ہنڈی یا بل آف ایکسچینج پر کٹوتی لگانے کا حکم:
Question
زید نے عمر سے ایک لاکھ رینڈ کا سامان خریدا اور دونوں نے دو ماہ بعد قیمت کی ادائیگی پر اتفاق کیا اور چیک پر دستخط ہوئے جس کو عمر دو ماہ بعد ہی وصول کر سکتا ہے لیکن عمر جو بائع ہے اس کو رقم کی فی الفور ضرورت ہے تو وہ بکر یا بینک کو وہ بل یا چیک ۹۸ ہزار میں فروخت کرتا ہے اور دو ماہ بعد بکر کو ایک لاکھ رینڈ ملیں گے، کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟
بينوا توجروا.
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ سودی معاملہ ہے کیوں کہ بکر یا بینک نے ۹۸ ہزار دیے اور بعد میں ایک لاکھ وصول کرے گا، ہاں اگر کوئی شدید ضرورت ہو تو عمر بکر کو یا بینک کو ۹۸ ہزار کے عوض کوئی سامان فروخت کرے اور ۹۸ ہزار وصول کر لے پھر یہی سامان مشتری قبضہ کرنے کے بعد واپس عمر کو ایک لاکھ میں دو ماہ مؤجل پر فروخت کرے یہ ایک حیلہ و تدبیر ہے، ضرورت کے وقت اختیار کرنے کی گنجائش ہے ۔
مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: (جدید معاملات کے شرعی احکام، جلد اول، ص۱٤۷، بعنوان: بل کو کٹوتی کے ساتھ فروخت کرنا ۔ واسلام اور جدید معیشت و تجارت، ص۱۲۳ ۔ اسلام اور جدید معاشی مسائل: ۷/۲۵۱، بل آف ایکسچینج ۔ و غرر کی صورتیں، ۳۳٤ ۔ ۳۳۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.