خون کے عطیہ کا حکم:
Question
اس ملک میں (south african national blood service) نامی ایک تنظیم ہے، جو بیماروں کے علاج کی خاطر صحیح المزاج اشخاص سے خون کے عطیہ کا مطالبہ کرتی ہے، خون نکالنے کے بعد اس کو بوتلوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے اور حسبِ ضرورت مریض کی رگوں میں داخل کیا جاتا ہے، یہ علاج بہت ہی کامیاب ہے اور آج کل اس کی بہت ہی ضرورت ہے، اس لیے اس تنظیم نے درخواست کی ہے کہ خون کے عطیہ کے بارے میں شریعت کی رہنمائی حاصل کی جائے، چنانچہ شرعاً ایسے خون کے عطیہ کی اجازت ہو گی یا نہیں؟
Answer
بوقتِ حاجت و ضرورت انسانی خون سے علاج کرانا جائز اور درست ہے، اس سے لازماً یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ بوقتِ ضرورت خون دینے کی بھی اجازت ہو گی، لیکن چونکہ ہسپتال میں خون کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے اس وجہ سے خون کا عطیہ دینا درست ہے ۔
فتاوی الشامی میں ہے:
قال في النهاية وفي التهذيب يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفائه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه وإن قال الطبيب: يتعجل شفاؤك به فيه وجهان. (فتاوى الشامي: ۵/۲۲۸، سعيد). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۵).
کفایت المفتی میں ہے:
کسی انسان کا خون علاج کی غرض سے دوسرے انسان کے جسم میں داخل کرنا جب کہ اس کی شفا یابی اس پر بقول طبیب حاذق مسلم ہو گئی ہو مباح ہے
لم يبح الإرضاع بعد مدته لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام. (الدر المختار)
در مختار کی عبارت سے معلوم ہوا کہ انسان کے اجزا سے بغیر ضرورت کے انتفاع حرام ہے یعنی اگر ضرورت ہو تو مباح ہو سکتا ہے
وهذا لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة لعطشان والجائع، رد المحتار
۔ (کفایت المفتی: ۹/۱۵٤، دار الاشاعت) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
بوقتِ ضرورتِ شدیدہ جان بچانے کے لیے عمل نقل دم جائز ہے، مگر خون کی خرید و فروخت جائز نہیں، اگر خون مفت نہ مل سکے اور سخت مجبوری ہو تو خریدنے کی گنجائش ہے، بیچنے والا گنہگار ہو گا ۔ (احسن الفتاوی: ۸/۲۷۳) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (جواہر الفقہ: ۷/٤٤ ۔ ۵۰، معارف القرآن: ۱/٤۲۰، و فتاوی رحیمیہ: ٦/۲٦۲، و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۹/۱۷۵) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
آج کل جگہ جگہ خون کے بینک قائم ہیں، جہاں باضابطہ خون کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، علماء نے ضرورۃً علاج کے لیے خون چڑھانے کی اجازت دی ہے لیکن فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔
بلڈ بینک اس وقت ایک ضرورت ہے، صورتِ حال یہ ہے کہ انسان کبھی بھی مہلک بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے اور اسے خون کی ضرورت پڑ سکتی ہے، پھر ہر آدمی کا خون ہر آدمی کے جسم کے لیے موزون نہیں ہوتا، بلکہ ضروری ہے کہ اجزاء کے لحاظ سے خون کا گروپ یکساں ہو، اس کے بغیر جسم دوسرے خون کو قبول نہیں کرتا، بلڈ بینک پہلے سے مختلف نوعیت کے خون علیحدہ علیحدہ رکھتا ہے جن سے بسہولت مریض کے مناسب حال خون لیا جا سکتا ہے، ہر مریض کے لیے بر وقت رضاکارانہ خون دینے والے مہیا ہو جائیں اولاً یہی مشکل ہے اور اس سے زیادہ دشوار یہ ہے ان کا خون مریض کے لیے موافق بھی ہو جائے، اس لیے ایسے بینک ایک طبی ضرورت بن گئے ہیں اور
"الضرورات تبيح المحظورات"
کے تحت اس کی اجازت دی جانی چاہیے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۳۳۵، ط: نعیمیہ دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.