موسیقی کو حلال سمجھنے والے پر کفر کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص موسیقی کو حلال سمجھے تو اس پر کفر کا حکم لگایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
ما قبل میں تفصیلی دلائل سے واضح ہوا کہ موسیقی حرام اور ناجائز ہے، چنانچہ حرام کو حلال سمجھنے والا بدترین فاسق ہے البتہ اس پر کفر کا حکم لگانا مشکل ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
وفي جامع الفصولين روي الطحاوي من أصحابنا: لا يخرج الرجل من الإيمان إلا جحود ما أدخله فيه ثم ما تيقن أنه ردة يحكم بها وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بالشك مع أن الإسلام يعلو وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام مع أنه يقضي بصحة إسلام المكره
وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافراً متى وجدت رواية أنه لا يكفر، وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلي المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسيناً للظن بالمسلم. وزاد في البزازية: إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل. (فتاوى الشامي: ٤/۲۲۳، مطلب ما يشك انه ردة لا يحكم بها، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
راگ باجوں، ساز و موسیقی اور مروج قسم کی قوالیوں کا سننا شریعت کی رو سے حرام ہے، ان منکرات کو جائز کہنا الحاد و بے دینی کے سوا کچھ نہیں، انھیں جائز ثابت کرنے کی نا مبارک کوششیں در حقیقت الحاد ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۸/۳۹۳) ۔
جواہر الفقہ میں ہے:
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس طرح کفر و ارتداد کی ایک قسم تبدیل مذہب اسی طرح دوسری قسم یہ بھی ہے کہ ضروریاتِ دین اور قطعیاتِ اسلام میں سے کسی چیز کا انکار کر دیا جائے یا ضروریاتِ دین میں کوئی ایسی تاویل کی جائے جس سے ان کے معروف معانی کے خلاف معنی پیدا ہو جائیں اور غرض معروف بدل جائے اور ارتداد کی اس قسمِ دوم کا نام قرآن کی اصطلاح میں الحاد ہے ۔ (جواہر الفقہ: ۱/۲۸) ۔
البتہ بعض فقہاء نے استحلال کو کفر کہا ہے ۔ چنانچہ شرح منظومہ ابن وہبان میں ابن وہبان کے اس شعر
ومن يستحل الرقص قالوا بكفره
٭
وسيما إذا بالدف يلهو ويزمر.
کے تحت تفصیل مرقوم ہے ۔
شعر کا مطلب یہ ہے کہ گانا بجانا اور رباب بجانا اور رقص سب حرام ہیں اور اس کے مستحل کو کافر کہا ۔ (
شرح منظومة ابن وهبان: ۱/۲۱٤، فصل من كتاب السير، ط: الوقف المدني، ديوبند، وفتاوى البزازية بهامش الهندية: ٦/۳٤۹، في المتفرقات).
البتہ علامہ شامی رحمه الله نے بحوالہ التمہید فسق کو نقل کیا ہے ۔ عبارت ملاحظہ کیجیے:
قال في فتاوى الشامي: ورأيت فتوي شيخ الإسلام سيد جلال الملة والدين الكيلاني أن مستحل هذا الرقص كافر، وتمامه في شرح الوهبانية. ونقل في نور العين عن التمهيد: أنه فاسق لا كافر. (فتاوى الشامي: ٤/۲۵۹، سعيد).
فتاوی عزیزی میں مرقوم ہے:
اور مضمرات میں لکھا ہے:
من أباح الغناء يكون فاسقاً.
یعنی جس نے مباح کہا غنا کو یعنی راگ کو وہ فاسق ہے ۔ (فتاوی عزیزی، ص۲۱۷، سعید) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.