قرآن شریف کا فقط ترجمہ شائع کرنے کا حکم:
Question
کیا قرآن مجید کا فقط ترجمہ شائع کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
فقہائے کرام اور مفتی حضرات زمانہ قدیم سے قرآن کے ترجمہ کو قرآنی کلمات کے بغیر چھاپنے کو ناجائز فرماتے ہیں اور اس میں متعدد خرابیاں بتلاتے ہیں:
(۱) لوگ اس کو اصل قرآن سمجھیں گے جو کہ غلط ہے ۔
(۲) رفتہ رفتہ آگے جا کراس کو نمازوں میں پڑھنا شروع کر دیں گے جو ناجائز ہے ۔
(۳) قرآنِ کریم کے کلمات اور الفاظ کی برکت سے محروم ہو جائیں گے ۔
(٤) قرآنِ کریم کے کلمات سامنے ہوں اور ان کے ساتھ ترجمہ ہو تو علمائے کرام اور تفسیر سے شغف رکھنے والوں کو پتا چلے گا کہ مناسب ترجمہ لیا گیا یا نامناسب ہے ۔
(۵) ترجمہ پڑھنے کے ساتھ تلاوت بھی ہو گی ۔
(٦) ترجمہ متن کے بغیر چھاپنا اکابر و سلف کے طریقہ کے خلاف ہے ۔
(۷) ہمارے سب اکابر نے اس طرح کرنے کو ناجائز لکھا ہے ۔ اس لیے قرآنِ کریم کا ترجمہ اور اس کے ساتھ عربی قرآنِ کریم چھاپنا چاہیے ۔
اور اگر غیر مسلم کو قرآنِ کریم دینے کی ضرورت ہو یا غیر مسلم مانگ لے تو پھر قرآنِ کریم بمع تفسیر اس کو دے دیا جائے، اور تفسیر بھی ایسی ہو جو غیر مسلم ممالک کے غیر مسلموں کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہو، صرف قرآنِ کریم بمعہ ترجمہ یا بغیر ترجمہ غیر مسلموں کو دینے کی ضرورت ہو تو اگر وہ جنابت میں ہو تو غسل کر لے اور اگر غسل کیا ہو تو وضو کے لیے کہا جائے پھر وہ نہا دھو کر قرآنِ کریم لے سکتا ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
قال أبو حنيفة رحمه الله: أُعَلِّمُ النصراني الفقه والقرآنَ لعله يهتدي ولا يمس المصحف وإن اغتسل ثم مس لا بأس كذا في الملتقط. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲۳).
(وكذا في الأشباه والنظائر: ۱/۱٦۸، والدر المختار: ۱/۱۷۷، سعيد، والبحر الرائق: ۸/۲۰۳).
حضرت عمر
رضي الله عنه
کے اسلام کے واقعہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ ان کی بہن نے حضرت عمر
رضي الله عنه
کو غسل کے لیے فرمایا اور پھر قرآنِ کریم کے اور اق دے دئیے ۔ مختصر قصہ ملاحظہ فرمائیں:
أخرج الحاكم في المستدرك (٤/۷۰/٦۸۹۷)، والدارقطني في سننه (۱/۱۲۳/۷، باب في نهي المحدث عن مس القرآن) والضياء المقدسي في الأحاديث المختارة (۳/۱۱۲)، والبيهقي في دلائل النبوة (۲/۹۲/۵۱۹) والذهبي في تاريخ الإسلام (۱/۱۷٤) وابن سعد في الطبقات الكبري (۳/۲٦۸) وابن عساكر في تاريخ دمشق (٤٤/۳٤) واللفظ للبيهقي، عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: خرج عمر رضي الله عنه متقلداً السيف، فلقيه رجل من بني زهرة، فقال له: أين تعمد يا عمر؟ فقال: أريد أن أقتل محمداً قال: وكيف تأمن من بني هاشم وبني زهرة؟
إلى قوله: فقال عمر رضي الله عنه: أعطوني الكتاب الذي هو عندكم، فأقرأ ه قال: وكان عمر رضي الله عنه يقرأ الكتب، فقالت أخته: إنك رجس وإنه لا يمسه إلا المطهرون، فقم فاغتسل أو توضأ قال: فقام عمر رضي الله عنه، فتوضأ، ثم أخذ الكتاب فقرأ طه
الخ. وقال الدارقطني: القاسم بن عثمان ليس بقوي. وقال البخاري: له أحاديث لا يتابع عليها.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.