عقیقہ کے گوشت کی ہڈیاں توڑنے کا حکم:
Question
عقیقہ کے جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کی ہڈیاں توڑنا مکروہ ہے یا مباح ہے؟ اس سلسلہ میں فقہاء کیا فرماتے ہیں؟
Answer
عقیقہ کے جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کی ہڈیاں توڑنا جائز اور مباح ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:
وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئاً أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أولا. (فتاوى الشامي: ٦/۳۳٦، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
عوام ہڈیوں کے توڑنے کو ناجائز سمجھتے ہیں، یہ عقیدہ غلط ہے علماء نے اس کی تردید کی
ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۷ /۵۲۷، فاروقیہ) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
ہڈیاں توڑنا جائز ہے بعض لوگوں نے ہڈیاں توڑنے کومنع کیا ہے مگر اس ممانعت کے لیے کوئی سند نہیں ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۲٤۱، ط: دار الاشاعت) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
ہڈی توڑناجانورعقیقہ کی درست ہے، ہرچہ دراضحیہ معتبرست ازشرائط احکام درعقیقہ نیز معتبرست ۔ (امداد الفتاوی: ۳/٦۲۰) ۔
البتہ بعض علماء نے احادیث کی وجہ سے ہڈی نہ توڑنے کو مستحسن قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو مراسیل ابی داودمیں ہے:
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حفص، حدثنا جعفر عن أبيه، أن النبي ﷺ قال في العقيقة التي عقتها فاطمة رضي الله عنه عن الحسن والحسين: "أن تبعثوا إلى القابلة منها برجل، وكلوا وأطعموا ولا تكسروا منها عظماً". (رواه أبو داود في مراسيله، ص ۲۷۸، رقم ۳۷۹، باب في العقيقة).
قال شعيب الأرناؤوط: رجاله ثقات رجال الشيخين غير جعفر، وهو ابن محمد بن على بن الحسين فإنه من رجال مسلم. ورواه البيهقي (۹/۳۰۲) من طريق أبي داود. (تعليق الشيخ شعيب على مراسيل أبي داود، ص ۲۷۹).
مزید ملاحظہ ہو: (
مستدرك حاكم: ٤/۲۹۱/۷۵۹۵، كتاب الذبائح، ومسند إسحاق ابن راهويه: ۳/٦۹۲).
اعلاء السنن میں ہے:
وفيه [شرح المهذب] أيضاً: يستحب أن تفصل أعضاء ه ولا يكسر شيء من عظامها، فإن كسر فهو خلاف الأولي، وبالجملة فلا تقطع إلا من المفاصل، وعن عطاء كانوا يستحبون أن لا يكسر لها عظم. (اعلاء السنن: ۱۷/۱۲۱).
احسن الفتاوی میں ہے:
جواز اور خلافِ اولی میں تعارض نہیں اور کفایت المفتی میں سندِ ممانعت کی نفی کی ہے یعنی کسر عظام کو ممنوع اور ناجائز کہنے کی کوئی سند نہیں خلافِ اولی کی نفی نہیں فرمائی، حاصل یہ ہے کہ جن روایات میں عدمِ کسر کا حکم ہے وہ وجوبی نہیں بلکہ استحبابی ہے، چونکہ عوام نے اس کو واجب کا درجہ دے دیا ہے اور کسر عظام کو ناجائز اور ممنوع سمجھتے ہیں اور یہ عقیدہ غلط و قابل اصلاح ہے اس لیے علماء نے اس کی تردید فرمائی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۵۳۷) ۔
امداد المفتین میں ہے:
بعض علماء اس کو مستحسن سمجھتے ہیں کہ ہڈیاں توڑی نہ جائیں بلکہ ایک جگہ جمع کر کے دفن کر دی جاویں مگر امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح عام قربانیوں کا حکم ہے کہ ہڈیاں توڑی جاتی ہیں اسی طرح عقیقہ کا بھی حکم ہے کوئی فرق نہیں ۔
كما في تحفة المودود بأحكام المولود: قول مالك رحمه الله تكسر عظامها ويطعم منها الجيران، ص ۲۷
۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں کوئی تصریح منقول نہیں دیکھی مگر کتبِ حنفیہ میں اس قدر مذکور ہے کہ عقیقہ عام احکام میں مثل قربانی کے ہے ۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص ۸۰۳، ط: دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
روایتِ منقولہ میں جو کچھ ہے وہ وجوبی حکم نہیں بلکہ تفاولاً استحبابی چیز ہے اگر اسی حد تک رکھا جائے تو ٹھیک ہے لیکن اگر اس کو درجہ واجب دیا جائے تو اس میں کراہت آ جائے گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۷/۵۲۷، جامعہ فاروقیہ) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہڈی نہ توڑنے کے بارے میں کوئی مرفوع، صریح اور صحیح روایت دستیاب نہیں ہوئی، مراسیل ابی داود کی روایت مرسل ہے اگر چہ سنداً صحیح ہے، اور مستدرک حاکم (٤/۲۹۱) کی روایت ضعیف ہے، دو علتوں کی وجہ سے (۱) انقطاع ۔ (۲) شذوذ و ادراج ۔
نیز یہ روایت مسند إسحاق ابن راہویہ (۳/٦۹۲) میں مذکور ہے لیکن اس کی تعلیق میں کلام کرتے ہوے دکتور عبد الغفور عبد الحق حسین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
عقیقہ سے متعلق چند سوالات اور ان کے جوابات:
سوال: عقیقہ کا کیا حکم ہے اور اس میں کتنے جانور ذبح کیے جاتے ہیں؟
الجواب: عقیقہ کرنا مستحب ہے اور اس کی برکت سے بچہ سے آفات و بلیات دور ہو جاتی ہیں ۔ عقیقہ میں لڑکے کے لیے دو بکرے یا دو دنبے یا بڑے جانور میں دو حصے ہیں اور لڑکی کے لیے ایک بکرا یا ایک دنبہ یا گائے میں ایک حصہ ہے اور اگر لڑکے کی طرف سے دوکی ہمت نہیں ہے تو ایک بکرا یا ایک دنبہ بھی صحیح ہے ۔ عقیقہ بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن کرنا چاہیے ۔ (اعلاء السنن: ۱۷/۱۱٤، و اوجز المسالک: ۱/۱٦۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو کب کرنا چاہیے؟
الجواب: ساتویں دن کا لحاظ رکھا جائے اگر بچے کی پیدائش اتوار کو ہوئی ہو تو سنیچر کو کر لیا جائے ۔ (بذل المجہود: ۹/٦۰۹، و تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: ۲/۲۳۳، و المجموع شرح المہذب: ۸/٤۳۱، دار الفکر) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: عقیقہ کا جانور کیسا ہونا چاہیے کا جانور کیسا ہونا چاہیے؟
الجواب: جو جانور قربانی میں جائز ہے وہ عقیقہ میں بھی جائز ہے اور جو قربانی میں ناجائز ہے وہ عقیقہ میں بھی ناجائز ہے ۔ گوشت کی تقسیم میں بھی قربانی والا عمل مستحب ہے ایک حصہ اپنے لیے ایک حصہ رشتہ داروں اور دوست احباب کے لیے اور ایک فقراء مساکین کے لیے ۔ اس کی کھال کے احکام بھی وہی ہیں جو قربانی کے ہیں ۔ (رد المحتار: ٦/۳۳٦، سعید، و فتاوی محمودیہ: ۱۷/۵۱۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: کیا عقیقہ کی ہڈیوں کو توڑنا ناجائز ہے؟
الجواب: جائز ہے ۔ (فتاوی الشامی: ٦/۳۳٦، سعید، و تحفۃ المودود، ص: ۵۲، ط: ریاض، و امداد الفتاوی: ۳/٦۲۰، و کفایت المفتی: ۸/۲٤۱، و احسن الفتاوی: ۷/۵۳۷) ۔
اشکال: اس زمانے میں عوام کسر عظام کو ناجائز نہیں سمجھتے، تو پھر آثار و حدیثِ مرسل کی روشنی میں نہ توڑنا مستحب ہونا چاہیے ہونا چاہیے؟
الجواب: اس کا جواب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ خیر القرون میں سالم جانور کے بھوننے کا عرف تھا تو تفاولاً نہ توڑنا مندوب تھا، اب اس کا رواج کالعدم ہے اس لیے اب ضرورت کی وجہ سے ہڈیاں توڑنا درست ہے تاکہ پکانے میں آسانی ہو جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: آدمی خود اپنا عقیقہ کر سکتا ہے؟
الجواب: جی ہاں کر سکتا ہے ۔ (اعلاء السنن: ۱۷/۱۲۱، و تحفۃ المودود، ص: ۵٦، و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۵/ ٤۸۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: اگر عقیقہ سے پہلے بچہ فوت ہو تو اس کا عقیقہ ہے؟
الجواب: نہیں ہے ۔ ہاں بطورِ صدقہ اور امید شفاعت کر سکتا ہے ۔ (شرح المہذب: ۸/٤٤۸، دار الفکر، و فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۳۲، و فتاوی محمودیہ: ۱۷/۵۲۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: عقیقہ میں جانور کو ذبح کرتے وقت کیا پڑھنا چاہیے؟
الجواب: یہ دعا پڑھے: "
اللهم هذه عقيقة ابني (
لڑکے کا نام لے)
دمها بدمه، ولحمها بلحمه، وعظمها بعظمه، وجلدها بجلده، وشعرها بشعره، اللهم اجعلها فداء لبني من النار". (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/۲۳۳، وكتاب الفتاوى: ٤/۱۷۸).
لڑکی کا عقیقہ ہو تو یہ دعا پڑھے: "
اللهم هذه عقيقة بنتي (
لڑکی کا نام لے)
دمها بدمها، ولحمها بلحمها، عظمها بعظمها، وجلدها بجلدها، وشعرها بشعرها، اللهم اجعلها فداء لبنتي من النار". (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/۲۳۳، وكتاب الفتاوى: ٤/۱۷۸).
اس کے بعد یہ دعا پڑھے: "
إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفاً وما أناْ من المشركين، لا شريك له، وبذلك أمرت وأناْ من المسلمين". (
ابو داود شریف، رقم: ۲۷۹۵، و ابن ماجہ، رقم: ۳۱۲۱) ۔
اس کے بعد یہ پڑھے:
"اللهم منك ولك"
پھر
"بسم الله الله أكبر"
کہتے ہوئے ذبح کرے ۔ (سنن کبری للبیہقی: ۹/۳۰۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: ایام النحر میں عقیقہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: جائز اور درست ہے ۔ اگر ایام النحر میں کوئی دن ساتواں دن بنتا ہو تو عقیقہ کو قربانی کے ساتھ جمع کر سکتے ہیں مثلاً لڑکے کے لیے دو حصے اور بقیہ پانچ حصے قربانی کے لیے ۔ (بدائع الصنائع: ۵/۷۲، سعید، و رد المحتار: ٦/۳۲٦، سعید، و حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار: ٤/۱٦٦، و فتاوی محمودیہ: ۱۷/۵۱۵، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: بچہ کا عقیقہ کون کرے؟
الجواب: والد یا جس کے ذمہ بچہ کا نفقہ واجب ہے ۔ (مؤطا امام مالک رحمہ اللہ، ص ۱۰٤۷، و ۱۰۵۰، و اعلاء السنن: ۱۷/ ۱۲۷، و فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۳۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: عقیقہ کا گوشت شادی کی تقریب میں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے البتہ اگر کچھ لین دین کا رواج ہو تو عوض کے شبہ سے بچنا چاہیے ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار: ٤/۱٦٦، و اعلاء السنن: ۱۷/۱۲٦، و فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۳٤، و کفایت المفتی: ۸/۲٤۲، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: ولیمہ میں عقیقہ کا گوشت کھلانے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: درست ہے ۔ (اعلاء السنن: ۱۷/۱۲۷، و بدائع الصنائع: ۵/۷۲، سعید، و رد المحتار: ٦/۳۲٦، سعید، و تحفۃ المودود، ص ۵۵، و فتاوی محمودیہ: ۱۷/۵۱۸، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: عقیقہ میں بڑا جانور ذبح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز اور درست ہے ۔ (اعلاء السنن: ۱۷/۱۱۷، و اوجز المسالک: ۱۰/۱۹۱، و فتاوی علماء بلد الحرام، ص ۱۰۲۲، و فتاوی محمودیہ: ۱۷/۵۲٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: بڑے جانور میں سات بچوں کے عقیقے ایک ساتھ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے ۔ (عالمگیری: ۵/۳۰٤، تحفۃ المودود، ص ٦۵، و امداد الاحکام: ٤/۲۲۸، و کفایت المفتی: ۸/۲٤۰، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سوال: عقیقہ کہاں کرنا چاہیے؟
الجواب: جہاں بچہ موجود ہو ۔ (اعلاء السنن: ۱۷/۱۲٦، و بذل المجہود: 9/٦۱۲، و کفایت المفتی: ۸/۲٤۱، دار الاشاعت، و فتاوی محمودیہ: ۱۷/۵۲۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
لیکن آج کل ٹیلی فون وغیرہ کا نظام موجود ہے تو اگر جانور ہندوستان میں ذبح کرے اور اطلاع کر کے بچے کے بال جنوبی افریقہ میں اتار دے تو یہ بھی جائز ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل دوم
نو مولود سے متعلق احکام کا بیان
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.