پانچویں دن عقیقہ کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #187Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۴): أحكام العقيقة

Question

اگر کسی نے پانچویں دن عقیقہ کر دیا تو عقیقہ ہوا یا نہیں؟ کیا اس کو دوبارہ عقیقہ کرنا چاہیے؟

Answer

افضل اور بہتر دن عقیقہ کے لیے یوم السابع (ساتواں دن) ہے، لیکن اگر کسی نے اس سے پہلے عقیقہ کر لیا تب بھی ادا ہو جائے گا دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

ولو قدم يوم الذبح قبل يوم السابع أو أخره عنه جاز إلا أن يوم السابع أفضل. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/۲۳۳).

اعلاء السنن میں ہے:

فلو ذبحها بعد السابع أو قبله وبعد الولادة أجزأه، وإن ذبحها قبل الولادة لم تجزه بلا خلاف بل تكون شاة لحم. (اعلاء السنن: ۱۷/۱۱۹، باب أفضلية الشاة في العقيقة).

امداد الاحکام میں ہے:
سات کے عدد کی رعایت محض افضل ہے ورنہ عقیقہ بہر صورت ادا ہو جائے گا۔

قال في تنقيح الفتاوى الحامدية في أحكام العقيقة (۲/۲۱۲، ۲۱۳): ولو قدم يوم الذبح قبل يوم السابع أو أخره جاز إلا أن يوم السابع أفضل (الي ان قال) ووقتها بعد تمام الولادة إلى البلوغ فلا يجزي قبلها وذبحها في اليوم السابع يسن

الخ.
اس سے معلوم ہوا کہ سات کے عدد کی رعایت کرنا صرف مسنون ہے ورنہ ادائے عقیقہ میں بغیر اس کے بھی خلل نہیں ہوگا۔ (امداد الاحکام: ٤/۱۹۰)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.