حج کے سفر سے واپسی پر دعوتِ طعام کا حکم:
Question
حاجی لوگ جب حج سے واپس آتے ہیں تو ان کی تشریف آوری پر لوگ دعوت کرتے ہیں شرعاً اس کی اجازت ہو گی یا نہیں؟
Answer
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی جہاد کے سفر سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اونٹ یا گائے ذبح فرمائی، اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے سفر سے واپسی پر حج کی خوشی کی وجہ سے دوست و احباب اور اہل قرابت کے لیے کچھ دعوت کا انتظام کرنا درست ہے ۔ لیکن فخر و مباہات اور شہرت سے احتراز لازم ہے ۔ نیز اس کو رسم و رواج کا درجہ دے کر ضروری بھی نہ سمجھا جائے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
باب الطعام عند القدوم وكان ابن عمر رضي الله عنه يفطر لمن يغشاه، قال: حدثني محمد أخبرنا وكيع عن شعبة عن محارب بن دثار عن جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنهما أن رسول الله ﷺ لما قدم المدينة نحر جزوراً أو بقرة. (بخاري شريف: ۱/٤۳٤، رقم: ۳۰۸۹).
قال الكرماني: قالوا: والضيافة ثمانية أنواع: ــ الوليمة للعرس والخرس للولادة والعذار للختان والوكيرة للبناء والنقيعة لقدوم المسافر من النقع وهو الغبار والوضيمة للمصيبة والعقيقة لتسمية الولد يوم السابع والمأدبة للطعام المتخذ للضيافة بلا سبب وكلها مستحبة إلا الوليمة فإنها تجب عند قوم. (حاشية البخاري باختصار: ۲/۷۷٦).
نقيعة
کی تعیین کے بارے میں دو قول ہیں:
يصنعها القادم من السفر أو تُصنع له.
یعنی جو کھانا آدمی سفر سے واپس آنے پر لوگوں کے لئے تیار کرے ۔ یا لوگ اس کے لئے تیار کریں ۔
بعض کہتے ہیں: جو کھانا مسافر تیار کرے اسے نقیعہ کہتے ہیں اور جو کھانا لوگ مسافر کی آمد پر بنائیں اسے تحفہ کہتے ہیں ۔ (
فتح الباري: ۹/۲٤۱).
فتاوی فریدیہ میں ہے:
جب ریا اور فخر و مباہات سے خالی ہو تو اس ذبح میں کوئی حرج نہیں بلکہ مسنون ہے،
لأن النبي ﷺ ذبح حين قدم وكانت الصحابة ث يطعمون على زائرهم عند القدوم. (
فتاوی فریدیہ: ٤/
۲۷۰
) ۔ مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ:
۱۰
/٤
۵۸
، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.