد عورت کا کفو نہیں ہو سکتا ۔ البتہ حریت کا اعتبار صرف عجمیوں میں ہوتا ہے ۔
قال في البحر: الحرية والإسلام فهما معتبران في حق العجم. (البحر الرائق: ۳/۱٤۱، دار العرفة).
(٦) کفاءت فی النسب: ۔ نسب میں کفاءت کا اعتبار عرب خاص کر قریش اور عجم کے ان خاندانوں میں کیا جائے گا جنھوں نے اپنے نسب کو محفوظ رکھا ہے بقیہ سارا عجم ایک دوسرے کا کفو ہے ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص ۹٦) ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (بدائع الصنائع: ۲/۳۱۸، سعید، و المبسوط: ۵/۲۳، ادارۃ القرآن، و رسائل اعظمی، ٤۳۳، و جدید فقہی مسائل: ۳/۹۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.