خوبصورت مزین برقعے کا حکم:
Question
آج کل بعض عورتیں خوبصورت ڈزائن والے برقعے اور عبایا پہنتی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
Answer
معاشرے کو پاکیزہ رکھنے، فتنہ و فساد کے سدِ باب اور عورتوں کی عزت، آبرو اور ناموس کی حفاظت کی خاطر شریعتِ مطہرہ نے خواتین کو با پردہ گھر سے باہر نکلنے کی تعلیم دی ہے، پردہ ہی کی وجہ سے عورتوں کی شرم و حیا تابندہ رہتی ہے اور فساق و فجار کی مسموم نگاہوں سے خلاصی نصیب ہوتی ہے، اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب کہ پردہ اور برقع میں درجِ ذیل باتیں موجود ہوں:
(۱) پورے جسم کو ساتر اور چھپانے والا ہو، بوقتِ خروج چہرہ اور ہاتھوں کو بھی چھپائے۔
(۲) اتنا موٹا اور ڈھیلا ہو کہ جسم کے اعضائے مستورہ یا اس کی ساخت نمایاں نہ ہو۔
(۳) ایسے خوبصورت نقش و نگار والا اور پر کشش نہ ہو جو مردوں کو اپنی طرف مائل کر دے۔ کیوں کہ برقع سے مردوں کی توجہ ہٹانا مقصود ہے اور یہ تو توجہات کا مرکز بن گیا۔
جو عورتیں مردوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں ان کے متعلق حدیث شریف میں وعید آئی ہے۔ ملاحظہ ہو:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ صنفان من أهل النار لم أرهما قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا. (رواه مسلم، رقم: ۲۱۲۸، باب النساء الكاسيات عاريات).
مذکورہ بالا حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میری امت میں دو گروہ جہنمی ہوں گے، آپ ﷺ نے ان میں سے ایک ان عورتوں کو قرار دیا جو لباس پہنی ہوئی بھی ہوں اور بے لباس بھی ہوں۔
علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں کہ کاسیات و عاریات کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ اعلی قسم کے خوبصورت لباس میں ملبوس ہو کر بازاروں میں گشت کریں۔
علامہ بدر الدین عینی رحمه الله نے ابو داود کی شرح میں لکھا ہے:
ومنها: مشيهن في الأسواق في ثياب فاخرة، وأنواع طيب فاتحة، مكشوفات الوجوه، مائلات: متبخترات. (شرح أبي داود: ۳/۵٤، ط: الرياض).
روح المعانی میں علامہ آلوسی رحمه الله نے بھی مزین و منقش برقع کو ممنوع قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:
۱۸
/
۱٤٦
)۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
امام جصاص رحمه الله نے فرمایا کہ جب زیور کی آواز تک کو قرآن نے اظہارِ زینت میں داخل قرار دے کر ممنوع کیا ہے تو مزین رنگوں کے کا مدار برقعے پہن کر نکلنا درجہ اولی ممنوع ہوگا۔ (معارف القرآن:
٦
/
٤۰٦
)۔
مولانا عاشق الہی رحمه الله اپنی کتاب "شرعی پردہ" میں رقم طراز ہیں:
آج کل بہت سی عورتیں طرح طرح سے غیر مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی بہت ساری تدبیریں کرتی ہیں، مثلاً برقع پہن کر باہر نکلیں اور ہاتھوں کو باہر نکال دیا، یا برقع کا نقاب اتنا چھوٹا رکھا کہ دونوں طرف کے رخسار صاف نظر آ سکیں یا ایسا باریک نقاب برقع میں لگایا جو خد و خال اور حسن و جمال کو اور بھی نمایاں کر دے، اور خود برقع ہی بجائے پردہ کے کشش کا سامان بن گیا، برقع پر پھولوں کا بنانا، چمکدار یا باریک کپڑے کا برقع ہونا بد نفس لوگوں کو برقع والی کی طرف متوجہ کر دیتا ہے، برقعے کیا ہوے پردہ کے بجائے نظروں کو کھینچنے کا سامان بن گئے اور وہی مثل ہو گئی کہ جو نہ دیکھے وہ بھی دیکھے، العیاذ باللہ۔ (فصل الخطاب فی مسئلۃ الحجاب، ص
۱۰۹
، ط: ادارۃ المعارف)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.