غیر مرید الاضحیہ کے لیے امساک کا حکم:

15 min readFatwa Vol 6 #158Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

اگر کوئی شخص عید الاضحی میں قربانی نہیں کرنا چاہتا ہے تو عید کے دن صبح سے اس کے لیے کچھ نہ کھانا مستحب ہے یا نہیں؟ اگر عید کے دن وہ دوسرے کی قربانی سے کچھ کھا لے تو کیا استحباب پر عمل ہو جائے گا یا نہیں؟

Answer

مسئلہ بالا میں علماء کا اختلاف ہے، تاہم احتیاط اس میں ہے کہ جن لوگوں کے پاس قربانی کی وسعت نہیں ہے، یا وہ دوسری جگہ قربانی کراتے ہیں ان کے لیے بھی امساک بہتر ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قوله ويندب تأخير أكله عنهما أي يندب الإمساك عما يفطر الصائم من صبحه إلى أن يصلي وإن لم يضح في الأصح

قوله في الأصح، وقيل لا يستحب التأخير في حق من لم يضح، بحر. (فتاوى الشامي: ۲/۱۷٦، سعيد).
وفي حاشية اللامع للشيخ زكريا رحمه الله: والتعليل ببداية الأكل من أضحيته يؤيد تقييد الندب بمن له أضحية والتعليل بموافقة المساكين أو اتباع فعله ﷺ أو إطلاق لفظ الصوم على هذا اليوم في بعض الروايات يؤيد العموم. (حاشية اللامع: ۲/۳۹).

تبیین الحقائق میں ہے:

(وهي أحكام الأضحى)

(لكن يؤخر الأكل عنها) لما روي أنه عليه الصلاة والسلام كان لا يطعم في يوم الأضحى حتى يرجع فيأكل من أضحيته. وقيل هذا في حق من يضحي ليأكل من أضحيته أولاً أما في حق غيره فلا. (تبيين الحقائق: ۱/۲۲٦، إمدادية، ملتان).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
البحر الرائق: ۲/۱٦۳، ومجمع الأنهر: ۱/۱۷٤، التراث، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۳۵۵، وحاشية الطحطاوي مراقي الفلاح، ص ۵۳٦، قديمي، وفتاوى محموديه: ۱۷/٤۸۵، فاروقيه، وأحسن الفتاوى: ۷/۵۲۰

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
قربانی سے متعلق چند متفرق مسائل
سوال: خارش والے جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اگر خارش کا اثر گوشت تک نہ پہنچتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور جلدی بیماری میں بھی یہی تفصیل ہے ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر: ٤/۱٦۵، و تبیین الحقائق: ٦/۵، امدادیہ، ملتان، و فتاوی قاضيخان: ۳/۳۵۳، و فتاوی بینات: ٤/۵۷۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: رات کو قربانی ذبح کرنے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ کی رات کو قربانی کرنا جائز ہے لیکن رگوں کے صحیح طور پر نہ کٹنے کے امکان کی وجہ سے کراہت ہے، اگر بجلی کی اچھی روشنی ہو تو پھر کراہت نہیں ہو گی ۔ (فتاوی الشامی: ٦/۳۲۰، سعید، و بدائع الصنائع: ۵/٦۰، سعید، و عالمگیری: ۵/۲۹٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: کیا دوسرے شخص سے قربانی ذبح کرانا درست ہے؟
الجواب: خود ذبح کرنا بہتر ہے اگر خود نہیں جانتا یا عادت یا ہمت نہیں تو دوسرے سے ذبح کرا سکتا ہے ہاں وہاں حاضر رہنا بہتر ہے ۔ (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۲۸، سعید، و تبیین الحقائق: ٦/۹، امدادیہ، ملتان، و تکملۃ البحر الرائق: ۸/۱۷۹، کوئٹہ، و عالمگیری: ۵/۳۰۰) ۔
اگر یا دہو تو ذبح سے پہلے حسبِ ذیل دعا پڑھنا بہتر ہے:

"إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفاً وما أناْ من المشركين".
"إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العلمين، لا شريك له وبذلك أمرت وأناْ من المسلمين". اللهم منك ولك.
پھر "
بسم الله، والله أكبر"
پڑھ کر ذبح کرے، اور ذبح کے بعد یہ دعا پڑھے: "
اللهم تقبل مني كما تقبلت من حبيبك محمد وخليلك إبراهيم عليهما الصلاة والسلام".

دلائل کے لیے درجِ ذیل کتبِ حدیث و فقہ ملاحظہ فرما لیں: (ابو داود شریف، رقم: ۲۷۹۵، و ابن ماجہ، رقم: ۳۱۲۱، و مسند احمد، رقم: ۳/۳۷۵، و سنن الدارمی، رقم: ۱۹٤٦، و صحیح ابن خزیمہ، و مسلم شریف: ۲/۱۵٦، ط: قدیمی، و مستدرک حاکم، و بدائع الصنائع: ۵/۷۹، سعید، و الجوہرۃ النیرۃ: ۲/۲۸٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: ایک شخص نے قربانی کا جانور خریدا یا اس میں ایک حصہ لیا پھر اس کا انتقال ہوا تو جانور کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اگر دس ذوالحجہ سے قبل انتقال ہوا تو اس سے قربانی ساقط ہوئی اب اگر سب وارث چاہیں تو اس جانور کو مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے ذبح کر سکتے ہیں ۔ (تحفۃ الفقہاء: ۳/۸۲، و فتاوی الشامی: ٦/۳۲٦، سعید، و بدائع الصنائع: ۵/۷۲، سعید، و المبسوط: ۱۲/۱۲)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: دے سکتے ہیں البتہ مسلمان فقراء کو دینا اولی اور بہتر ہے ۔ (اعلاء السنن: ۱۷/۲۵۸، و طحطاوی علی الدر: ٤/۱٦٦، و عالمگیری: ۵/۳۰۰)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر کوئی شخص قربانی کا گوشت پکا کر فروخت کرتا ہے تو کیا حکم ہے؟
الجواب: ایسا کرنا ہرگز جائز نہیں اور اگر ایسا کیا تو اس کی قیمت کو صدقہ کرنا لازم ہے ۔ (بدائع الصنائع: ۵/۸۱، سعید، و خلاصۃ الفتاوی: ٤/۳۲۲، و الجوہرۃ النیرۃ: ۲/۲۸٦، و اعلاء السنن: ۱۷/۲۵۸)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: قربانی کی کھال کسی مالدار کو دے سکتے ہیں؟
الجواب: دے سکتے ہیں ۔ (ہدایہ: ٤/٤۵۰، و فتاوی الشامی: ٦/۲۳۷، سعید، و فتاوی بزازیہ: ٦/۲۹٤)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر پانچ آدمیوں نے بڑے جانور میں قربانی کی نیت کی، اور ایک آدمی نے دو حصے عقیقے کے رکھے تو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے ۔ (فتاوی الشامی: ٦/۳۲٦، سعید، و تبیین الحقائق: ٦/۷، امدادیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: جس جانور کے خصیتین کاٹ دیے گئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ بھی خصی کی ایک قسم ہے اس کی قربانی جائز ہے ۔ (ہدایہ: ٤/٤۴۸، و بدائع: ۵/۸۰، سعید)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر دنبہ یا بکرا بقر عید کے دن پیدا ہوا ہو تو دوسرے سال بقر عید میں اس کی قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: اگر ۱۰ ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب کے وقت پیدا ہوا ہو تو دس ذوالحجہ کو اس کی پیدائش کے وقت سے پہلے اس کی قربانی جائز نہیں اور گیارہ ذوالحجہ کو اس کی قربانی کر سکتے ہیں، غرض یہ کہ سال پورا ہونے کا اعتبار ہے دو دانت کا اعتبار نہیں ہاں اگر لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہوں تو احتیاطاً دو دانت کا اعتبار کر لیا جائے۔
حاصل یہ ہے کہ اگر بقر عید میں ۱۰ ذی الحجہ کو صبح ۹ بجے کوئی جانور پیدا ہوا تو ۹ بجے کے بعد اس کی قربانی جائز ہے ۔ (بدائع الصنائع: ۵/۷۰، سعید، و عالمگیری: ۵/۲۹۷، و ہدایہ: ٤/٤۴۹، و فتاوی قاضيخان: ۳/۳۴۸، و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۵/٤۳۸)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: جانور کے دانت گر گئے ہیں کیا اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر سب دانت گر گئے ہوں اور گھاس نہ کھا سکتا ہو تو ناجائز ہے، اور اگر اکثر سلامت ہوں اور چارہ کھا سکتا ہو تو قربانی جائز ہے ۔ (ہدایہ: ٤/٤۴۸، و بدائع الصنائع: ۵/۷۵، سعید، و تبیین الحقائق: ٦/٦، امدادیہ، ملتان، و خلاصۃ الفتاوی: ٤/۳۲۰، و الفتاوی البزازیہ: ٦/۲۹۳، و احسن الفتاوی: ۷/۵۱٤)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: جانور کے کان بالکل کٹے ہوں تو قربانی جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر بالکل جڑ سے کٹے ہوئے ہوں یا ایک تہائی یا اس سے زائد کٹے ہوں تو قربانی ناجائز ہے ۔ (ابو داود شریف: ۲/۳۲، و ابن ماجہ شریف، ص: ۲۲۷، و ہدایہ: ٤/٤۴۷، و مبسوط: ۱۲/۱۵، و عالمگیری: ۵/۲۹۸، و بدائع الصنائع: ۵/۷۵، سعید، و الجوہرۃ النیرۃ: ۲/۲۸٤)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: شہر یا قصبہ میں ایک جگہ عید کی نماز ہوئی لیکن صاحبِ قربانی نے اب تک نہیں پڑھی تو قربانی جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جب ایک جگہ نماز ہو گئی تو قربانی جائز ہے ۔ (الفتاوی الہندیۃ: ۵/۲۹٦، و الفتاوی التاتارخانیۃ: ۱۷/٤۱۹، و المحیط البرہانی: ٦/٤۷۵)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: ہماری بستی میں بقر عید کے دن ایکسیڈنٹ کا حادثہ ہوا اس میں متعدد لوگ مر گئے اس کی وجہ سے عید کی نماز نہیں ہو سکی، قربانی بغیر عید کی نماز کے جائز ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ بستی میں کسی جگہ نماز نہیں ہوئی ۔
الجواب: بقر عید کے دن زوال کے بعد قربانی ہو سکتی ہے، نماز دوسرے دن پڑھ لیں گے، یعنی نماز کا وقت ختم ہونے کے بعد قربانی ہو سکتی ہے، نیز صورتِ مسئولہ میں دوسرے دن بھی نماز سے قبل قربانی ہو سکتی ہے ۔ نیز چھوٹی بستی میں جہاں عید کی نماز واجب نہ ہو ۱۰ ذوالحجہ کو طلوعِ فجر ہوتے ہی قربانی ہو سکتی ہے ۔ (بدائع الصنائع: ۵/۷۳، سعید، و تبیین الحقائق: ٦/٤، امدادیہ، و فتاوی قاضيخان: ۳/۳۴۵، و فتاوی الشامی: ٦/۳۱۸، سعید)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر بڑے جانور میں دو یا تین آدمی شریک ہوں تو قربانی درست ہے یا نہیں؟
الجواب: درست ہے کیوں کہ کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہیں، ساتویں حصہ سے کم ہو تو جائز نہیں، مثلاً ایک شخص کا انتقال ہوا اور تین لڑکے اور بیوی رہ گئی اور وراثت میں فقط گائے ہے ان سب نے مشترکہ گائے میں قربانی کی نیت کی تو صحیح نہیں کیوں کہ بیوہ کا حصہ اس میں آٹھواں ہے ۔ (فتاوی الشامی: ٦/۳۱٦، سعید، و فتاوی قاضيخان علی ہامش الہندیۃ: ۳/۳۵۱، و حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار: ٤/۱٦۱، و خلاصۃ الفتاوی: ٤/۳۱۵، و شرح العنایۃ علی ہامش تکملۃ فتح القدیر: ۹/۵۱۰، دار الفکر)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: رسولی والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے ۔ (فتاوی قاضيخان علی ہامش الہندیۃ: ۳/۳۵۳، و فتاوی الشامی: ٦/۳۲۳، سعید، و تبیین الحقائق: ٦/۵، ط: امدادیہ، و فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۰۹)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر جانور کی زبان نہ ہو یا ایک تہائی سے زائد کٹ گئی ہو تو کیا حکم ہے؟
الجواب: جائز نہیں کیوں کہ وہ زبان سے چارہ لیتی ہے ۔ اور بکری میں یہ عیب نہیں کیوں کہ وہ دانتوں سے چارہ لیتی ہے ۔ (خلاصۃ الفتاوی: ٤/۳۲۰، و حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار: ٤/۱٦۵، و فتاوی ہندیہ: ۵/۲۹۸، و فتاوی تاتارخانیہ: ۱۷/ ٤۲۸، مکتبہ زکریا دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: سات آدمیوں نے سات دنبے خریدے اور ہر ایک نے نشان لگائے بغیر ذبح کیے تو قربانی ہو گئی یا نہیں؟
الجواب: ہاں سب کی قربانی ہو گئی ۔ (الفتاوی الہندیۃ: ۵/۳۰٦، و امداد الفتاوی: ۳/۵٦۲)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: قربانی کی نیت سے جانور خریدا بعد میں کسی وجہ سے اس کو بیچ کر دوسرا خریدا تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: اس کی گنجائش ہے لیکن اگر دوسرا جانور کم قیمت ہو تو زائد قیمت کو صدقہ کر لے ۔ (فتاوی الشامی: ٦/۳۲٦، سعید، و بدائع الصنائع: ۵/۷۸، سعید، و تکملۃ فتح القدیر: ۹/۵۲۰، دار الفکر، و فتاوی قاضيخان علی ہامش الہندیۃ: ۳/۳٤۷، و تبیین الحقائق: ٦/۱۰، امدادیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: میت نے قربانی کی وصیت کی اور ورثہ نے میت کے ایک تہائی مال میں سے وصیت پوری کر کے قربانی کر لی تو اب گوشت کا کیا حکم ہے؟
الجواب: پورا گوشت صدقہ کر دینا واجب ہے ۔ (شرح منظومہ ابن وہبان: ۲/۱٤۸، و فتاوی شامی: ٦/۳۳۵، سعید، و اعلاء السنن: ۱۷/۲٦۹، و خلاصۃ الفتاوی: ٤/۳۲۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر ایک میت یا کئی اموات کے ایصالِ ثواب کے لیے قربانی کی تو اس قربانی کے گوشت کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اس قربانی کا گوشت واجب التصدق نہیں ہے، خود کھائے یا دوسروں کو دے، یعنی اس کا حکم اپنے جانور کی قربانی کی طرح ہے ۔ (اعلاء السنن: ۱۷/۲٦۹، و فتاوی الشامی: ٦/۳۳۵، سعید، و فتاوی قاضيخان علی ہامش الفتاوی الہندیۃ: ۳/۳۵۲، و خلاصۃ الفتاوی: ٤/۳۲۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر ایک شخص نے پوری گائے کی قربانی کی تو ایک حصہ واجب اور باقی نفل ہے یا پوری گائے واجب میں شمار ہے؟
الجواب: پوری گائے واجب میں شمار ہے ۔ اور واجب اور فرض کا ثواب نفل سے زیادہ ہے لہذا اس کو زیادہ ثواب ملے گا ۔ (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۳۳، سعید، و حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار: ٤/۱٦۸، و فتاوی قاضيخان علی ہامش الفتاوی الہندیۃ: ۳/۳۵۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: ایک شخص نے کئی برس سے قربانی نہیں کی حالانکہ مالدار تھا اب اس کی تلافی کیسے کرے؟
الجواب: گزشتہ سالوں کی قربانیوں کی قیمت دے دے، اور سچے دل سے توبہ کرے ۔ (فتاوی الشامی: ٦/ ۳۲۰، سعید، و تبیین الحقائق: ٦/۵، امدادیہ، و بدائع الصنائع: ۵/٦۸، سعید) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: ایک شخص نے قربانی خریدنے کے بعد اس کا دودھ نکالا تو اس کے ساتھ کیا کرے؟
الجواب: اس کو صدقہ کر دے اگر اون اور پشم کاٹا تو اس کا بھی یہی حکم ہے ۔ البتہ اگر گھاس وغیرہ خود خرید کر کھلاتا ہے تو پھر استعمال کرنے کی گنجائش ہے ۔ (خلاصۃ الفتاوی: ٤/۳۲۱، و تبیین الحقائق: ٦/۹، و فتاوی الشامی: ٦/ ۳۲۲، سعید، و فتاوی قاضيخان علی ہامش الہندیۃ: ۳/۳۵٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.