عقار کے غصب کا حکم:
Question
میں ایک کمزور آدمی ہوں میری ایک زمین پر ایک بد معاش آدمی نے قبضہ کر لیا اور پانچ سال تک اپنے قبضہ میں رکھا، اس عرصہ میں تین سال تک اس نے خود فائدہ اٹھایا اور دو سال زمین کو کرایہ پر دیا اور کرایہ وصول کیا، الغرض مختلف ذرائع استعمال کرا کے زمین اس کے قبضہ سے واپس لے لی گئی ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس عرصہ کا تاوان اس پر لازم ہوگا یا نہیں؟ یاد رہے کہ اس مدت میں زمین کی قیمت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ زمین کے غصب کی وجہ سے اگر زمین کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے تو کوئی تاوان غاصب پر واجب اور لازم نہیں ہے، البتہ مدتِ استعمال کی اجرت طلب کرنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو شرحِ مجلہ میں ہے:
إن الغصب على ضربين، ما هو موجب للضمان فيشترط له إزالة اليد المحقة، وما هو موجب للرد فيشترط له إزالة إثبات اليد المبطلة. وأن الحد المذكور في تلك المادة إنما هو للضرب الثاني فباعتباره يتحقق الغصب في العقار اتفاقاً بين أئمتنا الثلاثة، إذ لا خلاف بينهم في وجوب الرد، بل وفي جميع ما عدا حكم الضمان من أحكام الغصب.
نعم الخلاف بينهم في حكم الضمان لو هلك بآفة سماوية، فالإمامان اشترطا لتحقق الغصب الموجب للضمان أن يكون المغصوب منقولاً، لأنه يشترط لذلك إزالة اليد المحقة كما علمت، وهذه الإزالة لا تتحقق إلا بنقل المغصوب من مكانه إلى مكان آخر، وهذا لا يمكن في العقار.
وقال محمد رحمه الله: إن استيلاء الغاصب على العقار المغصوب قائم مقام الإزالة، فيكون مضموناً بالهلاك، وقولهما مشت عليه المتون، وعليه الفتوى إلا في عقار الوقف واليتيم والمعد للاستغلال، فإن الفتوى فيها على قول محمد رحمه الله بالضمان. (شرح المجلة: ۳/٤۳۸، للأتاسي).
عالمگیری میں ہے:
وسئل شيخ الإسلام عطاء بن حمزة عمن زرع أرض إنسان ببذر نفسه بغير إذن صاحب الأرض هل لصاحب الأرض أن يطالبه بحصة الأرض قال: نعم إن جري العرف في تلك القرية أنهم يزرعون الأرض بثلث الخارج أو ربعه أو نصفه أو بشيء مقدر شائع يجب ذلك القدر الذي جري به العرف. (الفتاوى الهندية: ۵/۱٤٤).
تنقيح الفتاوى الحامدية
میں ہے:
فالحاصل أن من زرع أرض غيره بلا إذنه ولو على وجه الغصب فإن كانت الأرض ملكاً وأعدها ربها للزراعة اعتبر العرف في الحصة إن كان ثمة عرف وإلا فإن أعدها للإيجار فالخارج كله للزارع وعليه أجر مثلها لربها وإلا فإن انتقصت فعليه النقصان وإلا فلا شيء عليه. (تنقيح الفتاوى الهندية: ۲/۱۷۲).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
شرعاً کسی کا مال غصب کرنا اور اس سے انتفاع حاصل کرنا حرام ہے زمانہ غصب میں جو کچھ مغصوبہ سے حاصل ہوا ہو وہ مغصوب منہ کا حق ہے، بنا بریں مغصوب منہ مغصوبہ زمین کی جملہ پیداوار کا مطالبہ کر سکتا ہے، اسی طرح مغصوبہ زمین کی بازیابی کے بعد مساجد اور دیگر رفاہِ عامہ کے کاموں پر خرچ کی ہوئی رقم کی واپسی کا بھی مطالبہ کر سکتا ہے، مگر علاقے کے عرف کے مطابق غاصب کو اجرِ مزارعت دینا لازم ہوگا ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۲/۱۰٦، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.