حدیث قرطاس سے متعلق حضرت عمر رضي الله عنه پر شیعہ کے اعتراضات:
Question
حدیثِ قرطاس میں حضرت عمر رضي اللہ عنہ پر شیعہ چار اعتراضات کرتے ہیں:
(۱)
انہوں نے وصیت کو رد کیا کیونکہ حضور ﷺ کا یہ کہنا کہ "قلم و کاغذ لاؤ" وصیت تھا ۔
(۲)
حضور کی ﷺ طرف ہجر (فضول گوئی) کی نسبت کی ۔
(۳)
حضور ﷺ کی آواز پر آواز بلند کیا اور
﴿لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي﴾
کے خلاف کیا ۔
(٤)
حدیث کا انکار کیا
"حسبكم كتاب الله"
کہا ۔ ان کے کیا جوابات ہیں؟
Answer
اشتد برسول الله ﷺ وجعه فقال ائتوني أكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده أبداً فتنازعوا ولا ينبغي عند النبي تنازع فقالوا ما شأنه أ هجر استفهموا يردون عنه الخ.
لما حضر رسول الله ﷺ وفي البيت رجال فقال النبي ﷺ هلمّوا أكتب لكم كتابا لا تضلّوا بعده فقال بعضهم إن رسول الله ﷺ قد غلبه الوجع وعندكم القرآن حسبنا كتاب الله فاختلف أهل البيت فاختصموا فمنهم من يقول قربوا يكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده ومنهم من يقول غير ذلك فلما أكثروا اللغو والاختلاف قال رسول ا ﷲ ﷺ قوموا الخ. (رواه البخاري: ۲/٦۳۸).
لما اشتد بالنبي ﷺ وجعه قال ائتوني بكتاب أكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده قال عمر رضي الله عنه أن النبي ﷺ غلبه الوجع وعند نا كتاب الله حسبنا فاختلفوا وكثر اللغط قال قوموا عني ولا ينبغي عندي التنازع الخ. (رواه البخاري كتاب العلم: ۱/۲۳).
پہلے اعتراض کا جواب:
اس اعتراض کے دو جوابات ہیں: ایک الزامی دوسرا تحقیقی ۔
(ألف)
الزامی جواب:
اگر کوئی شیعہ اس واقعہ سے وحی کی تردید کشید کر لے تو حضرت علی رضي اللہ عنہ سے بھی اس قسم کے واقعات ثابت ہیں ۔
فما هو جوابكم فهو جوابنا.
(۱)
حضور ﷺ جب مرض الموت میں تھے علی رضي اللہ عنہ سے فرمایا:
أن آتيه بطبق يكتب فيه ما لا تضل امته من بعده قال وخشيت أن تفوتني نفسه قال قلت أني أحفظ واعي قال أوصي بالصلاة والزكاة وما ملكت أيمانكم. (رواه أحمد في مسنده ۱/۹۰).
(۲)
جب حضور ﷺ نے حضرت علی رضي اللہ عنہ کو تہجد کے لیے اٹھایا تو فرمایا:
ما نصلي إلا ما كتب الله. (رواه النسائي: ۱/۲٤۰ باب الترغيب في قيام الليل).
(۳)
حدیبیہ کے وقت جب حضور
ﷺ
نے حضرت علی رضي اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کے لفظ کو مٹا دو تو انہوں نے انکار کیا ۔
صحيح البخاري باب عمرة القضاء (۲/٦۱۰) قال لعلي أمح رسول الله قال على لا والله لا أمحو.
(٤) وروى محمد بن بابويه في الأمالي والديلمي في إرشاد القلوب أن رسول الله ﷺ أعطي فاطمة رضي الله عنه سبعة دراهم وقال أعطيها عليا ومريه أن يشتري لأهل بيته طعاما فقد غلبهم الجوع فأعطتها عليا وقالت إن رسول الله ﷺ أمرك أن تبتاع لنا طعاما فأخذها على رضي الله عنه وخرج من بيته ليبتاع طعاما لأهل بيته فسمع رجلا يقول من يقرض الملي الوفي فأعطاه الدراهم. (تحفة اثنا عشرية ص ۵۹۵)
(ب)
تحقیقی جواب:
اصل بات یہ ہے کہ حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے وحی کو رد نہیں کیا بلکہ حضرت عمر
رضي الله عنه
نے مشورہ دیا اور یہ اجتہادی معاملہ تھا اور ایسے معاملہ میں حضور
ﷺ
ان کے مشورہ کو قبول فرمایا کرتے تھے جیسے ازواجِ مطہرات کے حجاب کے بارے میں وغیرہ ۔
لہذا یہ بھی انہوں نے بطور مشورہ بتایا ۔ اگر حضور ﷺ قبول نہیں کرنا چاہتے تھے تو رد فرماتے لیکن حضور ﷺ نے ان کی رائے قبول فرمائی ۔ اور اگر حضور ﷺ لکھوانا چاہتے تھے تو ضرور لکھواتے کیونکہ اس واقعہ کے بعد پانچ دن تک حضور ﷺ زندہ ر ہے لیکن آپ ﷺ نے اس کا تذکرہ بھی نہیں فرمایا ۔
حضرت عمر رضي اللہ عنہ حضور ﷺ کے لیے بمنزلہ وزیر و مشیر تھے پھر رسول اللہ ﷺ کبھی ان کے مشورہ کو قبول کرتے تھے اور کبھی نہیں ۔ مثلاً انہوں نے عبد اللہ بن ابی بن سلول کے قتل کا مشورہ دیا آپ ﷺ نے قبول نہیں فرمایا حاطب بن ابی بلتعہ رضي اللہ عنہ کے قتل کا مشورہ دیا آپ ﷺ نے قبول نہیں کیا مسجد میں اشعار کی ممانعت کی بات فرمائی اور قبول نہیں ہوئی لیکن اکثر ان کا مشورہ قبول کیا جاتا جیسے مقامِ ابراہیم کو مصلٰی بنانے کا مشورہ، منافقین پر جنازہ نہ پڑھنے کا مشورہ ۔ ازواجِ مطہرات کو پر دہ میں رکھنے کا مشورہ وغیرہ یہ سب مشورے قبول کیے گئے اس معاملہ میں بھی آپ ﷺ نے ان کا مشورہ قبول فرمایا اور کتابت کا ارادہ ترک فرمایا اور پانچ دن زندہ رہنے کے باوجود کتابت کا نام نہیں لیا ۔
قال عمر رضي الله عنه وافقت ربي في ثلاث في مقام إبراهيم وفي الحجاب وفي أسارى بدر. (صحيح البخاري: ۱/۵۸، باب ما جاء في القبلة، وصحيح مسلم: ۲/۲۷۹، باب فضائل عمر رضي الله عنه).
قال رسول الله ﷺ ما من نبي إلا وله وزيران من أهل السماء ووزيران من أهل الأرض فأما وزيراي من أهل السماء فجبرئيل وميكائيل وأما وزيراي من أهل الأرض فأبو بكر وعمر رضي الله تعالٰي عنهما. (أخرجه الترمذي، قبيل مناقب أبي حفص عمر بن الخطاب: ۲/۲۰۸).
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے آنحضرت
ﷺ
کے قول کو رد نہیں کیا بلکہ آرام و راحت اور تکلیف و رنج نہ اٹھانا آنحضرت ﷺ کا شدتِ بیماری میں ملحوظ رکھا اس معاملہ کو الٹا ردِ حکمِ پیغمبر
ﷺ
سمجھنا نہایت تعصب اور بغض ہے ہر کوئی اپنے بیمار عزیز کو محنت اٹھانے اور رنج پہنچنے سے بچاتا ہے ۔ اگر کسی وقت وہ بیمار حالتِ شدت درد و مرض میں حاضرین کی مصلحت و فائدہ کے واسطے خود ہی کچھ مشقت اٹھانا چاہتا ہے تو اس کو ٹال دیا جاتا ہے اور اپنی بے پر واہی جتاتا ہے کہ اس کی کچھ حاجت اور ضرورت نہیں ہے اور یہ معاملہ بزرگوں میں زیادہ تر مروج و معمول ہے ۔ (تحفہ اثنا عشریہ اردو، ص ۵۹۲).
فلوكان ما يكتبه في الكتاب مما يجب بيانه وكتابته لكان النبي ﷺ يبينه ويكتبه ولا يلتفت إلى قول أحد فانه أطوع الخلق له فعلم أنه لمّا ترك الكتاب لم يكن الكتاب واجبا ولا كان فيه من الدين ما تجب كتابته حينئذٍ إذ لو وجب لفعله ولو أن عمر رضي الله عنه اشتبه عليه أمر ثم تبين له أو شك في بعض الأمور فليس هو أعظم ممن يفتي ويقضي بأمور ويكون النبي ﷺ قد حكم بخلافها مجتهداً في ذلك. (منهاج السنة ۳/۱۳٦).
دوسرے اعتراض کا جواب:
صحیح احادیث میں کہیں نہیں ہے کہ عمر
رضي الله عنه
نے ہجر کی نسبت کی، روایتوں میں ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ کہا تھا (یعنی وہ لوگ جو کتابت کے متفق تھے) نیز یہ استفہامِ انکاری ہے یعنی آپ ﷺ ہجر اور ہذیان میں مبتلا ہوے ہر گز نہیں ۔ بخاری میں ایک جگہ یہ روایت آئی ہے چھ جگہ ہمزہ استفہام ہے ایک جگہ نہیں جہاں نہیں وہاں بھی استفہام مراد ہے ۔
حضرت عمر نے بہکی باتوں کی نسبت پیغمبر
ﷺ
کی طرف کی یہ بھی بے جا ہے اس واسطے کہ اول تو یہ کہاں سے یقینی ثابت ہو گیا کہ یہ لفظ "
أهجر استفهموه"
حضرت عمر
رضي الله عنه
ہی نے کہا اکثر روایتوں میں
"قالوا"
واقع ہے احتمال ہے کہ شاید جو لوگ کاغذات دوات لا نا تجویز کرتے ہوں انھوں نے اس قول سے اپنی بات کو تقویت دی ہو یا استفہام انکاری ہو ۔ (
تحفه اثنا عشريه ص ۵۹۷).
ومنها أن يكون "الهجر" في هذا الكلام بمعنى الفراق لا بمعنى الهذيان وقد صرح علماء اللغة بأن قولهم هجر يهجر يستعمل بمعنى الترك والمفارقة أيضا راجع تاج العروس، فالمراد "استفهموا رسول الله هل هو يفارقنا حيث أمرنا بكتابة وصيته". (تكملة فتح الملهم: ۲/۱٤۵).
یا مطلب یہ کہ "
اهجر استفهموه
" کیا کتابت کا ارادہ ترک کیا آپ ان سے پوچھ لیں ۔ یا یہ معنی ہے کہ کیا دنیا کو چھوڑنے والے ہیں ۔
تیسرے اعتراض کا جواب:
﴿لا ترفعوا أصواتكم﴾
کا مطلب یہ ہے کہ جب حضور
ﷺ
کلام فرما ر ہے ہیں تو آواز کو بلند مت کرو اور اس وقت حضور اکر م
ﷺ
خاموش تھے اور لوگ بلند آواز سے بات کر رہے تھے ۔ لہذا کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
اس لیے کہ آواز کا بلند کرنا یعنی چلانا آوازِ پیغمبر
عليه السلام
پر منع ہے اور اس قصے میں یہ بات کسی سے ظہور میں نہیں آئی نہ عمر رضي اللہ عنہ سے نہ غیر عمر رضي اللہ عنہ سے اور رفعِ صوت باہم خود آپ
ﷺ
کے سامنے بحثوں اور جھگڑوں میں ہمیشہ جاری و ساری تھی ۔ آپ نے اس کو ہر گز منع نہیں فرمایا، بلکہ قرآن کے اشارہ سے ان بحثوں کا جائز ہو نا معلوم ہوتا ہے اور یہ دو طرح سے، اول یہ کہ اس لفظ کے ساتھ فرمایا
﴿لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي﴾
اور یوں نہیں فرمایا: لا
ترفعوا أصواتكم فيما بينكم عند النبي،
دوسرا اس طرح کہ آیت کریمہ میں ہے
﴿كجهر بعضكم لبعض﴾
پس صریح معلوم ہوا کہ جہر بعض کا بعض پر جائز ہے ۔
اس کے علاوہ یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ پہلے عمر رضي اللہ عنہ نے رفع صوت کیا اور جھگڑے کے باعث ہوے، اسی حجر ہ میں تو ایک بڑی جماعت تھی اور بہت سے آدمیوں کی باتوں میں رفعِ صوت ضروری ہے ۔ (
تحفه اثنا عشريه ص ٦۰۰).
چو تھے اعتراض کا جواب:
حضرت عمر
رضي الله عنه
کا مطلب یہ تھا کہ
"حسبنا كتاب الله"
کتاب اللہ کا فی ہے عقیدہ، اخلاق، اصول اور اتحاد پیدا کرنے کے لیے ۔
﴿واعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا﴾
کی طرف اشارہ ہے ۔
ایک اور جواب جو زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضي اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ کتا ب اللہ کا لکھنا کا فی ہے اور حدیث کا لکھنا ضروری نہیں ہے ۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں قرآن لکھا جاتا تھا احادیث کے لکھنے کا زیادہ اہتمام نہیں تھا کا تبینِ وحی قرآن لکھنے والے تھے گویا قرآن کا لکھنا ضروری تھا تو معنی یہ
حسبنا كتاب الله
کہ قرآن لکھنے کی کتاب ہے اس کا لکھنا ضروری ہے اس وجہ سے حدیث میں کتاب اللہ کا لفظ آیا ہے قرآن کا لفظ نہیں آیا تھا کہ قرآن کی کتابت کی طرف اشارہ ہو جائے ۔
"حسبنا كتاب الله"
پھر مشقت اٹھانا آپ ﷺ کا اس وقت میں کیا ضرور ایسی بات کے واسطے جو چنداں ضروری نہیں ہے بہتر یہ ہے کہ راحت و آرام میں رہیں اور یہ لفظ "
إن رسول الله قد غلبه الوجع وعندنا كتاب الله حسبنا"
صریح اسی قصد پر گواہ ہے ۔ (
اثنا عشريه، ص ۵۹۳).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.