ختمِ قرآن کے موقع پر دعوت کا حکم:

20 min readFatwa Vol 6 #253Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۲): ضیافت و مہمانی کے آداب و احکام کا بیان

Question

ختمِ قرآن کے موقع پر دعوت کا کیا حکم ہے؟ اور اجتماعی دعا کا کیا حکم ہے؟

Answer

ختمِ قرآن کے موقع پر دعوتِ طعام اور اجتماعی دعا دونوں احادیث سے ثابت ہیں ۔
امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضي اللہ تعالی عنہ نے جب سورۂ بقرہ ختم فرمائی تو اونٹ ذبح فرمایا اور دعوت فرمائی ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

(
۱
) أخرج الإمام البيهقي في شعب الإيمان (۱۸۰۵) بسنده عن ابن عمر رضي الله عنه قال: تعلم عمر بن الخطاب رضي الله عنه البقرة في اثنتي عشرة سنة، فلما ختمها نحر جزوراً.

(۲) علامہ ابن طولون نے "
فص الخواتم في ما قيل في الولائم"
میں حفظ قرآن کے موقع پر دعوت کرنے اور اس میں لوگوں کو جمع کرنے سے متعلق ایک فصل قائم کی ہے اور اس میں چند روایات نقل کی ہیں ۔ ملاحظہ ہو فص الخواتم میں ہے:

"الاحتفال بحذاق الصبيان": وروي الدوري في جزء ه عن أبي بكر الهذلي قال: سألت الحسن يعني البصريَّ وعِكرمة عن الصبي نبتت أسنانه فينثر عليه الجوز، فقالا: حلال.
وعن يونس بن عبيد قال: طرق ابن لعبد الله بن الحسن فقال عبد الله: إن فلاناً قد حذِق والمعلم يطلب، قال: فماذا يريد؟ أعطه درهماً. قال: سبحان الله! قال: فأعطِه درهمين. قال: إنه لا يرضي! فقال الحسن رضي الله عنه: كانوا إذا حذِق الغلام قبل اليوم نحروا جزوراً، واتخذوا طعاماً.
وعن بن سلمة عن حميد قال: كانوا يستحبون إذا جمع الصبيُّ القرآنَ أن يذبح الرجل الشاة ويدعو أصحابه. (فص الخواتم فيما قيل في الولائم، ص ۹).
حَِذاق/حذاقة: هي الإطعام عند ختم القرآن. ويقال لليوم الذي يختم فيه القرآن هذا يوم حِذاقة. وكذا إذا تعلم الآداب، وكذا إذا نبتت أسنان الصغير، ونحو ذلك.

ختمِ قرآن کی دعوت کو حذاق کہتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں جب بچہ بولنا شروع کرے اس وقت کی دعوت کو حذاق/حذاقہ کہتے ہیں ۔
شرح معانی الآثار میں ہے:

عن عبد الله بن يسار: أنه كان لا بي مسعود رضي الله عنه صبيان في الكتاب فأرادوا أن ينتهبوا عليهم فاشترى لهم جوزاً بدرهمين وكره أن ينتهبوا مع الصبيان. فقد يجوز أن يكون ذلك على الخوف منه عليهم من النهبة لا لغير ذلك. (شرح معاني الآثار للامام الطحاوي، رقم: ٤۱۱۲).
عن خالد بن سعيد: أن غلاماً من الكتاب حذق فأمر أبو مسعود رضي الله عنه فاشترى لصبيانه بدرهم جوزاً وكره النهب. (السنن الكبري للامام البيهقي، رقم ۱۵۰۷۲، باب ما جاء في النثار في الفرح).

طحاوی شریف اور بیہقی سنن کبری دونوں کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو بدری
رضي الله عنه
کے ہاں مکتب میں کچھ بچوں نے حفظ کیا یا قرآن میں مہارت حاصل کی تو حضرت ابو مسعود
رضي الله عنه
نے ان کے لیے کچھ اخروٹ خریدے اور تقسیم کیے کیوں کہ ان کے نزدیک لٹانا مکروہ تھا، اس سے پتا چلتا ہے کہ ختمِ قرآن کے موقع پر کچھ دعوت کا انتظام کرنا درست ہے ۔
دعوتِ طعام کی مختلف اقسام:

قال الكرماني: قالوا: والضيافة ثمانية أنواع: ــ الوليمة للعرس والخرس للولادة والعذار للختان والوكيرة للبناء والنقيعة لقدوم المسافر من النقع وهو الغبار والوضيمة للمصيبة والعقيقة لتسمية الولد يوم السابع والمأدبة للطعام المتخذ للضيافة بلا سبب وكلها مستحبة إلا الوليمة فإنها تجب عند قوم. (حاشية البخاري باختصار: ۲/۷۷٦).

کھانا کھلانے کی بہت سی اقسام ہیں ۔ ملاحظہ ہو مجلہ المآثر میں ہے:
ہمارے علمائے اسلام، فقہاء اور شراحِ حدیث نے دعوت اور ولیمہ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوے اہتمام سے اس کو ذکر کیا ہے کہ چند خاص مناسبتوں و مواقع پر عہد قدیم سے دعوتوں کا سلسلہ چلا آ رہا ہے حتی کہ عربی میں ہر موقع و مناسبت کی دعوت کے لیے عنوان بھی الگ الگ ہے، اگر چہ تعداد میں کچھ اختلاف ہے ۔ فقہائے احناف میں امام طحاوی رحمہ اللہ و شامی رحمہ اللہ وغیرہ نے گیا رہ قسم کی دعوتیں نقل کی ہیں، جب کہ قاضی عیاض رحمہ اللہ اور امام نووی رحمہ اللہ وغیرہ نے آٹھ کا تذکرہ کیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ان لوگوں سے بعض اقسام کا ذکر رہ گیا ہے ۔ (مجلہ، ص ٤۸)
دعوت کی چند اقسام کو اس جملہ میں جمع کیا گیا ہے:
"
أنعموا مُخًّا". (
اچھے آدمی کو کھانا کھلا کر اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو) ۔

ا: إعذار:
ختنہ کی دعوت: ۔ اسے عذیرہ بھی کہتے ہیں ۔ بچوں کے ختنہ کی دعوت کو اعلاء السنن میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ نے مستحب فرمایا ہے ۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے:
عن نافع قال: كان ابن عمر رضي الله عنه يطعم على ختان الصبيان. (رقم: ۱۷٤۵۱).
اور جن حضرات نے منع کیا ہے ان کے قول کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بچیوں کے ختنہ پر محمول فرمایا ہے ۔
حاصل یہ ہے کہ ختنہ کی دعوت فی نفسہٖ مستحب اور سلفِ صالحین سے ثابت ہے لیکن اس کا التزام اور پابندی اور اس کو سنت سمجھنا درست نہیں ۔ مزید دیکھیے: (اعلاء السنن: ۱۱/۱۷، و مجلہ المآثر، ص ۵۰ ۔ ۵۵) ۔

ن: نقيعه:
سفر سے واپسی کی دعوت ۔ یہ لفظ
"نقع"
سے مأخوذ ہے، جو غبار کے معنی میں ہے ۔

ع:
عقیقہ: ولادت کے ساتویں دن کی دعوت ۔

ع: عتيرة:
اوائل رجب کا ذبیحہ اور دعوت، جو قبل الاسلام غیر اللہ کے لئے ذبح کیا جاتا تھا ۔ اسلام میں اللہ کے لئے ہو گیا پھر بعد میں اللہ کے لئے ذبح کرنا بھی منسوخ ہو گیا ۔

م: مائدة / مأدبة:
دوست و احباب کے لیے عام دعوت جس کا کوئی خاص سبب نہ ہو یا یہ کہ دوسرے اسبابِ دعوت نہ ہوں ۔

و:
ولیمہ: نکاح کے بعد زوجین کی ملاقات کی مناسبت سے دعوت ۔ (یہ دعوت مسنون ہے، ملاحظہ ہو فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ سوم، باب الولیمہ) ۔

و: وكيرة:
نئے مکان کی دعوت ۔

و: وضيمة:
کسی مصیبت کے موقع کی دعوت (ہمدردوں و پڑوسیوں وغیرہ کی طرف سے) ۔

م: الملاك:
عقدِ نکاح کے موقع کی دعوت ۔

خ: الخرس:
ولادت کی دعوت ۔
اقسامِ دعوت کی مختصر وضاحت:
٭
نقيعة
کی تعیین کے بارے میں دو قول ہیں:
يصنعها القادم من السفر أو تُصنع له.

یعنی جو کھانا آدمی سفر سے واپس آنے پر لوگوں کے لئے تیار کرے ۔ یا لوگ اس کے لئے تیار کریں ۔
بعض کہتے ہیں: جو کھانا مسافر تیار کرے اسے نقیعہ کہتے ہیں اور جو کھانا لوگ مسافر کی آمد پر بنائیں اسے تحفہ کہتے ہیں ۔ (فتح الباری: ۹/۲٤۱) ۔
سفر سے واپسی کے موقع پر دعوت سے متعلق بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک سفر سے واپسی پر اونٹ یا گائے ذبح فرمائی ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

باب الطعام عند القدوم وكان ابن عمر رضي الله عنه يفطر لمن يغشاه، قال: حدثني محمد أخبرنا وكيع عن شعبة عن محارب بن دثار عن جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنهما أن رسول الله ﷺ لما قدم المدينة نحر جزوراً أو بقرة. (بخاري شريف: ۱/٤۳٤، رقم: ۳۰۸۹).

٭ عتیرہ منسوخ ہے ۔ ملاحظہ ہو صحیحین کی روایت میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: لا فرع ولا عتيرة

والعتيرة في رجب. (بخاري ۲/ ۸۲۲ باب العتيرة. مسلم ۲/۱۵۹ باب الفرع والعتيرة).

٭
مأدبة
میں علماء نے یہ تفصیل بیان فرمائی ہے:

نَقَري: إن كانت لقوم مخصوصين. وجفلي: إن كانت عامة.

طرفہ بن عبد اپنی قوم کی تعریف میں کہتے ہیں:

نحن في المَشْتَاة نَدعُوالجَفَلي

٭

لا تَري الآدِبَ فينا ينتَقِر

یعنی جب ہماری قوم کا کوئی آدمی (موسمِ سرما میں ) دعوت دیتا ہے تو سب کو بلاتا ہے ۔ دعوت دینے والا آدمی کبھی خاص دعوت نہیں کرتا ۔ (فتح الباری ۹/۲٤۱- ۲٤۲ ۔ دیوان طرفة بن العبد ص ۲۹) ۔

مأدبة:
دوست و احباب کو بغیر کسی ظاہری سبب کے کھانے کے لئے جمع کرنا ۔ یہ مستحب ہے، اور متعدد روایات و واقعات میں اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ بطورِ "مشتِ نمونہ از خروارے" چند روایات ملاحظہ ہوں:
(۱) بخاری شریف میں حضرت جابر رضي اللہ عنہ کی روایت ہے:

جائَ ت ملائكة إلى النبي ﷺ وهو نائم، فقال بعضهم: إنه نائم، وقال بعضهم: إن العين نائمة والقلب يقظان، فقالوا: إن لصاحبكم هذا مثلاً فاضرِبوا له مثلاً

فقالوا: مَثَلُه كمَثل رَجل بني دَارًا وجَعل فيها مأدُبة وبَعث داعياً، فَمن أجابَ الداعيَ دَخل الدارَ وأكلَ مِن المأدبة، ومَن لَم يجِب الداعي لَم يدخل الدارَ ولم يأكل من المأدبة. (رواه البخاري: ۲/۱۰۸۱، الاقتداء بسنن رسول الله ﷺ).

اس حدیث شریف میں کھانے کی عام دعوت کے لئے آدمی کو بھیج کر لوگوں کو بلانے کا ذکر ہے، جس کا کوئی ظاہری سبب نہیں ۔
(۲) مسلم شریف کی روایت ہے:

قال (عبد الله بن رباح): وَفَدتُ وفودا إلي معاوية رضي الله عنه، وذلك في رمضان، فكان يصنع بعضنا لبعض الطعام، وكان أبو هريرة رضي الله عنه مما يكثر أن يدعونا إلى رَحله. فقلت: ألا أصنع طعاما فأدعوهم إلى رحلي، فأمرت بطعام يصنع، ثم لقيت أبا هريرة من العشي فقلت: الدعوة عندي الليلة، فقال: سبقتني؟ قلت: نعم، فدعوتهم، فقال أبو هريرة رضي الله عنه: ألا أعلِمكم بحديث من حديثكم يا معشر الأنصار، ثم ذكر فتح مكة. (رواه مسلم: ۲/۱۰۲، باب فتح مكة).

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ بہت کثرت سے اپنے ساتھیوں کی دعوت کیا کرتے تھے اور ایک دن عبد اللہ بن رباح نے ساتھیوں کی دعوت کی، چنانچہ ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ نے بھی کھانے میں شرکت کی اور پھر انہیں فتح مکہ کا قصہ سنایا ۔
(۳) صحیحین کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابو شعیب رضي اللہ عنہ نے نبی ﷺ اور آپ کے ساتھ دیگر چار صحابہ کی دعوت فرمائی ۔

عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه قال: كان من الأنصار رجل يقال له: أبو شعيب، وكان له غلام لحّام، فقال: اصنع لي طعامًا أدعو رسولَ الله ﷺ خامسَ خمسة، فدعا رسول الله ﷺ خامسَ خمسة، فتبعهم رجل

الحديث. (رواه البخاري ۲/۸۱۷، الرجل يتكلف الطعام لإخوانه، ومسلم: ۲/۱۷٦، ما يفعل الضيف إذا تبعه غير من دعاه صاحب الطعام).

(٤) مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کے ایک پڑوسی نے آپ ﷺ کی دعوت کی، آپ ﷺ نے یہ شرط لگائی کہ میرے ساتھ حضرت عائشہ رضي اللہ عنہ کو بھی دعوت ہے؟ اس نے دو مرتبہ انکار کرنے کے بعد تیسری مرتبہ میں حضرت عائشہ رضي اللہ عنہ کو بھی دعوت دی ۔
حدیث شریف یہ ہے:

عن أنس رضي الله عنه أن جاراً لرسول الله ﷺ فارِسِيا كان طيب المَرق، فصنع لرسول الله ﷺ ثم جاء يدعوه، فقال: وهذه؟ لعائشة، فقال: لا، فقال رسول الله ﷺ: لا، فعاد يدعوه

قال: نعم، في الثالثة. (رواه مسلم: ۲/۱۷٦).

(۵) متعدد روایات میں یہ مضمون بکثرت وارد ہوا ہے کہ جب تمہیں تمہارا بھائی دعوت دے تو اسے قبول کرو، اس لئے کہ یہ فائدہ سے خالی نہیں ۔ نیز یہ بھی وارد ہوا ہے کہ اگر روزہ دار ہو تب بھی دعوت قبول کرے ۔
اس حدیث سے دلالۃ النص کے طور پر اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ اس زمانے میں دوستوں کو دعوت دینے کا رواج تھا ۔
نیز صحابہ کرام کا دعوت کرنا اور اسے قبول کرنا بھی متعدد مقامات پر مذکور ہے ۔
(٦)
عن أبي وائل قال: ما شهد عبد الله مَجمعا ولا مأدُبة فيقومَ حتّي يحمد ويصلي على النبي ﷺ. (مصنف ابن أبي شيبه ۱۵/۳۸۰/۳۰٤۲۹، من كان يصلي على النبي ﷺ ويحمد الله قبل أن يقوم من مجلسه).

امام بخاری نے الادب المفرد میں مأدبۃ سے متعلق مستقل باب قائم کیا ہے ۔
٭ اہل میت کے واسطے کھانا بھیجنا پڑوسیوں اور اہل قرابت کے لئے مستحب ہے ۔
ترمذی شریف میں ہے:

عن عبد الله بن جعفر رضي الله عنه قال: لما جاء نعي جعفر رضي الله عنه قال النبي ﷺ: اصنعوا لا هل جعفر طعاماً، فإنه قد جاء هم ما يشغَلهم. (رواه الترمذي ۱/۱۹۵، ما جاء في الطعام يصنع لا هل الميت).

ابن ماجہ میں ہے:

قال: لما أصيبَ جعفر رضي الله عنه رجع رسول الله ﷺ إلى أهله فقال: إن آل جعفر قد شُغِلوا بشأن ميتهم فاصنعوا لهم طعاماً. قال عبد الله (أحد الرواة): فما زالت سنة حتّي كان حديثاً فتُرِك. (سنن ابن ماجه: ۱۱۵، في الطعام يبعث إلى أهب الميت).

شامی میں ہے:

قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم، يشبعهم يومَهم وليلهم لقوله ﷺ: "اصنعوا لا ل جعفر رضي الله عنه طعاماً

حسنه الترمذي وصحَّحه الحاكم. (رد المحتار: ۲/۲٤۰، سعيد).
وللمزيد راجع: (رد المحتار: ٦/٦٦۵، سعيد، والفتاوى الهندية: ۱/۱٦۷ و۵/۳٤٤، وفتح القدير: ۲/۱٤۲، دار الفكر).

نیز اہل میت کا اپنے اہل و عیال اور جنازہ میں شرکت کے لئے جو رشتہ دار وغیرہ آئے ہوں، ان کے لئے کھانا پکانا جائز ہے بشرطیکہ کھانے کی عام دعوت نہ ہو، کھانا متوسط درجے کا ہو اور کسی دن کی تخصیص نہ ہو ۔ اس کے بارے میں مدلل و مفصل فتوی ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی دار العلوم زکریا ۳/۵۸-٦۱) ۔
٭ "
ملاك"
کا دوسرا نام بعض نے "
شندخية"
ذکر کیا ہے ۔
نکاح کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے جو کھانا کھلایا جاتا ہے وہ جائز ہے، لیکن اس کی عادت نہ بنانا چاہیے، نیز اگر شادی میں شرکت کے لئے آنے والے رشتہ داروں کے لئے کھانا بنایا جائے تو درست ہے ۔
تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی دار العلوم زکریا ۳/٦۳٦-٦۳۸) ۔
مذکورہ بالا اقسام کے علاوہ درجِ ذیل قسموں کا ذکر بھی ملتا ہے:
(۱)
قِري: ما يصنَع للضيف.

(۲)
السُّلْفة واللُّهنة:
وہ مختصر کھانا جو دوپہر کے کھانے سے پہلے کھایا جائے، یا اصل کھانا تیار ہونے سے پہلے تھوڑا سا کھانا کھایا جائے ۔
کھانے کی ان اقسام کو بعض علماء نے اشعار میں جمع کیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں: (رد المحتار ٦/۱٦، نقلا عن حاشية الطحطاوي علي الدر المختار ٤/۱۰) ۔
اسی طرح "
فصّ الخواتم فيما قيل في الولائم"
کے آخر میں علامہ ابن طولون رحمہ اللہ نے مختلف علمائے کرام کے ۸، منظومے ذکر فرمائے ہیں، جو کھانے کی مذکورہ اقسام کے بیان پر مشتمل ہیں ۔ ان میں سے سب سے پہلا منظومہ حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:

إن الولائم عشرة مع واحد

٭

من عدها قد عز في أقرانه
فالخرس إن نفست، كذاك عقيقة

٭

للطفل، والإعذار عند ختانه
ولحفظ قرآن وآداب لقد

٭

قال: الحذاق لحذقه وبيانه
ثم الملاك لعقده ووليمة

٭

في عرسه، فاحرص على أعلانه
وكذاك مأدبة بلا سبب يري

٭

و وكيرة لبنائه لمكانه
ونقيعة لقدومه، ووضيمة

٭

من أقرباء الميت أو جيرانه
و لا ول الشهر الأصم عتيرة

٭

جاء ت هديت كذا لرفعة شانه

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:

(شرح النووي على مسلم: ۱/٤۵۸، باب صداق المرأة، وفتح الباري: ۹/۲٤۱-۲٤۲، وعمدة القاري: ۱٤/۱۱۱، ورد المحتار: ٦/۱٦، والموسوعة الفقهية الكويتية، مادة: دعوة، وفقه اللغة للثعالبي ص: ۲۸۷، الباب الرابع والعشرون، ط: بيروت، والتعريفات الفقهية، ص ۲٤۰، ط: بيروت، ورد المحتار: ٦/۱٦، سعيد، والتمهيد لا بن عبد البر: ۱۰/۱۸۲، ومجلة المآثر للشيخ المحدث حبيب الرحمن الأعظمي، ص ٤۸. ۵۱).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
ختم القرآن کے موقع پر اجتماعی دعا کا ثبوت:
حضرت انس رضی اللہ عنہ جب قرآن پاک ختم فرماتے تو اپنے گھر والوں کو جمع کر کے اجتماعی دعا فرماتے تھے ۔
ملاحظہ ہو: المعجم الکبیر میں ہے:

عن ثابت، أن أنس بن مالك رضي الله عنه كان إذا ختم القرآن جمع أهله وولده فدعا لهم. (المعجم الكبير للطبراني، رقم: ٦۷٤).
قال الهيثمي: رواه الطبراني ورجاله ثقات. (مجمع الزوائد، باب الدعاء عند ختم القرآن).
عن إبراهيم التيمي، قال: قال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه: من ختم القرآن فله دعوة مستجابة، قال: فكان عبد الله إذا ختم القرآن جمع أهله ثم دعا وأمنوا على دعائه. (أخرجه القاسم بن سلام في فضائل القرآن، رقم: ۸۷، باب فضل ختم القرآن).
وعن أبي قلابة، قال: قال رسول الله ﷺ: "من شهد خاتمة القرآن كان كمن شهد الغنائم حين تقسم، ومن شهد فاتحة القرآن كان كمن شهد فتحاً في سبيل الله"، قال: وقال المري، عن قتادة: كان بالمدينة رجل يقرأ القرآن من أوله إلى آخره على أصحاب له، فكان ابن عباس رضي الله عنه يضع عليه الرقباء، فإذا كان عند الختم جاء ابن عباس رضي الله عنه فشهده. (أخرجه أيضا القاسم بن سلام في فضائل القرآن، رقم: ۸٦).
وعن مجاهد قال: كانوا يجتمعون عند ختم القرآن ويقول: الرحمة تنزل. (قيام رمضان لمحمد بن نصر المروزي، ص ۸۹).
عن الحكم عن مجاهد قال: بعث إلى قال: إنما دعوناك إنا أردنا أن نختم القرآن وأنه بلغنا أن الدعاء يستجاب عند ختم القرآن قال: فدعوا بدعوات. (رواه الدارقطني، رقم: ۳٤۸۲، قال حسين سليم اسد: إسناده صحيح، والبيهقي في شعب الأيمان، رقم: ۱۹۰۹).
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: له عند ختم القرآن دعوة مستجابة وشجرة في الجنة. (أخرجه البيهقي في شعب الأيمان، رقم: ۱۹۲۰).

کنز العمال میں ایک روایت مذکور ہے:

ومن "مسند أنس بن مالك رضي الله عنه" عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان النبي ﷺ إذا ختم جمع أهله ودعا"، ابن النجار. (كنز العمال: ۲/۳٤۹/٤۲۱۹).

عالمگیری میں ہے:

ويستحب له أن يجمع أهله وولده عند الختم ويدعو لهم، كذا في الينابيع. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۷).

امام قرطبی فرماتے ہیں:
قلت: ويستحب له إذا ختم القرآن أن يجمع أهله. (الجامع لأحكام القرآن: ۱/۲۵، مقدمة).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.