یہود کی خوش عیش زندگی اور قرآنِ کریم:
Question
اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں یہود کے بارے میں فرمایا کہ: ان پر ذلت اور مسکنت کی مہر لگائی گئی ہے، حالانکہ کافی عرصہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ بڑی عزت کی زندگی گزارتے ہیں، امریکہ، یورپ ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں، عرب ممالک میں ایک چھوٹے سے حصے پر حاکم ہونے کے باوجود ایٹمی طاقت کے مالک ہیں، تو قرآنِ کریم کی آیت کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
کتبِ تفاسیر میں مفسرین حضرات نے بہت کچھ تحریر فرمایا ہے لیکن سب کا ماحصل اور خلاصہ یہ ہے کہ یہود پر مسکینی دائمی یا کچھ مدت کے لیے لگائی گئی، اور یہ مسکینی یا واقعی ہے کہ ان کے اکثر افراد فقیر ہیں ہاں ان میں سے کچھ فیصد مالداری کے اوج ثریا پر پہونچے ہیں اور اکثر حضرات کے نزدیک دلوں کی مسکینی مراد ہے یعنی حرص و بخل میں ضرب المثل بنے ہوے ہیں ۔ اور لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں، حضرت قاری محمد طیب صاحب رحمه الله مہتممِ دار العلوم دیوبند کا اس مسئلہ پر ایک رسالہ ہے اس کو ملاحظہ کیا جائے ۔
اور ان پر ذلت اور کمزوری ڈالی گئی ہے کچھ مدت قبل تک سب ان کو ذلیل سمجھتے تھے، ہاں اگر یہ اللہ تعالی کے دین کی رسی پکڑ لیں یا دوسری اقوام کے دامن شفقت میں پناہ لیں تو ان کی ذلت اور کمزوری ختم ہو جائے گی یا ذلت چھپ جائے گی، اور یہود آج کل دوسری اقوام کی گود میں اس طرح بیٹھے ہوے ہیں جیسے بچہ ماں کی گود میں بلکہ بچہ نے ماں کو کھلونا بنایا ہے اور ماں بچہ کی محبت میں انصاف اور سچائی کی حدود تجاوز کر رہی ہے،
فإلي الله المشتكى.
امام رازی رحمه الله کی تفسیر اور قرۃ العینین تعلیقاتِ جلالین سے پتا چلتا ہے کہ
"ضربت عليهم الذلة والمسكنة"
اور
"أينما ثقفوا إلا بحبل من الله وحبل من الناس"
کا مطلب یہ ہے کہ جب یہود اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے تو ان کے ساتھ قتال کر کے ان کو ذلیل اور مسکین بنایا جائے جیسے خیبر میں ان کی زمینوں اور اموال کو چھین لیا گیا ۔ الا یہ کہ عقد ذمہ کے نتیجے میں قتال اور محاربہ سے بچ جائیں، اور اس کی نظیر
"أينما ثقفوا أخذوا وقتلوا تقتيلاً"،
یعنی یہ شرط و جزا کی طرح ہے ۔ ملاحظہ کیجیے: (
قرة العينين تحت الآية: ۱۱۲، سورة آل عمران). وللاستزادة انظر: (التفسير المظهري: ۲/۱۲۱، وجواهر القرآن للطنطاوي: ۱/ ۱٤۲، وزاد المسير في علم التفسير لابن الجوزي: ۱/٤٤۱، والتفسير الواضح للشيخ الصابوني، ص ۱٤۳، وتفسير البيضاوي، ص ۸۵، وأنوار البيان في كشف اسرار القرآن: ۱/۱۲۱، وكتاب الاستفسار، ص: ۱۰۵، وتفسير ماجدي: ۱/۱٤٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.