حدیث "فإذا قدمت فالكيس الكيس" کی تحقیق:

2 min readFatwa Vol 1 #155Urdu
Vol. 1كتاب الحديث والآثارآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

ایک حدیث کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا آپ سے مطلب پوچھنے سے جرأت کر رہا ہوں بخاری میں حضرت جابر رضي اللہ عنہ کی حدیث اور ان کا واقعہ ہے کہ اونٹ سست رفتار تھا پھر آنحضرت ﷺ کی توجہ اور دعا سے تیز رفتار بن گیا پھر رسول ﷺ نے دریافت فرمایا: تم نے شادی کی؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: دوشیزہ سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے کہا: شوہر دیدہ سے، پھر فرمایا: دوشیزہ سے نکاح کیوں نہیں کیا ؟ میں نے کہا کہ میری بہنیں رہ گئی ہیں میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو تجربہ کا ر ہے اور بہنوں کی نگرانی کر س کے گی ۔ پھر فرمایا: "
أما انك قادم فإذا قدمت فالكيس الكيس"
یعنی آنے کے بعد عقل سے کام لو
(بخاري ۱/۲۸۲).

حضور ﷺ کا فرمان: "
فالكيس الكيس"
عقل سے کام لو، اس کا کیا مطلب ہے؟

Answer

اس کے جواب میں علما نے کئی توجیہات ذکر فرمائی ہیں جن میں دو اہم ہیں:
مدینہ گھر جانے کے بعد طلبِ ولد کرو اور اس میں ہوشیاری سے کام لو یعنی جماع فی الحیض وغیرہ سے اجتناب کرو،
لیکن بندہ کے خیال میں بے تکلف توجیہ یہ ہے کہ جب گھر میں بیوی اور بہنیں اکٹھی ہو جائیں تو کبھی جھگڑے اور "تو تو میں میں" کی نوبت آ جاتی ہے تو حضرت جابر رضي اللہ عنہ کو تلقین فرمائی کہ آپ جانبداری اور طرف داری سے بچیں اور عقلمندی اور ہوشیاری سے کام لیں یعنی بیوی اور بہنوں میں توازن رکھنے کے لیے عقلمندی اور ہوشیاری کے پل صراط سے گزر نا پڑتا ہے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.