حدیث "إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا بأهل القبور" کی تحقیق:
Question
"
إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا باهل القبور"
کی کیا حقیقت ہے اور یہ حدیث ہے یا نہیں؟
Answer
یہ حدیث موضوع ہے ۔ ملاحظہ ہو:
اقتضاء الصراط المستقيم
میں ہے:
ما يرويه بعض الناس من أنه قال: (إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا بأهل القبور) أو نحو هذا فهو كلام موضوع، مكذوب باتفاق العلماء. (اقتضاء الصراط المستقيم لا بن تيمية: ۲ /۱۹٦).
مجموع فتاوى ابن تيميه
میں ہے:
وإن كان بعض الناس من المشايخ المتبوعين يحتج بما يرويه عن النبي ﷺ أنه قال: (إذا أعيتكم الأمور فعليكم بأهل القبور أو فاستعينوا بأهل القبور) فهذا الحديث كذب مفتري على النبي ﷺ بإجماع العارفين بحديثه لم يروه أحد من العلماء بذلك ولا يوجد في شيء من كتب الحديث المعتمدة. (مجموع فتاوى ابن تيمية: ۱/۳۵٦).
نیز مذکور ہے:
ويروون حديثاً هو كذب باتفاق أهل المعرفة وهو (إذا أعيتكم الأمور فعليكم بأصحاب القبور) وإنما هذا وضع من فتح باب الشرك. (مجموع فتاوى ابن تيمية: ۱۱/۲۹۳).
مجموعۃ الفتاوی میں ہے:
"إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا بأصحاب القبور"
جب تم کسی کام میں پریشان ہو تو اہل قبور سے دریافت کرو یہ حدیث نہیں ہے، بلکہ کسی کا قول ہے اور اس کے تفصیلی معنی یہ ہیں کہ جب تمہیں کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے میں شبہ ہو تو اپنے اجتہاد پر عمل نہ کرو بلکہ ان قدماء کی جو اس وقت قبروں میں سو ر ہے ہیں تقلید کرو اور ہو سکتا ہے کہ یہ معنی ہوں جب تم دنیاوی امور میں پریشان ہو تو اصحابِ قبور پر نظر کرو جنھوں نے دنیا کو چھوڑ کر آخرت کا سفر اختیار کیا ہے اور تمہیں بھی یہ سفر کرنا اور اس دنیا کو چھوڑنا ہی پڑے گا، اور ہو سکتا ہے کہ یہ معنی ہوں جب تم اپنی مقصد برآری میں عاجز ہو جاؤ تو اصحابِ قبور کے وسیلہ سے اللہ تعالی سے دعا مانگو تاکہ ان کی برکت سے تمھاری دعا قبول ہو جائے نہ یہ کہ ان کو مستقل طور سے حلِ مشکلات یا تدابیر عالم میں اللہ کا شریک جانو کیونکہ یہ کھلا ہوا شرک ہے ۔ واللہ اعلم ۔ (معلّم الفقہ ترجمہ اردو مجموعۃ الفتاوی: ۱/۱۵۹، ۱٦۰) ۔
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
"إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا بأصحاب القبور"
کہ جب تم معاملات میں حیران ہو جاؤ تو اصحابِ قبور سے مدد حاصل کرو یہ حدیث نہیں ہے، بلکہ کسی بزرگ کا قول ہے اور اس کے مختلف معانی ہیں ایک یہ کہ جب تم بعض اشیاء کی حلت اور حرمت کے سلسلہ میں متعارض دلائل کی طرف نظر کرتے ہوے پریشان ہو جاؤ تو اپنا اجتہاد ترک کر دو اور ان حضرات کی تقلید کرو جو وفات پا گئے ہیں ( اور قبور میں جا پہنچے ہیں) اور یہ قول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ اور حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کے منقول قول کے زیادہ مشابہ ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ جب تم دنیاوی امور میں پریشان ہو جاؤ اور اس کی وجہ سے تمہارا دل تنگ ہو جائے تو تم اصحابِ قبور کو دیکھو کہ انہوں نے کس طرح دنیا ترک کر دی اور آخرت کی طرف متوجہ ہو گئے اور تم بھی جان لو کہ تمہارا بھی وہی (قبور) ٹھکانہ ہے جہاں وہ پہنچ چ کے ہیں اور اس کا علم تمہارے اوپر دنیا کی صعوبتوں اور شدائد کو آسان کر دے گا خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ قول استمداد (از اہل قبور) میں نص نہیں ہے ۔ (فتاوی عزیزی:
۱/۱۷۹).
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب فرماتے ہیں:
حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نہ تو یہ حدیث ہے اور نہ اس کا وہ معنی ہے جس کو قبر پر ست مراد لیتے ہیں حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے حضرت ابن مسعود رضي اللہ عنہ کے جس قول کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مشکوٰۃ
۱/۳۲)
میں: "
من كان مستناً فليستن بمن قد مات الخ"
کے الفاظ سے بحوالہ رزین منقول ہے ۔ (گلدستۂ توحید ص ۱۵۱) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.