شہابِ ثاقب کا جنات کا تعاقب کرنا :
Question
کیا قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ شہابِ ثاقب کے ذریعہ جن جنات کو فرشتے مارتے ہیں یہ وہ جنات ہیں جو ملأ اعلی کی گفتگو سننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ نیز شیاطین کے مارے جانے کا سلسلہ نبی پاک ﷺ کی ولادت کے بعد شروع ہوا یا بعثت و رسالت کے بعد ؟ بینوا توجروا ۔
Answer
قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جب جنات ملأ اعلی کی گفتگو سننے کی کوشش کرتے ہیں تو شہابِ ثاقب جنات کا تعاقب کرتے ہیں، اور اصح قول کے مطابق یہ سلسلہ نبی پاک ﷺ کی بعثت کے بعد شروع ہوا، ہاں شہابِ ثاقب پہلے سے موجود تھے لیکن ان سے یہ کام آپ ﷺ کی بعثت کے بعد لیا گیا ۔ البتہ بعض کتبِ تاریخ میں آپ ﷺ کی ولادت سے شروع ہونا مرقوم ہے لیکن یہ قول مرجوح ہے ۔ یا یہ کہ ولادت کے وقت رمی کا سلسلہ کم تھا، بعثت کے بعد بہت زیادہ ہوا، یا ولادت کے وقت موقوف ہو کر بعثت کے وقت سے تا ہنوز جاری ہے ۔
ملاحظہ ہو فرمائیں، علامہ آلوسی رحمه الله فرماتے ہیں:
وثانياً وهو الحق: بأنها كانت موجودة قبل البعثة لا سباب أخر ولا تنكر ذلك إلا أنه لا ينافي أنها بعد البعثة قد توجد بسبب دفع الشياطين وزجرهم،
(روح المعاني: ۱٤/۲۵، دار التراث).
قال الإمام الرازي: المقام الثاني: وهو أقرب إلى الصواب أن هذه الشهب كانت موجودة قبل المبعث إلا أنها زيدت بعد المبعث وجعلت أكمل وأقوي، وهذا هو الذي يدل عليه لفظ القرآن، لأنه قال: ﴿فوجدناها ملئت﴾ [الجن: ۸]. وهذا يدل على أن الحادث هو الملء والكثرة
الخ. (التفسير الكبير: ۱۵/۱۵۸، ط: دار الفكر).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (روح المعانی، سورۂ حجر، و سورۂ جن، و تفسیر کبیر، سورۂ جن، و تفسیر ابن کثیر، سورۂ جن، و تفسیر مظہری، و معارف القرآن، و سیرتِ حلبیہ:
۱
/
۱٦۸
، و مواہبِ لدنیہ، و کشف الباری، کتاب التفسیر از حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب) ۔
جاہلیت کے بعض شعراء کے کلام سے پتا چلتا ہے کہ شہابِ ثاقب بعثتِ نبوی سے پہلے بھی گرائے جاتے تھے ۔ ملاحظہ ہو :
قال العلامة الآلوسي: وجاء أيضاً في شعر الجاهلية: قال بشر بن أبي حازم:
والعير يلحقها الغبار وجحشها
٭
ينقض خلفهما انقضاض الكوكب.
وقال أوس بن حجر:
وانقض كالدري يتبعه
٭
نقع يثور تخاله طنبا. (روح المعاني: ۱٤/۲٤، دار التراث).
شہابِ ثاقب کیا ہے؟
اس بارے میں قدیم فلاسفہ کہتے ہیں کہ جب دھواں طبقہ ناریہ کو پہنچ کر نا ربن جائے اور بھڑک اٹھے تو یہ شہاب ہے، یاد رہے کہ قدیم فلاسفہ آسمان کے نیچے طبقہ ناریہ کے قائل ہیں ۔ علامہ آلوسی رحمه الله فرماتے ہیں:
إن انقضاض الكواكب مذكور في كتب قدماء الفلاسفة وذكروا فيه أن الأرض إذا سخنت بالشمس ارتفع منها بخار يابس فإذا بلغ كرة النار احترق بها فتلك الشعلة هي الشهاب. (روح المعاني: ۱٤/۲٤).
مزید دیکھیے: (ہدایۃ الحکمۃ شرح میبذی، ص
۳۷
، و فلکیاتِ جدیدہ از حضرت مولانا موسی روحانی بازی، ص
۲۸۲
) ۔
جدید فلاسفہ کہتے ہیں کہ شہب بے شمار چھوٹے اجسام ہیں جن کا حجم عموماً چنے اور اخروٹ سے بڑا نہیں ہوتا اجسام وسیع فضا میں نہایت تیز رفتاری یعنی برفتار ۲۰ میل و ۲۵ میل فی سیکنڈ بلکہ بعض برفتار ٤۰ میل یا اس سے بھی زیادہ میل فی ثانیہ گردش کرتے ہیں ۔ سطح ارض سے تقریباً ۱۰۰ میل بالا بالا شہاب ٹوٹنے کا آغاز ہوتا ہے اور زمین سے ۵، ۱۰ میل کے فاصلے پر پہنچ کر جل بھن کر راکھ ہو جاتے ہیں ۔ البتہ گاہے گاہے اگر شہابی پتھر کا حجم بڑا ہو تو اس کے کچھ ٹکڑے صحیح و سالم زمین تک پہنچ جاتے ہیں اور بڑی تباہی کا باعث بن جاتے ہیں ۔
دنیا کے مختلف عجائب گھروں میں اس قسم کے بے شمار احجارِ شہابی محفوظ ہیں ۔ دنیا میں سب سے بڑا شہابی پتھر گرین لینڈ میں ایک سیاح کو ملا، وہ اسے امریکہ لے آیا، اس کا وزن تقریباً ۳۰ ٹن ہے ۔ ۱۹۱۷ ء میں سکاٹ لینڈ میں ایک شہاب گرا ۔ اس کے ایک ٹکڑے کا وزن ۲۲ پونڈ ہے ۔ ۱۰ نومبر ۱٤۹۲ ء کو فرانس میں ایک شہابی حجر گر کر پانچ فٹ تک زمین میں دھنس گیا ۔ اس کا وزن سوا تین من تھا ۔ اب بھی لوگ اسے دیکھنے کے لیے جاتے رہتے ہیں ۔ میکسیکو میں ایک شہابی حجر محفوظ ہے جس کا وزن ۸۰۰ من ہے یہ ٹکڑا لوہے کا ہے ۔ (فلکیاتِ جدیدہ، ص:
۲۷۱
۔
۲۸۰
، از مولانا موسی روحانی بازی) ۔
شہاب کو نجم کہنے کی وجہ:
علامہ آلوسی رحمه الله نے فرمایا کہ شہاب کو نجم اس کے چمکنے اور روشن ہونے میں مشابہت کی وجہ سے کہا گیا ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ یہ شعلے بعض ستاروں سے ٹوٹ کر گرائے جاتے ہوں ۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:
والشهاب على ما قال الراغب؛ الشعلة الساطعة من النار الموقدة من العارض في الجو ويطلق على الكوكب ببريقه كشعلة النار
إلى قوله: وإطلاق الرجوم على النجوم وقولهم: رمي بالنجم يحتمل أن يكون مبنياً على الظاهر للرائي
الخ. (روح المعاني: ۱٤/۲۳. ۲٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل دوم
تلاوت سے متعلق احکام کا بیان
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.