ربا القرآن کو حلال سمجھنے والے کا حکم:
Question
ایک شخص اس بات کا قائل ہے کہ ہزار رینڈ قرضہ دینا اس شرط کے ساتھ کہ ایک ہزار دوسو رینڈ واپس دیے جائیں، کوئی گناہ نہیں ہے اور عام عقد کی طرح ہے جس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیا ایسے آدمی کا ایمان خطرہ میں ہے اور اگر وہ ربا کی حقیقت سے ناواقف ہو تو پھر اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
سوال میں مذکورہ معاملہ کھلا سودی معاملہ ہے ۔
تفسیر مظہری میں ہے:
الربا في اللغة: الزيادة قال الله تعالى: ﴿ويربي الصدقات﴾ (سورة البقرة: ۲۷٦)، والمعني أن الله حرم الزيادة في القرض على القدر المدفوع. (تفسير مظهري: ۱/ ۳۹۱).
احکام القرآن میں ہے:
الربا في اللغة: الزيادة والمراد في الآية كل زيادة لم يقابلها عوض. (أحكام القرآن لابن العربي: ۱/۳۲۱، دار الفكر).
لسان العرب میں ہے:
الربا ربوان والحرام كل قرض يؤخذ به أكثر منه أو تجر به منفعة. (لسان العرب: ۵/۱۲٦).
التفسیر الکبیر میں ہے:
اعلم أن الربا قسمان ربا النسيئة وربا الفضل أما ربا النسيئة فهو الأمر الذي كان مشهوراً متعارفاً في الجاهلية وذلك أنهم كانوا يدفعون المال على أن يأخذوا كل شهر قدراً معيناً ويكون رأس المال باقياً ثم إذا حل الدين طالبوا المديون برأس المال فإن تعذر عليه الأداء زادوا في الحق والأجل فهذا هو الربا الذي كانوا في الجاهلية يتعاملون به. (التفسير الكبير للرازي: ٤/۹۲).
الدر المختار میں ہے:
وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام وفي الأشباه كل قرض جر نفعاً حرام، (قوله كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً كما علم مما نقله عن البحر. (الدر المختار: ۵/ ۱٦٦، ط: سعيد).
اوجز المسالک میں ہے:
قال الموفق: كل قرض شرط فيه أن يزيده فهو حرام بغير خلاف. (أوجز المسالك: ۱۲/۲۲٤، دار القلم).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
من اعتقد الحرام حلالاً أو على القلب يكفر أما لو قال لحرام هذا حلال لترويج السلعة أو بحكم الجهل لا يكون كفراً، وفي الاعتقاد هذا إذا كان حراماً لعينه وهو يعتقده حلالاً حتى يكون كفراً، أما إذا كان حراماً لغيره فلا، وفيما إذا كان حراماً لعينه إنما يكفر إذا كانت الحرمة ثابتة بدليل مقطوع به، أما إذا كانت بأخبار الآحاد فلا يكفر، كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية: ۲/۲۷۳).
مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ ربا کی دو قسمیں ہیں ایک ربا الفضل جس کو ربا الحدیث بھی کہتے ہیں اس کی حرمت حدیث سے ثابت ہونے کی وجہ سے، اور دوسرا ربا النسیئہ ہے جس کو ربا القرآن بھی کہتے ہیں اس کی حرمت قرآن سے ثابت ہونے کی وجہ سے، اور یہ دوسری قسم نزولِ قرآن سے پہلے بھی عرب میں معروف و مشہور اور جانی پہچانی تھی اور عرب میں اس کا اکثر رواج تھا، نیز ربا کی اس قسم کی حرمت ایک حدیث سے بھی ثابت ہے ۔
حدیث شریف میں ہے: "
كل قرض جر نفعاً فهو حرام"
[روى الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" (۲/۲۰۱/٤۳۱) بسنده، فقال: حدثنا حفص بن حمزة، أنبأ سوار بن مصعب، عمارة الهمداني قال: سمعت علياً يقول: قال رسول الله عليه وسلم: "كل قرض جر منفعة فهو ربا" وفيه سوار بن مصعب؛ قال النسائي: متروك، وقال البخاري: منكر الحديث، وله شاهد ضعيف عن فضالة بن عبيد عند البيهقي في "المعرفة" (٤/۳۹۱)، موقوفاً عليه، بلفظ "كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا" وآخر عن عبد الله بن سلام رضي الله عنه عند البخاري موقوفاً عليه. ورواه البيهقي في "الكبرى" (۵/۳۵۰)، عن ابن مسعود رضي الله عنه وأبي بن كعب رضي الله عنه وعبد الله بن سلام رضي الله عنه وابن عباس رضي الله عنه موقوفاً عليهم].
وللمزيد من البحث انظر: (التلخيص الحبير: ۳/۸۹/۱۲۲۷، باب القرض، ونصب الراية لأحاديث الهداية: ٤/٦۰، كتاب الحوالة، والسنن الصغير للبيهقي، ص٤۹۰، باب القرض، وبلوغ المرام، ص۲۵۲، رقم: ۸۵۰، ۸۵۲).
لہذا ربا کی اس صورت کا انکار کرنا جس کی حرمت قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ نصوص سے ثابت ہے اور اس کو حلال اعتقاد کرنا کفر ہے، لیکن اگر لا علمی اور جہالت کی وجہ سے کسی نے ایسا کہ دیا تو کفر نہیں ہوگا لیکن ایسا آدمی فاسق ضرور ہوگا، نیز یہ کہنا کہ ربا بھی ایک قسم کی تجارت ہے اور بیع اور ربا میں کوئی فرق نہیں دونوں یکساں چیزیں ہیں قطعاً غلط ہے اور اس بات کی تردید بھی قرآن مجید میں بڑے ہی حاکمانہ انداز میں فرمائی گئی ہے ۔
ملاحظہ ہو قرآنِ کریم میں ہے:
﴿أحل البيع وحرم الربوا﴾ (سورة البقرة: ۲۷۵)
یعنی اللہ تعالی نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام فرمایا ہے تو بھلا دونوں یکساں کیسے ہو سکتے ہیں؟ حاصل یہ کہ نفع کی منصفانہ تقسیم کا نام بیع و تجارت ہے اور یہ باہمی ہمدردی تعاون و تناصر پر مبنی ہے اور ربا خود غرضی بے رحمی اور ہوس پر ستی پر مبنی ہے ۔
خلاصہ یہ کہ اس آدمی کو جلد توبہ کرنی چاہیے اور اپنے غلط اور بد عقائد سے باز آ جانا چاہیے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.