درسِ نظامی سے فراغت پر دعوت کا حکم:

5 min readFatwa Vol 6 #255Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۲): ضیافت و مہمانی کے آداب و احکام کا بیان

Question

اکثر مدارس میں دورۂ حدیث کے طلباء سال کے آخر میں دعوت کرتے ہیں، یہ دعوت برضا و رغبت ہوتی ہے بلا کسی اخلاقی جبر کے، کوئی بھی اس کو شریعت کا حصہ نہیں سمجھتا، کیا شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں؟
بينوا بالدليل توجروا بالاجر الجزيل.

Answer

خوشی کے موقع پر دعوت کرنا احادیث سے ثابت ہے، اور درس نظامی سے فراغت بھی باعثِ مسرت ہے، لہذا سوال میں مذکورہ شرائط کے ساتھ اس کی اجازت ہے ۔ اور دعوت قبول کرنا مستحب ہے ۔ ہاں فخر و ریا اور نمود و شہرت اور اسراف سے بچنا چاہیے ۔ نیز نہ کرنے والوں پر طعن و تشنیع نہ ہو اور اس کو رسم و رواج کا درجہ دے کر ضروری نہ سمجھے ۔
احادیث سے چند نظائر ملاحظہ کیجیے:

أخرج مسلم (۱٤۲۹) بسنده عن ابن عمر رضي الله عنه أنه كان يقول عن النبي ﷺ: إذا دعا أحدكم أخاه فليجب عرساً كان أو غير نحوه.
والأمر بالإجابة محمول على الاستحباب. (اعلاء السنن: ۱۱/۱۷).

امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے جب سورۂ بقرہ ختم فرمائی تو اس کی خوشی میں اونٹ ذبح فرمایا اور دعوت فرمائی ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

(
۱
) أخرج الإمام البيهقي في شعب الإيمان (۱۸۰۵) بسنده عن ابن عمر رضي الله عنه قال: تعلم عمر بن الخطاب رضي الله عنه البقرة في اثنتي عشرة سنة، فلما ختمها نحر جزوراً.

(۲) علامہ ابن طولون نے "
فص الخواتم في ما قيل في الولائم"
میں حفظ قرآن کی خوشی کے موقع پر دعوت کرنے اور اس میں لوگوں کو جمع کرنے سے متعلق ایک فصل قائم کی ہے اور اس میں چند روایات نقل کی ہیں جن کا تذکرہ ما قبل میں گزر چکا ہے ۔

عن عبد الله بن رباح قال: وفدت وفود إلى معاوية رضي الله عنه وذلك في رمضان فكان يصنع بعضنا لبعض الطعام وكان أبو هريرة رضي الله عنه مما يكثر أن يدعونا إلى رحله فقلت: ألا أصنع طعاماً فأدعوهم إلى رحلي فأمرت بطعام يصنع ثم لقيت أبا هريرة رضي الله عنه من العشي فقلت: الدعوة عندي الليلة فقال: سبقتني فقلت: نعم، فدعوتهم. (أخرجه مسلم، رقم: ۱۷۸۰).
وعن أبي العالية؛ أن أبا موسي نحر جزوراً فأطعم أصحابه، ثم قاموا يصلون بغير طهور

(مصنف ابن أبي شيبة: ۱/٤٦/۵۱٦).

علاوہ ازیں ذخیرۂ احادیث میں دعوتِ طعام کی بہت ساری روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے حضور اکرم ﷺ کو دعوتِ طعام پیش کی آپ تشریف لے گئے، نیز صحابہ آپس میں بھی دعوت کرتے تھے، ما قبل میں اقسامِ دعوت میں "مادبہ" کے تحت کچھ روایات گزر چکی ہیں ان کو بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، تکرار سبب طوالت ہے ۔
٭ شیخ محمد عابد سندھی انصاری رحمہ اللہ نے فتح الباری کو ایک جلد میں اور صحاحِ ستہ کو ایک جلد میں لکھا تو اظہارِ خوشی میں علماء اعیان کی دعوت فرمائی ۔ دیکھیے: (الامام الفقیہ المحدث الشیخ محمد عابد الانصار،
۱۳۵
،
۲۲۵
، بقلم الشیخ سائد بکداش) ۔
٭ شیخ الاسلام علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری کی تکمیل فرمائی تو بڑے علماء کی دعوت فرمائی ۔

وقد أولم عند ختمه وليمة حضرها وجوه المسلمين، أنفق فيها
۵۰۰
دينار. (مقدمة بلوغ المرام، ص ٦).
وفي "السلوك لمعرفة دول الملوك" للمقريزي (۳/٤۲۸): وفي يوم السبت ثامنه: جمع الحافظ قاضي القضاة شهاب الدين شيخ الإسلام أبو الفضل أحمد بن حجر رحمه الله، أعيان الدولة، وفيهم المقام الناصري محمد ولد السلطان وغيره من الأمراء، وكاتب السر، وناظر الجيش، والوزير، والقضاة وشيوخ العلم في عامة طلبة العلم وغيرهم، فاجتمعوا بأعلا الخمس الوجوه من أرض التاج خارج القاهرة، وكان الوقت شتاء والأرض مخضرة بأنواع الزراعات، والخيول على مرابط ربيعها، وقدم لهم من أنواع الحلاوات ألوان الأطعمة الفاخرة ما يجل وصفه ويكثر مقداره، وقد أكمل تصنيف كتاب فتح الباري بشرح صحيح البخاري في عشرين مجلدة، ثم قرئ من آخره مجلس خفيف، وقام بعد ختمه الشعراء

الخ.

اعلاء السنن میں حضرت مولانا ظفر احمد صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولیمہ (مشہور کے قول کے مطابق سنت ہے اور بعض کے نزدیک واجب ہے) کے علاوہ بقیہ تمام دعوتیں خواہ ختنہ کی ہو یا کوئی اور، سب کا حکم یہ ہے کہ مستحب ہیں اور ان کا قبول کرنا بھی مستحب ہے، یہی امام مالک و امام شافعی و امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے ۔ (اعلاء السنن:
۱۱
/
۱۷
، ط: ادارۃ القرآن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.