اجارہ منسوخ کرنے پر رقم ضبط کر لینے کا حکم:
Question
ایک شخص اتوار کے دن شادی ہال کو بُک کراتا ہے اور رقم کا کچھ حصہ پیشگی ادا کر دیتا ہے، پھر اگر کسی وجہ سے وہ ایک یا دو دن پہلے منسوخ کرتا ہے تو اس کی ادا کردہ رقم میں سے کچھ حصہ ضبط کر لیا جاتا ہے، کیا ایسا کرنا درست ہے؟
Answer
رقم کو ضبط کرنا بیع عربون کے مشابہ ہے اور یہ ناجائز ہے، البتہ اگر شادی ہال والے بکنگ کے لیے کچھ فیس مقرر کر لیں اور وہ رقم ناقابل واپسی ہو مثلاً سو رینڈ بکنگ کے لیے طے کر لیں اور کاغذی کاروائی، ٹیلی فون کا خرچہ، دفتر کا خرچہ وغیرہ اس سے پورا کیا جاتا ہو تو یہ رقم واپس نہیں ہو گی، جیسے بچے کے داخلہ کی فیس ہوتی ہے جو ناقابل واپسی ہوتی ہے ۔
بیع عربون کی تفصیلی بحث کتاب البیوع میں گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔
داخلہ فیس کے جواز کے دلائل ملاحظہ ہو: (امداد الاحکام: ۳/۵٦٦، ٦۰٦ ۔ و امداد الفتاوی: ۳/٤۰۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.