مکسورۃ القرن جانور کی قربانی کرنے جاحکم:

3 min readFatwa Vol 6 #128Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

آج کل کسانوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ وہ جانوروں کے سینگ جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے یہاں بڑی تعداد میں جانور رکھے جاتے ہیں، اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے، خصوصاً مذبح کی طرف لے جانے میں بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تو کیا ایسے بے سینگ جانوروں کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

Answer

جن جانوروں کے سینگ بالکل نہ ہوں یا ٹوٹ گئے ہوں ان کی قربانی درست ہے ہاں اگر سینگ جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں یا جڑ سے اکھاڑ دیے گئے ہوں اور اس کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو تو ایسے جانوروں کی قربانی جائز اور درست نہیں ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وتجزئ الجماء وهي التي لا قرن لها خلقة وكذا مكسورة القرن تجزئ لما روي أن سيدنا علياً رضي الله عنه سئل عن القرن فقال: لا يضرك، أمرنا رسول الله ﷺ أن نستشرف العين والأذن وروي أن رجلاً من همذان جاء إلى سيدنا على رضي الله عنه فقال: يا أمير المؤمنين البقرة عن كم قال: عن سبعة ثم قال: مكسورة القرن قال: لا ضير

إلى قوله: فإن بلغ الكسر المشاش لا تجزيه والمشاش رؤوس العظام مثل الركبتين والمرفقين. (بدائع الصنائع: ۵/۷٦، سعيد). (وكذا في رد المحتار: ٦/۳۲۳، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/۲۹۷).

فتاوی بینات میں ہے:
اگر کسی جانور کے سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ چکے ہوں، اس طور پر کہ دماغ اس سے متاثر ہوا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں اور اگر معمولی ٹوٹے یا سرے سے سینگ ہی نہیں ہیں، جیسے اونٹ کے تو بلا کراہت جائز ہے ۔ (فتاوی بینات، جلدِ چہارم، ص ۵٦۲، از قلمِ حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ) ۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
سینگ ٹوٹ چکا ہے لیکن بنیادی جڑ باقی ہے، ابھری ہوئی ہڈی نظر آتی ہے تو اس کی قربانی درست ہے ورنہ نہیں ۔ (فتاوی بینات: ٤/۵۷۱، از قلمِ مفتی عبد السلام صاحب) ۔
فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ ہدایہ اور حجۃ اللہ البالغہ کی عبارات میں تطبیق دینے کے بعد رقم طراز ہیں:
الحاصل: تین چیزیں الگ الگ ہیں: (۱) جماء: جس کے پیدائشی سینگ نہیں ۔ (۲) مکسورہ: جس کا سینگ ٹوٹ گیا ہو ۔ (۳) اعضب: جس کا سینگ جڑ سے اکھڑ گیا ہو ۔ پہلی دوکی قربانی درست ہے، اخیر کی درست نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۷/۳۷۸، جامعہ فاروقیہ) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۰۹ ۔ ٤۱۰، مکتبۃ الاحسان دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.