غیر اللہ پر قیوم کے اطلاق کا حکم:

6 min readFatwa Vol 7 #202Urdu
Vol. 7باب (۷): نام اور القاب سے متعلق احکام کا بیان

Question

بعض لوگ مجددِ الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالی کو قیوم الزمان کہتے ہیں، نیز عبد القیوم کو قیوم کہتے ہیں، کیا یہ درست ہے یا نہیں، کیا "القیوم" اللہ تعالی کے مخصوص ناموں میں شمار ہوتا ہے یا نہیں؟

Answer

بعض صوفیہ حضرات اللہ تعالی کی صفتِ قیوم کو اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص نہیں سمجھتے اور ان صوفی بزرگوں پر اس کا اطلاق جائز سمجھتے ہیں جو بہت جاگتے ہوں اور ہر وقت اعمالِ صالحہ میں لگے رہتے ہیں، لیکن صوفیہ حضرات کے اس قول کے ساتھ فقہاء اور محدثین کا اتفاق نہیں۔
اللہ تعالی کے اسماء دو قسم پر ہیں:
(۱) مشترک؛ جو دوسروں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں، مثلاً: رحیم، کریم، رشید، علی وغیرہ۔
لیکن علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا کہ جس کا نام عبد الرحیم عبد الکریم وغیرہ ہو تو عبد لگا کر استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے۔
ملاحظہ ہو:
قال في الدر المختار: وجاز تسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لان العوام يصغرونها عند النداء قال ابن عابدين: وهذا مشتهر في زماننا حيث ينادون من اسمه عبد الرحيم وعبد الكريم أو عبد العزيز مثلاً فيقولون: رحيم، وكريم، وعزيز. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۱۷، سعيد).

(۲) اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص؛ جن کا استعمال اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ مثلاً: الرحمن، قیوم، قدوس، رزاق، غفار، جبار وغیرہ۔
اگر دوسری قسم کے اسماء کو کسی غیر اللہ کے ساتھ متصف کر کے اللہ تعالی کی مخصوص صفت ہی کا ارادہ کیا جائے تو یہ کفر ہے۔ تو اس معنی کے اعتبار سے حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمه الله کو قیوم الزمان کہنا بالکل جائز اور درست نہیں ہو گا، کیوں کہ القیوم کا معنی ہے کائنات کی ہر چیز کی نگرانی کرنا اور اس کی خبر رکھنا۔ یہ صفت اللہ تعالی کے غیر میں ہرگز نہیں ہو سکتی، البتہ لغوی معنی کے اعتبار سے کسی بندہ پر قیومیت کا اطلاق کرنا کہ فلان بھی بہت زیادہ نگران ہے یعنی خوب اچھی طرح نگرانی کرتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن مناسب نہیں ہے۔
چنانچہ شیخ محی الدین عربی لکھتے ہیں کہ ایک معتزلی العقیدہ عالم قیومیت کو اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص سمجھتے تھے، میں نے اس کو سمجھایا کہ
"الرجال قوامون على النساء"
میں رجال کو قوام کہا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ غیر اللہ قیوم ہو سکتا ہے، پھر کچھ ملاقاتوں کے بعد اس نے معتزلی عقائد سے توبہ کر لی۔
اس کے بعد شیخ اکبر لکھتے ہیں:

ولا فرق عندنا بينها (أي: القيومية) وبين سائر الأسماء الإلهية كلها في التخلق بها. (الفتوحات المكية: ۲/۱۸۲، الباب الثامن والتسعون في معرفة مقام السهر، ط: دار الفكر).

شیخ عبد الوہاب شعرانی تحریر فرماتے ہیں:

فهل يصح لا حد التخلق بالقيومية الذي هو السهر الدائم ليلاً ونهاراً؟ فالجواب كما قال الشيخ في الباب الثامن والتسعين: إنه يصح التخلق به كباقي الأسماء الإلهية

وليس ذلك من خصائص الحق. (اليواقيت: ۱/۷۱).

لیکن فقہاء اور محدثین اسمِ قیوم کو اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں ملاحظہ کیجیے مجمع الانہر میں ہے:

إذا أطلق على المخلوق من الأسماء المختصة بالخالق نحو القدوس والقيوم والرحمن يكفر. (مجمع الأنهر: ۱/٦۹۰).

یہ کفر تب ہو گا جب کہ اس شخص کے بارے میں ہر چیز پر نگرانی یا خالق ہونے یا تمام عیوب اور عوارض سے پاک ہونے کا عقیدہ رکھا جائے۔
ملا علی قاری رحمه الله شرح فقہ اکبر میں تحریر فرماتے ہیں:

ومن قال لمخلوق: يا قدوس، القيوم، أو الرحمن، أو قال: أسماء من أسماء الخالق كفر، وهو يفيد أن من قال لمخلوق: يا عزيز ونحوه يكفر أيضاً، إلا أن أراد بهما المعني اللغوي لا الخصوص الاسمي، والأحوط أن يقول: يا عبد العزيز، يا عبد الرحمن. (شرح الملا علي القاري على الفقه الأكبر، ص ۱۹۳).

علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

وذهب الأعلم إلى أنه (أي: الرحمن) علم كالجلالة لاختصاصه به تعالى وعدم إطلاقه على غيره تعالى معرفاً ومنكراً

قال السبكي: والحق أن المنع شرعي لا لغوي، وأن المخصوص به تعالى المعرف. (فتاوى الشامي: ۱/۷، سعيد).

اس سے معلوم ہوا کہ بعض اسماء اگر چہ لغت کے اعتبار سے غیر اللہ پر بولے جاتے ہیں لیکن شرعی معنی کے اعتبار سے نہیں بولے جاتے، جیسے رحمن اور قیوم۔

قال في النهاية: القيوم: من أسماء الله تعالى المعدودة وهو القائم بنفسه مطلقاً لا بغيره وهو مع ذلك يقوم به كل موجود، حتى لا يتصور وجود شيء ولا دوام وجوده إلا به. (النهاية في غريب الأثر: ٤/۱۳٤).

شرح اسماء الحسنی میں ہے:

لا يجوز تسمية المخلوق بالقيوم لان القيوم هو المستغني بنفسه عن غيره، المفتقر إليه كل ما سواه، وذلك مختص بالله لا يشركه فيه غيره، قال ابن القيم رحمه الله في النونية:
هذا ومن أوصافه القيوم والـ

٭

قيوم في أوصافه أمران:
إحداهما القيوم قام بنفسه
ٖ
٭

والكون قام به هما الأمران:
فالأول استغنائه عن غيره

٭

والفقر من كل إليه الثاني
وكذا لا يسمي المخلوق (بالرحمن) لأنه بكثرة استعماله اسماً لله تعالى صار علماً بالغلبة عليه مختصاً به كلفظ الجلالة فلا يجوز تسمية غيره به. (شرح اسماء الله الحسني في ضوء الكتاب والسنة لسعيد بن على القحطاني، ص ۱۲۹، ومتن القصيدة النونية، ص ۲۱۱، ط: القاهرة). وللاستزادة انظر: (المجلي شرح القواعد المثلي، ص ۱٤٤،
و آپ كے مسائل اور ان کا حل: ۸/۲٦۸
).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.