جنین کے اسٹیم سیل استعمال کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص مرگی کی بیماری کا مریض ہے، نیز دیگر دماغی اور بدنی بیماریوں میں مبتلا ہے، آج کل علاج و معالجہ کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے، جس کو اسٹیم سیل تھرپی (stem cell therapy) کہتے ہیں، طریقہ علاج یہ ہے کہ مریض کے جسم میں اسٹیم سیل داخل کیے جاتے ہیں اور قوی امید ہوتی ہے کہ یہ سیل اندرونی ناقص سیل کی تلافی کر لیں گے، اور یہ سیل جنین سے حاصل کیے جاتے ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ علاج جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اسٹیم سیل حاصل کرنے میں اگر جنین کو کوئی جانی نقصان کا اندیشہ نہ ہو نہ فی الحال اور نہ مستقبل میں تو علاج کے طور پر بعض علماء نے اس کے اسٹیم سیل استعمال کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے، اور اگر سیل حاصل کرنے میں جنین کو فی الحال یا آئندہ زمانہ میں کسی ضرر یا نقصان کا اندیشہ ہو تو پھر کسی کے نزدیک بھی اس کی اجازت نہیں اس سے بالکل بچنا لازم ہے۔
اسٹیم سیل سے متعلق چند ضروری باتیں درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
جنینی اسٹیم سیل کا تعارف:
سائنس کی ترقی کے نتیجہ میں جو مسائل سامنے آئے ہیں اس میں اسٹیم سیل کا مسئلہ بھی ایک ہے، جنینی اسٹیم سیل دراصل علقہ ہے، استقرارِ حمل کے چار پانچ دن کے بعد نطفہ مرکب نشو نما کے ابتدائی مراحل میں علقہ کی ایک صورت اختیار کرتا ہے جسے بلاسٹوسسٹ (Blastocyst) کہتے ہیں، اسی بلاسٹوسسٹ کے خلیات اسٹیم سیل کہلاتے ہیں، اس کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ مکمل انسان بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے محدود دائرہ میں آکسیجن بھی حاصل کرتا ہے۔ (مستفاد از مقالہ از مولانا خالد سیف اللہ صاحب، جدید فقہی مباحث:
۲۰
/
۱٦۳
)۔
اسٹیم سیل حاصل کرنے کے ذرائع:
سائنسی تحقیق کے مطابق درجِ ذیل ذرائع سے اسٹیم سیلس حاصل کیے جا سکتے ہیں:
(۱) ایک ہفتہ یا دو ہفتے پرانے جنین (Emberyo) سے۔
(۲) اسقاط شدہ جنین سے۔
(۳) ٹسٹ ٹیوب بے بی کے باقی ماندہ علقات سے۔
(٤) نو مولود بچہ کی ناف کے خون سے۔
(۵) ہڈیوں کے گودے (Bone Merrow) سے۔
(٦) بالوں کی جڑوں (Hair Mollicle) سے۔
(۷) چمڑے کے نیچے کی چربی دارخلیوں (Fat Cells) سے۔ (مستفاد از مقالہ از مولانا خالد سیف اللہ صاحب، جدید فقہی مباحث:
۲۰
/
۱٦٤
)۔
اسٹیم سیل کی حیثیت:
(الف) بعض حضرات فرماتے ہیں جنینی اسٹیم سیل ذی روح کا درجہ رکھتے ہیں، اور اس کی نظیر فقہاء کے کلام میں مختلف انداز سے دستیاب ہوتی ہے۔
جدید فقہی مباحث (
۲۰
/
۳۰۷
) میں مولانا عبد الودود صاحب اپنے مقالہ میں لکھتے ہیں:
- فقہاء کرام نے منی ضائع کرنے سے سختی سے منع کیا ہے اور علامہ شمس الائمہ سرخسی رحمه الله نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف "المبسوط" میں فرمایا ہے کہ عورت کے رحم میں جا کر نطفہ جب تک خراب نہ ہو اس کے اندر زندگی کی صلاحیت رہتی ہے، اس لیے اس کو ضائع کرنے کی صورت میں ایک زندہ شخص قرار دے کراس کا ضمان واجب ہوگا، جیسے کوئی شخص حالتِ احرام میں شکار کا انڈا توڑ دے تو اس پر وہی تاوان واجب ہوتا ہے جو ایک شکار کو مار دینے میں ہوتا ہے۔ (المبسوط:
۲٦
/
۸۷
)۔
- اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو خصی کرنے سے منع فرمایا، ظاہر سی بات ہے کہ منع کرنے کی کوئی وجہ ہے مآل کے اعتبار سے نسل انسانی کا انقطاع ہوگا اور اللہ کی بیش بہا نعمت کو ضائع کرنے کی صورت میں اللہ کے غضب کو زیادہ کرنا ہوگا۔
يمنع في خصاء الآدميين
۔ (الاحکام السلطانیۃ)۔
- اسی طرح فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے کہ کوئی شخص کسی کی ریڑھ کی ہڈی پر مار دے جس سے اس کا مادۂ تولید ختم ہو جائے تو اس پر دیت واجب ہو گی، کیوں کہ اس سے منفعت کی ایک قسم توالد و تناسل ختم ہو گئی۔
ومن ضرب صلب غير ه فانقطع ماء ه تجب الدية لتفويت جنس المنفعة. (الهداية: ٤/٤۸۹).
دوسری جگہ (
۲۰
/
۳۹۱
) پر مفتی عبد الرحیم قاسمی اپنے مقالہ میں لکھتے ہیں:
- سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق اگر جنینی اسٹیم سیل مکمل انسان بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے محدود دائرہ میں آکسیجن بھی حاصل کرتا ہے تو وہ ذی روح کے وجود کی طرح قابل احترام ہوگا۔
علامہ سرخسی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
ثم الماء في الرحم ما لم يفسد فهو معد للحياة فيجعل كالحي في إيجاب الضمان بإتلافه كما يجعل بيض الصيد في حق المحرم كالصيد في إيجاب الجزاء عليه بكسره. (المبسوط: ۲٦/۸۷).
- علامہ شامی رحمه الله فقیہ علی بن موسی سے نقل کرتے ہوے لکھتے ہیں:
فإن الماء بعد ما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية. (فتاوى الشامي: ۳/۱۷٦).
مذکورہ حضرات کی تحقیق کے مطابق ان کے نزدیک اسٹیم سیل کا استعمال ناجائز ہوگا۔
لیکن بعض حضرات نہ اس کو ذی روح کے حکم میں مانتے ہیں اور نہ اس کو قابل احترام گردانتے ہیں:۔
ڈاکٹر ظفر الاسلام اعظمی امام ابو بکر جصاص رحمه الله کی عبارت نقل کرتے ہوے لکھتے ہیں:
قال أبو بكر: قوله تعالى: من مضغة مخلقة ظاهره يقتضي أن لا تكون المضغة إنساناً كما اقتضي ذلك في العلقة والنطفة والتراب وإنما نبهنا بذلك على تمام قدرته ونفاذ مشيته حين خلق إنساناً سوياً معدلاً بأحسن التعديل من غير إنسان وهي مضغة والعلقة والنطفة التي لا تخطيط فيها ولا تركيب ولا تعديل للأعضاء فاقتضي أن لا تكون المضغة إنساناً كما أن النطفة والعلقة ليستا بإنسان وإذا لم تكن إنساناً لم تكن حملاً فلا تنقضي بها العدة إذ لم تظهر فيها الصورة الإنسانية. (أحكام القرآن: ۵/۵۷).
عبارتِ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ جس علقہ اور مضغہ میں تخطیط و ترکیب و تعدیل نہیں وہ انسان نہیں اور جب انسان نہیں تو اس پر حمل کا اطلاق بھی نہ ہوگا چہ جائیکہ اس سے انقضائے عدت ہو۔ (جدید فقہی مباحث:
۲۰
/
۵۹
)
مولانا خالد سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ اسے حقیقی انسان کا درجہ نہیں دیا جا سکتا، کیوں کہ ابھی یہ علقہ اور مضغہ ہے۔ جس میں نشو و نما تو ہوتی ہے لیکن تنفس کا نظام نہیں ہوتا، اسی وجہ سے سولہ ہفتوں سے پہلے فقہاء نے اسقاطِ حمل کی اجازت دی ہے، علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
قال يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوماً وإنما أباحوا ذلك لأنه ليس بآدمي. (رد المحتار: ۱/۲۷۲). (جديد فقهي مباحث: ۲۰/۱٦٤).
جنینی خلیے بطورِ علاج استعمال کرنے سے متعلق علماء کے دو نظریے:
مولانا خالف سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں: اس سلسلہ میں دو پہلو قابل توجہ ہیں: اول یہ کہ جنین سے سیل کا حصول کہیں اس کے لیے مہلک تو نہیں ہوگا، دوسرے ان سیلس سے عضو کی تیاری کا مطلب یہ ہے کہ وہ آئندہ پیش آنے والی ضرورت کی تکمیل کے لیے ہے، اور جہاں تک اجزاء انسانی سے بوقتِ ضرورت بطریقہ علاج فائدہ اٹھانے کی بات ہے تو بعض اہل علم کی رائے اس کے مطلقاً ممنوع ہونے کی ہے، اور جن حضرات نے اجازت دی ہے ان کے یہاں بھی یہ جواز کچھ شرطوں کے ساتھ مشروط ہے، جن میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ ضرورت بالفعل موجود ہو، لہذا عضو سازی کے لیے جنین سے سیل لینا درست نظر نہیں آتا۔ (جدید فقہی مباحث:
۲۰
/
۱٦۵
)۔
مولانا زبیر احمد قاسمی اپنے مقالہ میں لکھتے ہیں:
جنینی اسٹیم سیل کوفی الحال جاندار اور ذی روح کی طرح قابل احترام کہنا مشکل ہے، گو وہ آئندہ مکمل انسان بننے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو، کیوں کہ حکمِ شرعی موجود ہ و بالفعل حالت پر لاگو ہوتا ہے، نہ کہ صرف بالقوۃ و متوقع صورتِ حال پر، یہ جنینی سیل کسی بھی طرح عام نظروں میں اور عرف میں زندہ نہیں سمجھا جاتا، نہ اس میں ذی روح کی طرح کوئی حس و حرکت ہی محسوس ہوتی ہے اس لیے نہ اسے زندہ وجود والا ذی روح کہا جا سکتا ہے اور نہ ویسا قابل احترام ہی
.
اگر اس جنینی اسٹیم سیل سے پورا عضو بنایا جا سکتا ہے تو اس کے لیے ضروری حد تک جنینی اسٹیم مادرِ رحم میں زیر پرورش بچے، اور اسقاط شدہ جنین دونوں ہی سے لیا جا سکتا ہے، اور کار آمد عضو بنایا جا سکتا ہے تاکہ ضرورت مند انسان فائدہ اٹھا سکے اور اس عمل کو
"خير الناس من ينفع الناس"
کے قبیل سے کہا جا سکتا ہے۔
ہاں مادرِ رحم میں زیر پرورش بچہ سے جنینی سیل کے حاصل کرنے کے لیے یہ شرط ضرور ہو گی کہ اس سے اس بچہ کوکسی بھی سطح کا کوئی ضرر و نقصان نہ ہونے کا ظن غالب حاصل رہے، ورنہ پھر ممنوع ہوگا، "
لا ضرر ولا ضرار في الإسلام"
کی روشنی میں۔
اور عضو سازی کے لیے اس جنینی اسٹیم سیل کا استعمال اولاً تو فی الحال غیر جاندار ہونے کے سبب ثانیاً مقصد و نیت کے حسن ہونے کے سبب خلاف احترام و ادب نہیں کہا جا سکتا، ادب و احترام کے مفہوم کی جوہری حیثیت کے مد نظر ایک عمل اگر کبھی خلاف ادب و احترام ہو سکتا ہے، تو وہی کام دوسرے انداز سے کیا جائے تو اسے خلاف ادب و احترام کہنا مشکل ہے۔ اس لیے ہمارے خیال میں مذکورہ بالا شرط اور قصد و نیت یعنی ضرورت مند انسان کی حاجت کی تکمیل کی نیت سے اس عمل کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ (جدید فقہی مباحث:
۲۰
/
۱۷۱
۔
۱۷۳
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.