صحابی کا نام عکاشہ (مکڑی) تبدیل نہ کرنے کی حکمت:
Question
نبی ﷺ ناپسند ناموں کو تبدیل فرماتے تھے، لیکن صحابہ میں ایک صحابی کا نام عکاشہ بن محصن تھا، اس کا معنی ہیں مکڑی جو کہ حقیر صغیر جانور ہے تو نبی ﷺ نے کیوں تبدیل نہیں فرمایا اس میں کیا حکمت تھی؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ناموں کے تجویز کرنے کا اصول یہ ہے کہ فقط لفظ کے ظاہری معنی کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی اچھی صفات اور اچھے خواص کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اور اس کی بہت ساری مثالیں ہیں:
۱۔ حنظلہ کے معنی کڑوا ہونے کے ہیں لیکن اس کا مطلب باطل اور کفار کے مقابلہ میں کڑوا ہونا ہے۔
۲۔ عکرمہ کے معنی کبوتر کے ہیں وہ بھی چھوٹا حقیر جانور ہے لیکن پرانے زمانہ میں پیغام رسانی کا کام لیا جاتا تھا، تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالی کا دین پہنچانے والا۔
۳۔ لڑکی کا نام حراء رکھتے ہیں، اور حرا سے مقصود وحی اول کے متبرک مکان کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
مستفاد از فتاوی دار العلوم زکریا (
۷
/
۵۸۰
)۔
چنانچہ مکڑی کی چند اچھی صفات درجِ ذیل ہیں:
۱۔ مکڑی سادہ زندگی والا جانور ہے۔ کیوں کہ مکڑی کا گھر کمزور ترین گھر ہے، "
وإن أوهن البيوت لبيت العنكبوت"
۔ اس آیتِ کریمہ کے تحت شیخ محمد شریف اللہ صاحب نے التفسیر البدیع میں گھر کی چار اقسام بیان کی ہے۔ (الف) پتھر کا گھر؛ اس میں سایہ ہے اور گرمی، سردی، ہوا، نیز پانی، آگ اور مٹی وغیرہ سے امن و امان حاصل ہے۔ (ب) لکڑی کا گھر: اس میں سایہ ہے سردی، گرمی سے بچاؤ کا فائدہ ہے لیکن آگ سے امن نہیں ہے۔ (ج) پشم یا اون یا بالوں کا خیمہ (گھر) اس میں سایہ ہے لیکن سردی، گرمی وغیرہ سے امن حاصل نہیں ہے۔ (د) مکڑی کا گھر: اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے نہ سایہ ہے نہ سردی، گرمی سے امن ہے، بالکل کم درجہ کا گھر ہے، تو اس میں قناعت اور سادگی ہے۔ (التفسیر البدیع:
۲
/
۱۰۸
)۔
حیاۃ الحیوان میں ہے:
أحرص الأشياء الذباب وأقنع الأشياء العنكبوت
، اشیاء میں سب سے زیادہ حریص مکھی ہے اور سب سے زیادہ صبر والی مکڑی ہے۔ (حیاۃ الحیوان:
۲
/
۲۷
)۔
۲۔ مکڑی کی ایک صفت یہ ہے مکھی کو مار دیتی ہے، یعنی حشرات الارض کا دفعیہ ہے، جیسے امام بخاری رحمه الله نے خواب دیکھا تھا کہ نبی ﷺ سے مکھی کو دفع کرتے ہیں، معبرین نے تعبیر دی کہ نبی ﷺ کی احادیث سے کذب اور ملاوٹ کو دفع کریں گے، پھر صحیح بخاری شریف تصنیف فرمائی۔ (ہدی الساری، الفصل الاول، ص
٦
) اسی طرح مکڑی نے نبی ﷺ سے مشرکین جو جانوروں سے بدتر تھے غار میں آنے سے دفع کیا تھا۔
۳۔ مکھی کو مارنا یہ بہت مشکل کام ہے اس کے باوجود کمالِ مہارت سے مارتی ہے تو یہ اسم مسمی کی کمالِ مہارت پر دلالت کرتا ہے۔
٤۔ بوقتِ ہجرت غارِ ثور میں مکڑی نے نبی ﷺ پر پردہ کیا، اس وجہ سے اللہ تعالی نے اس عمل کی قدردانی کرتے ہوے قرآنِ کریم میں مستقل سورت نازل فرمائی۔ نام تبدیل نہ کرنے کے لیے صرف اتنا فخر کافی ہے۔ پس ان مذکورہ بالا وجوہات کی وجہ سے نبی ﷺ نے نام تبدیل نہیں فرمایا۔
حوالہ جات ملاحظہ کیجیے: (القاموس الوحید: ۲/۱۱۱۱، و المنجد فی اللغۃ، ص ۵۲۲، و المعجم الوسیط، ص ٦۱۹، و الصحاح للجوہری: ۳/ ۸۵۰، و لسان العرب: ٦/۳۱۹، و لسان اللسان: ۲/۲۰۹، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۷/۵۷۳)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.