"تجھ کو چھوڑ دیا" تین مرتبہ کہنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #46Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے "تجھ کو چھوڑ دیا، چھوڑ دیا، چھوڑ دیا" تو کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ لفظ چھوڑ دیا کنایہ ہے اور کنایہ نیت کا محتاج ہے، لہذا اگر نیت طلاق کی تھی تو ایک طلاقِ بائنہ واقع ہو گئی، اور اگر نیت طلاق کی نہیں کی تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
بعض علماء نے اس کو الفاظِ صریحہ میں شمار کیا ہے، لہذا بلا نیت طلاقِ رجعی واقع ہو گی ۔
حضرت مفتی محمود حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے الفاظِ صریحہ میں شمار فرما کر طلاقِ رجعی کا فتوی مرحمت فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳٤۰) ۔
نیز حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمہ ا للہ، ان حضرات نے بھی طلاقِ رجعی تحریر فرمایا ہے ۔
لیکن حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے الفاظ کنایہ میں شمار فرما کر طلاقِ بائن فرمایا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں کفایت المفتی میں ہے:
(جواب) اگر مرد نے یہ لفظ (میں نے تجھ کو چھوڑ دیا) تین بار کہے تو اس کی بیوی پر طلاقِ بائن ہو گئی اور وہ اس کے نکاح سے باہر ہو گئی، ہاں دوبارہ وہ شخص اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے بشرطیکہ عورت بھی رضامند ہو، حلالہ کی ضرورت نہیں ۔ (کفایت المفتی: ٦/٤٤، کتاب الطلاق) ۔
حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
الجواب: (ہم نے اس کو چھوڑ دیا، چھوڑ دیا، چھوڑ دیا) اگر شوہر کی نیت طلاق کی تھی اور بنیتِ طلاق اس نے یہ الفاظ کہے تھے تو ایک طلاقِ بائنہ اس کی زوجہ پر واقع ہو گئی، دوسری، تیسری واقع نہ ہوئی، لأن البائن لایلحق البائن کما فی الدر المختار وغیرہ ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۳۸۸) ۔
فتاوی حقانیہ میں ہے:
اپنی بیوی کے متعلق یوں کہنا کہ "میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے" یہ الفاظ طلاقِ کنایہ کے ہیں، نیت کی موجود گی میں ان سے طلاقِ بائن واقع ہو گی، لیکن علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے عرف کے حوالہ سے طلاقِ رجعی میں شمار کیا ہے، جس سے نیت کے بغیر بھی طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے ۔ (فتاوی حقانیہ: ٤/٤۷۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.