پاگل عورت سے زنا پر حد اور "لولا على لهلك عمر" کی مزید تحقیق:

4 min readFatwa Vol 4 #291Urdu
Vol. 4كتاب الحدود والقصاصباب (۱): حدود اور قصاص کا بیان

Question

ایک شخص نے ایک پاگل عورت کے ساتھ زنا کیا تو جہاں شرعی قانون نافذ ہو وہاں زانی اور زانیہ پر حد ہے یا نہیں؟ اور اس سلسلہ میں جو روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عمر رضي الله عنه نے ایک پاگل زانیہ کے رجم کا حکم فرمایا تھا، حضرت علی رضي الله عنه کی تنبیہ پر اپنا فیصلہ واپس لے لیا اس روایت کا کیا درجہ ہے ۔ فتاویٰ دار العلوم زکریا (۱/۳۵۷) پر اس کو بلا سند بتلایا ہے لیکن حضرت مولانا محمد یونس جونپوری سہارنپوری دام فضلہ نے اس کو الیواقیت الغالیہ (۲/۳۷۹) پر ثابت مان لیا ہے، فتاویٰ دار العلوم زکریا اور الیواقیت الغالیہ دونوں میں استیعاب ابن عبد البر کا حوالہ ہے اس تعارض کا کیا حل ہے؟

Answer

عاقل بالغ زانی پر شرعی ثبوت کے بعد حد زنا ہے لیکن پاگل عورت پر حد نہیں، "رفع القلم عن ثلاثۃ" میں مجنون شامل ہے ۔ عالمگیری میں ہے:

وإن زني صحيح بمجنونة أو صغيرة يجامع مثلها حد الرجل خاصة، وهذا بالإجماع كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية: ۲/۱٤۹).

اور حضرت عمر رضي الله عنه اور حضرت علی رضي الله عنه کے واقعہ کی تحقیق یہ ہے:

قال أحمد بن زهير، ثنا عبد الله بن عمر القواريري، ثنا مؤمل بن إسماعيل، ثنا سفيان الثوري عن يحيي بن سعيد عن سعيد بن مسيب قال: كان عمر رضي الله عنه يتعوذ بالله من معضلة ليس لها أبو الحسن، وقال في المجنونة التي أمر برجمها وفي التي وضعت لستة أشهر فأراد عمر رضي الله عنه رجمها فقال له على رضي الله عنه: إن الله تعالى يقول: ﴿وحمله وفصاله ثلاثون شهراً﴾ (الأحقاف. ۱۵)، الحديث. فكان عمر رضي الله عنه يقول: لولا على لهلك عمر. (الاستيعاب في معرفة الأصحاب لابن عبد البر: ۳/۱۱۰۲. ۱۱۰۳، بيروت).

حافظ ابن عبد البر رحمه الله نے سند کے ساتھ مذکورہ بالا عبارت لکھی ہے اور الحدیث لکھ کر پھر یہ جملہ لکھا
"فكان عمر يقول: لولا علي لهلك عمر"
ہمارا خیال یہ ہے کہ الحدیث پر سابقہ کلام ختم ہوا اور
"لولا علي لهلك عمر"
ما قبل متن کے تحت داخل نہیں اور حضرت شیخ محمد یونس دام فضلہ کی رائے میں یہ جملہ سابق متن میں شامل ہے، اگر یہ جملہ ما قبل میں شامل ہو تب بھی اس کی سند میں مؤمل بن اسماعیل ہے جو منکر الحدیث ہے اور ان کا متابع موجود نہیں اور جب ان کا متابع نہ ہو تو ان کی روایت قابل اعتماد نہیں ہوتی ۔
نیز حافظ ابن تیمیہ رحمه الله نے فرمایا کہ یہ زیادتی اس حدیث میں معروف نہیں ہے: "
إن هذه الزيادة ليست معروفة في هذا الحديث. (منهاج السنة: ٦/٤۵).

اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی یہ زیادتی اس حدیث کا جز نہیں ۔
الدکتور بشار عواد تحریر تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں:

مؤمل بن إسماعيل قال البخاري: منكر الحديث، واتفق أبو حاتم وابن سعد والنسائي عمل اليوم والليلة (۸۵) ويعقوب بن سفيان والدار قطني ومحمد بن نصر المروزي وغيرهم على أنه كثير الخطأ على الرغم من توثيقهم له في الجملة لكن من كثر خطؤه وجب مجانبة ما ينفرد به فيعتبر به في المتابعات والشواهد. (تحرير تقريب التهذيب: ۳/٤٤۲).

اس کے ساتھ ایک اور روایت بھی الاستیعاب میں موجود ہے:
"كان عمر يتعوذ من معضلة ليس لها أبوالحسن"
یعنی عمر رضي الله عنه اس مشکل واقعہ سے پناہ مانگتے تھے جس کے لیے حضرت علی رضي الله عنه موجود نہ ہو، لیکن اس کی سند میں بھی مؤمل بن اسماعیل ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.