مبیع میں استحقاق کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #96Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

بعض حضرات نے ایک زمین خریدی، پھر اس پر دیوار بنائی، لیکن شاہراہ کی جانب حکومت کا کچھ حصہ بھی شامل تھا، پھر اسی جانب کا حصہ فروخت کر دیا، فروخت کرنے سے قبل ہی میونسپلٹی کا ایک خط آیا تھا کہ شاہراہ کی جانب والا حصہ حکومت کی ملک میں ہے لہذا اسے توڑ کر اپنی حدود میں دیوار بنا لیجیے، لیکن مالکان نے توجہ نہیں دی، اور بیع کے وقت اس سے متعلق گفتگو کرنا بھی بھول گئے، اب مشتری کو دو اعتبار سے نقصان ہوا (۱) دیوار توڑ دی گئی اور دوسری مرتبہ بنانے میں کافی خرچہ ہوگا ۔ (۲) مزید براں ایک ہزار مربع میٹر زمین بھی چلی گئی جس کی قیمت ادا کی تھی ۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مشتری بائع سے دیوار بنانے کا خرچہ وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟ نیز ہزار مربع میٹر زمین کی قیمت کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

(۱) بائع منقوضہ دیوار کا ذمہ دار نہیں ہے، بلکہ مشتری اپنی حفاظت کے لیے اپنے خرچہ سے دیوار بنا لے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سابقہ دیوار بیع میں شامل نہیں تھی، کیوں کہ بیع فقط زمین کی ہوئی تھی، دیوار مقصود نہیں تھی بلکہ زمین کے تابع تھی، اور ثمن اصل کے مقابل ہوتا ہے ۔
والثمن يكون في مقابلة الأصل، لا في مقابلة الوصف والتابع
۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ومن اشتري ثوباً على أنه عشرة أذرع بعشرة أو أرضاً على أنها مأة ذراع بمأة، فوجدها أقل، فالمشتري بالخيار: إن شاء أخذها بجملة الثمن، وإن شاء ترك لأن الذراع وصف في الثوب، ألا تري أنه عبارة عن الطول والعرض والوصف لا يقابله شيء من الثمن كأطراف الحيوان فلهذا يأخذه بكل الثمن. (الهداية: ۳/۲۳). ثم أشار فيما بعد أن الوصف هو التابع
۔

وفي الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: قال: الوصف ما يدخل تحت البيع بلا ذكر كالشجار والبناء في الأرض، والأطراف في الحيوان والجودة في الكيلي والوزني. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/۱۰٦، ط: دمشق).

(۲) ایک ہزار میٹر زمین جو حکومت نے لے لی مشتری بائع سے اس کی قیمت واپس لے سکتا ہے، اور بائع بھی پہلے بائع پر رجوع کر سکتا ہے ۔
ہدایہ میں ہے:

ولو تداولته الأيدي ثم قطع في يد الأخير، رجع الباعة بعضهم على بعض عنده كما في الاستحقاق

وقوله في الكتاب: ولم يعلم به المشتري يفيد على مذهبهما، لأن العلم بالعيب رضاء به، ولا يفيد على قوله في الصحيح، لأن العلم بالاستحقاق لا يمنع الرجوع. (الهداية: ۳/٤۸، باب خيار العيب).
وفي شرح المجلة نقلاً عن جامع الفصولين: شراه عالماً بأنه ليس لبائعه ثم استحق، رجع بثمنه. (شرح المجلة للأتاسي: ۱/٤٦۲).
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: يحرم شراء الشيء المستحق عند العلم بالاستحقاق، فإن حصل البيع مع علم المشتري بالاستحقاق فللمشتري الرجوع بالثمن على البائع عند الاستحقاق إذا ثبت بالبينة. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ٤/۸۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.