حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول: "امصص بظْر اللات" کی تحقیق:
Question
صحیح بخاری میں ہے کہ جب عروہ نے رسول اللہ
ﷺ
سے یہ کہا کہ اگر آپ اپنی قوم کا استیصال کریں گے اور اگر مغلوب ہوے تو یہ مختلف النوع لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے تو اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ نے کہا
"امصص بظر اللات"
اس کے معنی شارحین لکھتے ہیں "چوستے رہو لات کی شرمگاہ" (
صحيح البخاري ۱/۳۷۸ باب الشروط في الجهاد)
یہ گالی بظاہر حضرت ابوبکر
رضي الله عنه
کی شانِ صدیقیت کے خلاف ہے ۔ نیز قرآن کریم کی آیت ہے
﴿ولا تسبّوا الذين يدعون من دون الله فيسبّوا الله عدوا بغير علم﴾
یہ اس کے بھی منافی ہے اس اشکال کا کیا حل ہے؟
قادیانی اس جملہ سے مرزا کی مغلظات کی صحت پر استدلال کرتے ہیں مثلاً مرزا نے اپنے نہ ماننے والوں کو کنجریوں کی اولا د کہا ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو گوہ کا ڈھیر اور اپنے دشمنوں کو بیابانوں کے خنزیر کہا ہے ۔ یہ سب گالیاں مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں لکھی ہیں نیز شیعہ اس جملہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بد زبانی پر استدلال کرتے ہیں نعوذ باللہ ۔
Answer
بظر
کے دو معنی ہیں:
(۱)
شرمگاہ کا ابھرا ہوا حصہ ۔
(۲)
اوپر کے ہونٹ کا درمیانی حصہ ابھرا ہوا ہونا (القاموس الوحید: ۱/۱۷۱) چنانچہ
بظر
کے معنی "
الشفة العليا"
بھی ہے
(المعجم الوسيط ٦۲)
اور یہاں دوسرے معنی مراد ہیں جس کے قرائن یہ ہیں:
(۱) امصص
کا لفظ قرینہ ہے کیونکہ چوسنے کی چیز ہونٹ ہے نہ کہ شرمگاہ ۔
(۲)
اسی حدیث میں مذکور ہے کہ صحابہ آنحضور ﷺ کا لعاب منہ پر لگاتے یا بدن پر لگاتے تھے اور آپ ﷺ کا بقیہ پانی پیتے تھے "
قال فو الله ما تنخم رسول الله ﷺ نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده" (صحيح البخاري ۱/۳۷۹)
مطلب یہ ہے کہ تم لات کے لعاب کو چوسو ہم رسول اللہ ﷺ کے لعاب کو منہ پر لگاتے اور چوستے رہیں گے ۔
(۳)
عروہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضي اللہ عنہ پر سب و شتم کا الزام نہیں لگایا معلوم ہوا یہ گالی نہیں تھی ۔
(٤)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اُسے اچھے معنی پر محمول کیا جائے ۔
اشکال اور جواب:
اس جواب پر ایک مولانا صاحب نے ایک دار العلوم کے موقر رسالہ میں تنقید فرمائی ہے، یہ تنقیدی مضمون مجھے کا فی مدت کے بعد ایک صاحب نے دکھایا بندۂ عاجز نے حضرت ابوبکر صدیق رضي اللہ عنہ کی شان کے مناسب ایک توجیہ لکھی تھی، اس لیے اس مضمون کے جواب دینے کی ضرورت نہیں تھی لیکن بعض احباب کی فرمائش پر کچھ مزید گزارشات پیش کی جا رہی ہیں، مضمون نگار نے تقریباً ۱۷ شروحات کے حوالے اپنے پسندیدہ معنی کی ترجیح کے لیے دیے ہیں، شروحات کی روشنی میں یہ معنی بندۂ عاجز کو پہلے سے معلوم ہیں لیکن بندہ نے اپنے خیال میں اس سے زیادہ مناسب معنی لیا جو لغت کی کتابوں کے بھی موافق ہے بندہ نے ابوبکر صدیق رضي اللہ عنہ کے کلام کو سب شتم سے بچا کر دوسرے معنی پر محمول کرنے کی کوشش کی، مضمون نگار نے تحریر فرمایا ہے کہ حالتِ جنگ میں گالی دینا قتال باللسان کی ایک قسم ہے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر حالتِ جنگ تھی، اس لیے قتال باللسان اختیار کیا گیا، بہتر یہ ہے کہ ہم اختصار کے ساتھ جہاد کی اقسام کسی معروف و مشہور کتاب سے نقل کریں اور جہاد باللسان کی تشریح کر لیں، ہم حافظ ابن قیم کی زاد المعاد سے جہاد کی قسمیں نقل کرتے ہیں اور تطویل سے دامن بچاتے ہوے عربی عبارات کو چھوڑ کر صرف ترجمہ بلکہ حاصل ترجمہ پر اکتفا کرتے ہیں ۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جہاد کی چار قسمیں ہیں ؛ (۱) بمقابلہ نفس ۔ (۲) بمقابلہ شیطان ۔ (۳) بمقابلہ معاند یعنی دین دشمن کفار و منافقین ۔ (٤) بمقابلہ فساق مومنین ۔ پھر نفس کے مقابلہ میں جہاد کی چار شاخیں ہیں: جہاد بالعلم، جہاد بالعمل، جہاد بالدعوۃ، جہاد بالصبر ۔ نفس کا مقابلہ کر کے علم حاصل کرنا پھر نفس کو دبا کر عمل کرنا اور دعوت دینا اور اس راہ میں آنے والی مشکلات اور آزمائشوں پر صبر کرنا ۔
(۲) جہاد بمقابلہ شیطان کی دو قسمیں ہیں: شیطانی شبہات کو دفع کرنا اور شیطانی خواہشات کو دفع کرنا ، یاد رہے کہ نفسانی خواہشات اور ہیں اور شیطانی خواہشات الگ ہیں ہاں کبھی دونوں مل جاتی ہیں بدبو دار شراب کو پینے میں نفس کا کون سا تقاضا شامل ہے ہاں شیطان نے اس میں خیالی سرور پیدا کر کے اس کو محبوب بنایا ہے ۔
(۳) جہاد بمقابلہ اعداء دین کی علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے چار شاخیں بیان کی ہیں، ہم ب جائے چار کے ان کی چھ قسمیں بنا سکتے ہیں ؛۱ ۔ جہاد بالقلب، ۲ ۔ جہاد بالمال، ۳ ۔ جہاد بالروح و البدن، ٤ ۔ جہاد بالقلم، ۵ ۔ جہاد بالمنصب و الجاہ، ٦ ۔ جہاد باللسان ۔
جہاد بالقلب تو دل سے ان کے کفریات کو برا سمجھنا، جہاد بالمال ظاہر ہے، جہاد بالبدن و الروح باطل کے مقابلہ میں تن من لگانا، جہاد بالقلم باطل کے خلاف اپنا قلم وقف کرنا ، جہاد بالجاہ اپنے مرتبہ و منصب کے ذریعہ دین کو فائدہ پہنچانا اور اپنے ماتحتوں کو دین کی طرف لا نا اور بلانا یہ جہاد مسلمانوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور جہاد باللسان کا مطلب اپنی دعوتی زبان سے حق کو تقویت پہنچانا ہے ۔
(٤) فساق و فجار مؤمنین کے مقابلہ میں جہاد کی تین قسمیں ہیں ؛جہاد بالید، جہاد باللسان، جہاد بالقلب ان اقسام کی طرف مشہور حدیث میں اشارہ موجود ہے ؛
من رأي منكم منكراً فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان
۔ (
صحيح مسلم، رقم: ٤۹، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان).
جہاد کی ان اقسام میں سے جہاد باللسان کا ذکر قارئین کے سامنے آگیا جہاد باللسان دین کی طرف دعوت ہے یا مناظرہ اور دلائل کے ساتھ مقابلہ ہے جہاد باللسان گالی گلوچ نہیں ہے ۔
بندہ عاجز عرض گزار ہے کہ سب و شتم کسی مسلمان کے ساتھ مناسب نہیں، حضرت ابوبکر صدیق رضي اللہ عنہ کا درجہ تو انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے اونچا ہے حدیث میں آتا ہے:
ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش البذي. (سنن ترمذي: ۲/۱۸).
طعنہ بازی اور لعنت بھیجنا مسلمان کی شان نہیں ہے ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے:
المستبان ما قالا فعلي البادي مالم يعتد المظلوم. (صحيح مسلم: ۲/۳۲۱)
گالی گلوچ کرنے والوں میں ابتدا کرنے والے پر گناہ ہے جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے ۔ مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ سے مروی ہے:
إن رجلاً شتم أبابكر والنبي ﷺ جالس فجعل النبي ﷺ يعجب ويتبسم فلما أكثر رد عليه بعض قوله فغضب النبي ﷺ وقام فلحقه أبوبكر رضي الله عنه فقال: يا رسول الله! كان يشتمني وأنت جالس فلما رددت عليه بعض قوله غضبت وقمت قال: إنه كان معه ملك يرده عنك فلما رددت عليه بعض قوله وقع الشيطان فلم أكن لأقعد مع الشيطان. (مسند احمد: ۱۵/۳۹۰/۹٦۲٤) قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: حسن لغيره،
یعنی ایک آدمی حضرت ابوبکر صدیق رضي اللہ عنہ کو سب و شتم کر رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے جب اس آدمی نے بہت سب و شتم کیا تو حضرت ابوبکر رضي اللہ عنہ نے جواب دیا رسول اللہ ﷺ غصہ ہوے اور چلے گئے ابوبکر رضي اللہ عنہ ان کے پیچھے گئے اور کہا یا رسول اللہ جب وہ گالی دے رہا تھا تو آپ بیٹھے تھے جب میں نے جواب دیا تو آپ غصہ ہوے، آپ نے فرمایا: جب آپ خاموش تھے تو فرشتہ آپ کی طرف سے جواب دے رہا تھا جب آپ نے سب شتم شروع کیا تو فرشتہ گیا اور شیطان آیا میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ جوابی سب و شتم سے کتنے ناراض ہوے ۔
مضمون نگار نے لکھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر قتال کی حالت تھی اور قتال کی حالت میں سب و شتم جہاد باللسان کے زمرہ میں آتا ہے، صلح حدیبیہ میں قتال کی حالت نہیں تھی بلکہ رسول اللہ ﷺ عمرہ کی نیت سے آئے تھے اور احرام کے لباس میں ملبوس تھے اور قربانیاں ساتھ لے کر آئے تھے، اور عمرہ کی نیت فرما کر آئے تھے،
وأحرم بالعمرة ليأمن الناس من حربه وليعلموا أنه إنما خرج زائراً للبيت ومعظماً له. (عمدة القاري، باب الشروط في الجهاد، والتمهيد لابن عبد البر: ۱۲/۱٤۹، ط: مؤسسة القرطبة).
حضرت ابو قتادہ رضي اللہ عنہ نے حمارِ وحشی کا شکار کیا تھا، وہ بغیر احرام کے آئے تھے تو شارحین حدیث نے اس کی متعدد تاویلات فرمائی ہیں ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اس موقع پر اسلام قبول کرنے کے لیے آیا ہو اور عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو یہ الگ بات ہے، لیکن صحابہ کرام عمرہ کی نیت سے آئے تھے اور جب عمرہ نہیں ہوا تو آئندہ سب شرکاء عمرۃ القضاء کے لیے آ گئے ۔ حضرت ابو قتادہ رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں:
انطلقنا مع النبي ﷺ عام الحديبية فأحرم أصحابه ولم أحرم. (صحيح البخاري: ۱/۲٤۵، باب إذا رأى المحرمون صيداً).
صحابہ کرام قتال کے لیے نہیں آئے تھے رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے قاصد بدیل سے فرمایا:
إنا لم نجئ لقتال أحد ولكنا جئنا معتمرين.
اور جب بدیل مشرکین کے پاس واپس آیا تو اس نے کہا:
إنكم تعجبون على محمد إنه لم يأت للقتال إنما جاء زائراً لهذا البيت.
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا:
يا رسول الله! خرجت عامداً لهذا البيت لا تريد قتل أحد ولا حرباً فتوجه له فمن صدنا قاتلناه.
ان سب روایات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام قتال کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ اگر مشرکین کبھی حملہ کے لیے کوئی دستہ بھیجتے تھے تو پھر بھی مسلمان صبر کا دامن تھامتے تھے اس لیے قتال کی کیفیت نہیں تھی بلکہ مسلمان صلح صفائی کے منتظر تھے، نیز جب مشرکین کا ایک مبعوث آیا اور صحابہ کرام نے تلبیہ پڑھنا شروع کیا اور قربانیوں کو اس کے سامنے کر دیا تو وہ کہنے لگا:
رأيت البدن قد قلدت وأشعرت فما أري أن يصدوا عن البيت.
یہ عبارتیں صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد و المصالحہ مع اہل الحرب میں ملاحظہ کیجیے ۔
اگر بالفرض صلح حدیبیہ کا میدان معرکہ قتال ہو تو پھر بھی گالی گلوچ جہا د نہیں ہے، جہاد لسانی دعوت ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:
لأن يهدي الله رجلاً واحداً خير لك من أن يكون لك حمر النعم. (رواه مسلم في أبواب فضائل علي، رقم: ٦۲۲۳).
آپ کے ذریعہ ایک آدمی کی ہدایت آپ کے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔
مولانا مفتی تقی صاحب تکملہ فتح الملہم میں فرماتے ہیں:
فكان النبي ﷺ في أول الأمر مأموراً أن يجاهد الكفار بلسانه لا بيده فيدعوهم ويعظهم ويجادلهم بالتي هي أحسن. (تكملة فتح الملهم: ۳/۸).
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
فالمرحلة الأولى هي الصبر على أذى المشركين مع الاستمرار في دعوتهم إلى دين الحق. (تكملة: ۳/۵).
قرۃ العینین میں ہے:
قال أبوبكر ابن العربي: اتفق العلماء على أن معنى الآية لا تسبوا ٓلهة الكفار فيسبوا آلهتكم وكذلك هو فإن السب في غير الحجة فعل الأدنياء فمنع الله في كتابه أحداً أن يفعل فعلاً يؤدي إلى محظور. (قرة العينين على الجلالين، ص ۱۸۰، للدكتور محمد احمد كنعان).
پھر یہ کہنا کہ
"امصص بظر اللات"
میں سبِ آلہہ نہیں بلکہ سبِ مشرکین ہے یہ تو بہت ہی عجیب ہے، نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہاں ام کی جگہ لات رکھا بظر تو لات کی ہوگی، مشرکین کی نہیں اور اگر مشرکین مراد ہو تو "
لا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدواً بغير علم"
میں مفسرین کے نزدیک مشرکین کو بھی گالیوں کی ممانعت شامل ہے ۔ روح المعانی میں ہے:
والمراد من الموصول أما المشركون على معني لا تسبوهم من حيث عبادتهم لآلهتهم كأن تقولوا تباً لكم ولآلهتكم. (روح المعاني: ۷/۲۵۱).
دوسری جگہ لکھتے ہیں: لا
تخرجوا من دعوة الكفار ومحاجتهم إلى أن تسبوا ما يعبدونه من دون الله. (روح المعاني: ۷/۲۵۲).
اسلام گالیوں کا دین نہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
عن عبد الرحمن بن عائذ كان النبي ﷺ إذا بعث بعثاً قال: تألفوا الناس وتأنوا بهم ولا تغيروا عليهم حتى تدعوهم فما على وجه الأرض من أهل بيت مدر ولا وبر إلا وأن تأتوني بهم مسلمين أحب إلى من أن تقتلوا رجالهم وتأتوني بنسائهم. (المطالب العالية: ۲/۱٦٦، والإصابة: ۳/۱۵۲).
رسول اللہ ﷺ جب جہاد کے لیے کوئی جماعت بھیجتے تو فرماتے: لوگوں کو مانوس بناؤ اور ان کے ساتھ نرمی کرو، اور دعوت سے پہلے ان پر حملہ مت کرو پس روئے زمیں پر کچے گھر اور خیمے والوں کو تم مسلمان بنا کر لاؤ گے یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ تم ان کے مردوں کو قتل کرو اور ان کی عورتوں کو قیدی بنا کر لاؤ ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا:
إنك ستأتي قوماً أهل كتاب فإذا جئتهم فادعهم إلى أن يشهدوا ألا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله. (صحيح البخاري باب اخذ الصدقة من الأغنياء).
معلوم ہوا کہ لسانی جہاد دعوت ہے گالی گلوچ جہاد نہیں، گالی گلوچ تو منافق کی علامت ہے: إذا
خاصم فجر.
مولانا احمد علی سہارنپوری رحمہ اللہ نے فجر کے معنی سب و شتم لکھے ہیں ۔ (بخاری: ۱/۱۰) مولانا فخر الدین صاحب محدث دار العلوم دیوبند نے فرمایا: کیونکہ فجور آپے سے باہر ہونے کی اور جھگڑے کے وقت گالیوں پر اُتر آنے کی تعبیر ہے ۔ (ایضاح البخاری: ٤/۳۳۵) شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے یوں ترجمہ کیا : جب کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے ۔ (سراج القاری: ۱/۱۷۷) ۔
قرآنِ کریم میں بوقتِ ضرورت جدال حسن کا ذکر ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي أحسن. (النحل: ۱۲۵).
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: موعظہ کا خلاصہ خیر خواہی کی بات کو اس طرح کہنا کہ مخاطب کا دل نرم ہو جائے اور بیان اور عنوان بھی ایسا جس سے قلب مطمئن ہو ۔ (خلاصہ معارف القرآن: ۵/٤۰۹) ۔ تفسیر عثمانی میں ہے: حکمت کے معنی نہایت پختہ مضامین، موعظہ حسنہ مؤثر اور رقت انگیز نصیحتیں اور مناظرہ اور بحث کی نوبت آئے تو تہذیب اور شائستگی کے ساتھ بحث جس میں دل آزاری اور دل خراشی نہ ہو ۔ (تفسیر عثمانی، ص۳۷۲) ۔ اور تفسیر مظہری میں ہے:
وجادلهم ؛ المناظرة على وجه لا يتطرق إليه طغيان النفس ولا وسواس للشيطان. (مظهری: ۵/۳۹۰)
۔ اور
جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم. (التوبة: ۷۳)
کی تفسیر میں لکھا ہے جب عناد اختیار کیا تبوک میں اب سختی اور ترش روئی کیجیے ۔ تفسیر عثمانی ۔ اور مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں: اخلاق کے دائرہ میں رہتے ہوے سختی اور کسی قدر درشت کلامی بھی ضروری ہوتی ہے ۔ (آسان تفسیر، ص۵۹۲) ۔
اور میرے خیال میں
واغلظ عليهم
کا مطلب مضبوط بات اور الزامی جواب دینا ہے دوسری جگہ غلاظ کے معنی سخت گیر آیا ہے حاصل یہ ہے کہ سب آلہہ اور سب مشرکین گالی گلوچ کے معنی میں نہیں ہونا چاہیے، ہاں اگر سب کے یہ معنی ہوں کہ آلہہ سے ان صفات کی نفی کریں جو صفات اللہ کے ساتھ مخصوص ہیں تو یہ جائز بلکہ واقع ہے:
إن الذين تدعون من دون الله عباد أمثال لكم، والذين تدعون من دونه لا يستطيعون نصركم ولا أنفسهم ينصرون
۔ یعنی ان کی عاجزی بیان کرنا جائز ہے ۔ (
كذا في تعليق زاد المعاد: ۱۳، للشيخ شعيب الأرناؤوط والشيخ عبد القادر الأرناؤوط)
بعض دفعہ صحابہ کے بارے میں ایک دوسرے کو سب کرنے کا ذکر آتا ہے اس سے ملامت اور موقف کی مذمت مراد ہے، کما فی تکملۃ فتح الملہم فی فضائل علی رضی اللہ تعالی عنہ ۔
اور معترض کا یہ کہنا کہ عروہ بن مسعود نے یہ کہا کہ اگر میں آپ کا احسان نہ اتارتا تو آپ کو جواب دیتا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر
رضي الله عنه
نے گالی دی لیکن اس میں جواب کا ذکر ہے گالیوں کا ذکر نہیں جواب گالی کے ساتھ خاص نہیں مشرکین نے
اعل هبل، اعل هبل
کہا اس کے جواب میں
الله أعلي وأجل، الله أعلي وأجل
کہا گیا یہ گالی نہیں، مشرکین نے
إن لنا العزي ولا عزي لكم،
کہا اس کے جواب میں
الله مولانا ولا مولي لكم
جواب ہے یہ گالی نہیں، مثلاً اگر عروہ جواب میں یہ کہتے کہ ہ میں اپنے اصنام سے محبت ہے وہ نعوذ باللہ ہمارے حاجت روا ہیں ہم اس کے لبوں کو چومتے ہیں تو جواب ہوتا جانبین سے گالی نہ ہوتی ۔
اشکال: جب ابوبکر رضي اللہ عنہ کا یہ کلام بندۂ عاجز کے خیال میں اس معنی پر محمول ہے کہ تم لات کے لبوں کو چوستے رہو جو تم کو فائدہ نہیں دے سکتا بلکہ یہ تمہارے بنائے ہوے اصنام ہیں، ہم تو رسول اللہ ﷺ کی محبت میں مست اور مدہوش رہیں گے، تو پھر سب اکابر نے
بظر
سے شرمگاہ کے معنی کیسے لیے؟ یہ سب حضرات علم و عمل کے پہاڑ اور تقویٰ و طہارت کے علم بردار تھے، ہم انہیں کے علوم کے خوشہ چین اور زلہ ربا ہیں ہماری زندگی کا حاصل ان کی محبت و عقیدت ہے ۔
اس اشکال کے دو جواب ہیں ۔ (۱) جب عروہ بن مسعود نے صحابہ کی شان میں نامناسب الفاظ استعمال کیے کہ یہ آپ ﷺ کو اکیلا چھوڑ کر اِدھر اُدھر بھاگ جائیں گے، تو حضرت ابوبکر صدیق رضي اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور غصہ کی حالت میں بے اختیاریہ الفاظ زبان سے نکلے اور سخت غصہ میں کبھی کبھی ایسے الفاظ بے اختیار زبان سے نکل سکتے ہیں، حضرت موسی علیہ السلام کے پاس ملک الموت ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئے تو حضرت موسی علیہ السلام نے ان کو ایسا تھپڑ مارا کہ ان کی آنکھ نکل گئی اس کی توجیہ اور تاویل کرتے ہوے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن موسى دفعه عن نفسه لما ركب فيه من الحدة. (فتح الباري: ٦/٤۳۲).
حضرت موسی علیہ السلام نے ملک الموت کو اپنے آپ سے دفع کیا اس لیے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی طبیعت میں غصہ تھا یعنی غصہ سے مغلوب ہو کر ایسا کیا ۔ فیض الباری میں مرقوم ہے:
وفي العيني: إنه كان في طبع موسى عليه السلام حدة،
اس کی تعلیق میں مولانا بدر عالم صاحب تحریر فرماتے ہیں:
روي أنه كان إذا غضب اشتعلت قلنسوته. (فيض الباري: ۲/٤۷٦).
یعنی شدتِ غضب کی وجہ سے آپ کی ٹوپی جل جاتی تھی ۔ حضرت موسی علیہ السلام جب کوہِ طور سے تشریف لائے اور بنی اسرائیل کو گمراہی میں مبتلا دیکھا تو شدتِ غضب سے تورات کی تختیاں ہاتھ سے گر گئیں، اس کیفیت کو علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے یوں بیان فرمایا:
والصواب أن يقال إنه عليه السلام لفرط حميته الدينية وشدة غضبه لله تعالى لم يتمالك ولم يتماسك أن وقعت الألواح من يده بدون اختيار فنزل ترك التحفظ منزلة الإلقاء الاختياري فعبر به. (روح المعاني: ۹/٦۷).
یعنی شدتِ غضب کی وجہ سے حضرت موسی علیہ السلام کے ہاتھ کنٹرول میں نہیں ر ہے اور الواح گر گئیں ۔
مفسرین نے ہارون علیہ السلام کی ڈاڑھی پکڑنے کی بھی یہ تاویل و تشریح کی ہے، نیز حضرت عمر رضي اللہ عنہ پر شیعہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کا انکار کیسے کیا یہاں تک کہ ابوبکر رضي اللہ عنہ
نے:
إنك ميت وإنهم ميتون
آیت تلاوت فرمائی، اس کے جواب میں علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
والجواب أن ذلك من شدة دهشته بموت قرة عينه وعيون المؤمنين،
یعنی حضرت عمر
رضي الله عنه
رسول اللہ ﷺ کی وفات کی وجہ سے مدہوش سے ہو گئے اور پریشانی نے ان کو حواس باختہ کر دیا اور یہ کلمات ا ن کی زبان سے نکلے، فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص شدتِ غضب میں حواس باختہ اور مدہوش سا ہو کر طلاق دے دے تو اس کی طلاق بھی واقع نہیں ۔ (فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/۲۱۳) ۔
بظر اللات
کو سبّ پر محمول کر کے یہ توجیہ مناسب ہے اور اگر سب و شتم کو جہاد باللسان قرار دیں جیسا کہ معترض صاحب نے کہا ہے پھر مولانا صاحب کے مدرسہ کے طلبہ و مدرسین ب جائے ختمِ خواجگان غیر مسلموں کو سب و شتم کر لیا کریں اور اس کو نشر کر لیا کریں اور جہاد باللسان کا ثواب لوٹتے رہیں ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (۵/۳٤۰) پر فرمایا:
وحمله على ذلك ما أغضبه من نسبة المسلمين،
اور گزشتہ تفصیل کی طرف اشارہ فرمایا، اور حافظ عینی رحمہ اللہ نے بھی (
۹/٦٤)
پر مذکورہ بالا تفصیل کی طرف اشارہ فرمایا ۔
ہمارے اکابر رحمہ اللہ کے فتاوی میں ایک سوال و جواب مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص کسی شیخ سے مرید ہے اور خواب میں اس کا نام لے کر یہ کہ رہا ہے کہ فلاں رسول اللہ، پھر بیدار ہونے کے بعد بے اختیار یہی الفاظ زبان پر جاری ہیں وہ شخص درود شریف پڑھنا چاہتا ہے لیکن بے اختیار فلاں رسول اللہ زبان پر آتا ہے، اس سوال کا مفصل جواب دیگر اکابر رحمہ اللہ کی طرح حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے اس کو نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کبھی بے اختیاری اور مجبوری میں یا شدید غصہ میں زبان بے قابو ہو جاتی ہے اور کچھ نامناسب الفاظ زبان پر آ جاتے ہیں، حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب کفایت المفتی (۱/٦۳) پر تحریر فرماتے ہیں:
رہا دوسرا واقعہ جو حالتِ بیداری کا ہے، اس کے متعلق صاحبِ واقعہ کا بیان ہے کہ وہ اپنی حالت خواب کی غلطی سے نادم اور پریشان ہو کر چاہتا ہے کہ درود شریف پڑھ کراس کا تدارک کرے، اور درود شریف پڑھتا ہے لیکن اس میں بھی ب جائے آنحضرت ﷺ کے نام مبارک کے زید کا نام اس کی زبان سے نکلتا ہے، اسے اس غلطی کا احساس تھا، مگر کہتا ہے کہ زبان پر قابو نہ تھا، بے اختیار تھا، مجبور تھا، اس واقعہ کے متعلق دو باتیں تنقیح طلب ہیں ۔
اول یہ کہ آیا حالتِ بیداری میں ایسی بے اختیاری اور مجبوری کہ زبان قابو میں نہ ر ہے بغیر اس کے کہ نشہ ہو، جنون ہو، اکراہ ہو، عتہ ہو ممکن اور متصور ہے یا نہیں؟ کیونکہ ان چیزوں میں سے کسی کا موجود ہونا سوال میں ذکر نہیں کیا گیا، تو ظاہر یہی ہے کہ ان اسباب میں سے کوئی سبب بے اختیاری پیدا کرنے والا نہ تھا ۔ دوسرا یہ کہ اگر بے اختیاری اور مجبوری ممکن اور متصور ہو تو صاحبِ واقعہ کی تصدیق بھی کی جائے گی یا نہیں؟
امر اول کا جواب یہ ہے کہ بے اختیاری کے بہت سارے اسباب ہیں صرف سکر و جنون و اکراہ و عتہ میں منحصر نہیں ۔ کتبِ اصولِ فقہ و فقہ میں ان اسباب کے ذکر پر اقتصار کرنا تحدید و حصر پر مبنی نہیں، بلکہ اکثری اسباب کے طور پر انہیں ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ متعدد کتبِ فقہیہ میں اس کی تصریح موجود ہے کہ خواہ کسی وجہ سے عقل مغلوب ہو جائے وہ مغلوبیت موجب رفع قلم ہو جاتی ہے ۔
إلا في بعض المواقع فيكون الزجر مقصوداً.
فتاوی عالمگیری میں ہے:
من أصابه برسام أو أطعم شيئاً فذهب عقله فهذي فارتد لم يكن ذلك ارتداداً وكذا لو كان معتوهاً أو موسوساً أو مغلوبا على عقله بوجه من الوجوه فهو على هذا كذا في السراج الوهاج. (هنديه مطبوعة مصر صفحه ۸۲ ج ۲).
اس عبارت میں لفظ موسوس اور لفظ بوجہ من الوجوہ قابل غور ہے، لیکن واقعہ مسئولہ عنہا میں نہ تو زوالِ شعور و زوالِ عقل کی تصریح ہے اور نہ میں واقعاتِ مذکورہ کی بنا پر زوالِ شعور کا ہونا صحیح سمجھتا ہوں کیونکہ صاحبِ واقعہ بحالتِ تکلم اپنی غلطی کا ادراک ہونا بیان کرتا ہے اور عذر میں صرف بے اختیاری، مجبوری، زبان کا قابو میں نہ ہونا ذکر کرتا ہے ۔ اس لیے میں صرف اسی بات کو ٹھیک سمجھتا ہوں وہ باوجود شعور و ادراک کے کلمہ کفریہ کہتا ہے، مگر بے اختیاری سے مجبوری سے اور عین تکلم کی حالت میں بھی اسے غلطی اور خلافِ عقیدہ سمجھتا ہے اور بعد الفراغ من التکلم بھی اس پر نادم ہوتا ہے، پریشان ہوتا ہے، روتا ہے، اسبابِ معلومہ (شرک، جنون، اکراہ، عتہ) کے علاوہ کبر سنی، مرض، مصیبت، غلبہ خوشی غلبہ حزن، فرط محبت وغیرہ بھی زوالِ عقل یا زوالِ اختیار کے سبب بن سکتے ہیں، اور جہاں زوالِ عقل یا زوالِ اختیار ہو وہاں حکمِ ردت ثابت نہیں ہو سکتا ۔
(۲) صحیح مسلم کی روایت میں آنحضرت ﷺ سے مروی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے گناہ گار بندے کے توبہ کرنے پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جیسے کہ ایک مسافر کا جنگل میں سامان سے لدا ہوا اونٹ گم ہو جائے اور وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ناامید ہونے کے بعد مرنے پر تیار ہو کر بیٹھ جائے اور اسی حالت میں اس کی آنکھ لگ جائے تھوڑی دیر کے بعد آنکھ کھلے دیکھے کہ اس کا اونٹ مع سامان اس کے پاس کھڑا ہے، اسی روایت میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اس شخص کی زبان سے غایت خوشی میں بے ساختہ یہ الفاظ نکل جاتے ہیں،
أنت عبدي وأناْ ربك.
یعنی خدا تعالیٰ کی جناب میں یوں بول اٹھا کہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا خدا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
خطا من شدة الفرح
، یعنی شدتِ خوشی کی وجہ سے اس سے خطاً یہ الفاظ نکل گئے ۔
اس حدیث سے صراحۃً ثابت ہو گیا کہ شدتِ فرح بھی زوالِ اختیار کا سبب ہو جاتی ہے، اور چونکہ آنحضرت ﷺ نے اس کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ الفاظ کفریہ کا یہ تکلم جو خطاً ہوا تھا جب کفر اور مزیل ایمان تھا، اس لیے آپ کے سکوت سے معلوم ہو گیا کہ الفاظ کفر کا تلفظ جو خطا کے طور پر ہو مثبت ردت نہیں ۔
(۳) صلح حدیبیہ کے قصے میں جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے ذکر کیا گیا ہے کہ جب صلح مکمل ہو گئی آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو حکم فرمایا کہ سر منڈا ڈالو اور قربانیاں ذبح کرو تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم بوجہ فرط حزن و غم کہ اپنی تمنا و آرزو کے خلاف خانہ کعبہ تک نہ جا سکے، ایسے بے خود ہوے کہ باوجود حضرت ﷺ کے مکرر و سہ کرر فرمانے کے کسی نے فرمانِ عالی کی تعمیل نہ کی، آپ غمگین ہو کر خیمے میں حضرت ا م سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے پریشانی کا سبب دریافت کیا اور عرض کیا کہ آپ باہر تشریف لے جا کر اپنا سر منڈا دیں اور کسی سے کچھ نہ فرمائیں، آپ باہر تشریف لائے اور حالق کو بلا کر اپنا سر منڈا دیا، جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے دیکھا تو ان کے ہوش و حواس بجا ہوے اور ایک دم ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے، اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ فرط حزن بھی موجب زوالِ اختیار ہو جاتا ہے، کیونکہ قصد و اختیار سے آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل نہ کرنے کا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی جانب وہم بھی نہیں ہو سکتا ۔
(۵) رسولِ خدا ﷺ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں عدل کی
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.