بچے کی رقم اس کے اخراجات میں لگانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #279Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

ایک شخص کے نابالغ لڑکے کو کسی نے یا خود والد نے کچھ رقم ہبہ کر دی، اس رقم سے اس بچے کے لیے کپڑے وغیرہ خرید سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا بچے کے اخراجات والد خود اپنی طرف سے برداشت کرے گا؟

Answer

بصورتِ مسئولہ بچہ کے پاس جب رقم موجود ہو تو والد اس رقم سے اس کے اخراجات پورے کر سکتا ہے، لیکن والد بچے کی رقم کو فضولیات میں خرچ نہیں کر سکتا، بچوں کے اموال میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

فإن نفقة المملوك على مالكه والغني في ماله الحاضر. وفي الشامية: قوله في ماله الحاضر، يشمل العقار والأردية والثياب، فإذا احتيج إلى النفقة كان للأب بيع ذلك كله وينفق عليه لأنه غني بهذه الأشياء بحر، وفتح. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/٦۱۲، سعيد).
وفي البحر الرائق: الصغير إذا كان له مال فنفقته في ماله. (البحر الرائق: ٤/۲۰۱، كوئته).
وفي الفتاوى الهندية: إرضاع الصغير إذا كان يوجد من ترضعه إنما يجب على الأب إذا لم يكن للصغير مال وأما إذا كان له مال فتكون مؤنة الرضاع في مال الصغير كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٦۰).

امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: نابالغ بچوں کو ان کے نانا یا دادا کچھ عطا کریں تو اس عطا کو بچوں کے ماں باپ ان بچوں پر کس طرح سے صرف کریں، اگر روٹی کپڑے میں صرف کیا جائے تو یہ ماں باپ کے ذمہ ہے، تاوقتیکہ بالغ ہوں، تو اس عطا کو امانۃً جمع کریں بلوغ تک یا شیرینی و بالائی میں خرچ کر دیویں، کیا صورت کریں؟
الجواب:
في الدر المختار: ولطفله الفقير الحر لأن نفقة المملوك على ملكه والغني في ماله الحاضر،
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جو نابالغ مالک کسی مال کا ہوا اول نفقہ اسی مال میں ہوگا، مال کے ہوتے ہوئے باپ پر واجب نہ ہوگا پس صورتِ مذکورہ میں یہ عطیات اس نابالغ کے ضروری نفقات میں صرف کر دیے جائیں۔ (امداد الفتاوی: ۳/٤۸۰، کتاب الہبہ)۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
اگر اولاد خواہ لڑکا ہو یا لڑکی وہ مال دار ہوں یعنی کسی طور پر ان کی ملک میں مال آ گیا ہو خواہ بطورِ ہبہ کے یا بطورِ میراث کے، سو اس حالت میں ان کا نان و نفقہ خود ان کے مال میں واجب ہے والدین کے ذمہ صرف انتظام کرنا ہے۔ (امداد الفتاوی: ۲/۵۳۳)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.