پھلوں کے چھلکوں کو دانتوں سے کاٹنا بہتر ہے یا چھری، چاقو سے؟
Question
ہم دیہات میں خربوزہ، تربوز اور آم وغیرہ پھلوں کے چھلکے دانتوں سے الگ کر کے کھاتے ہیں لیکن یہاں جنوبی افریقہ میں اور ری یونین میں چھری چاقو سے چھلکے کو الگ کر کے ان پھلوں کو کاٹ کاٹ کر ہاتھ سے اور اکثر کانٹوں سے لوگ کھاتے ہیں، ان دونوں طریقوں میں سے کون سا طریقہ اقرب الی السنہ ہے؟
Answer
پھلوں کے کھانے کی کیفیت کے بارے میں صراحت کے ساتھ کوئی حدیث دریافت نہیں ہوئی البتہ احادیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ گوشت کی بوٹی دانتوں سے نوچ کر تناول فرماتے تھے اور اگر گوشت کا بڑا ٹکڑا ہوتا تھا جیسے بکری کا ہاتھ یا ران جس کا دانتوں سے کاٹنا مشکل ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم چھری سے کاٹتے تھے جیسے
كتف الشاة،
کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
اسی طرح خربوزے یا تربوز کو چھری سے لوگ کاٹتے ہیں لیکن اگر ایک حصہ چھری سے الگ کر دیا جائے اور وہ حصہ منہ میں آ سکتا ہو تو پھر بجائے چھری کے دانتوں سے کاٹنا مناسب ہے جیسے رسول اللہ ﷺ گوشت کو دانتوں سے نوچتے تھے۔ اور یہ طریقہ اقرب الی السنہ کہلائے گا۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
حدثنا يحيى بن بكير قال: حدثنا الليث عن عقيل عن ابن شهاب قال: أخبرني جعفر بن عمرو بن أمية أن أباه أخبره أنه رأي رسول الله ﷺ يحتز من كتف شاة فدعي إلى الصلاة فألقي السكين فصلي ولم يتوضأ. (رواه البخاري: ۱/۳٤/۲۰۸، باب من لم يتوضأ من لحم الشاة).
احادیث میں پنیر کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے چھری استعمال فرمائی۔
عن ابن عمر رضي الله عنه قال: أتي النبي ﷺ بجبنة في تبوك فدعا بسكين فسمي وقطع. (رواه أبو داود: ۲/۱۷۹/۳۸۲۱، باب في اكل الجبن).
گوشت تناول فرماتے وقت دانتوں سے نوچنے کی روایات ملاحظہ کیجیے؛ بخاری شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كنا مع النبي ﷺ في دعوة فرفع إليه الذراع وكانت تعجبه فنهس منها نهسة وقال: أنا سيد القوم يوم القيامة
(رواه البخاري: ۱/٤۷۰/۳۳٤۰، ومسلم، رقم: ۱۹٤، باب ادني أهل الجنة منزلة فيها).
نهس
کا معنی اور مفہوم ملاحظہ کیجیے:
قال العلامة العيني في شرح سنن أبي داود: قوله انتهس: أخذ اللحم بأطراف الأسنان. (شرح سنن أبي داود: ۱/٤٤۳، ط: الرياض).
وقال الإمام النووي في شرح صحيح مسلم: قوله فنهس منها نهسة هو بالسين المهملة، قال القاضي عياض: أكثر الرواة رووه بالمهملة ووقع لابن ماهان بالمعجمة وكلاهما صحيح بمعني أخذ بأطراف أسنانه قال الهروي: قال أبو العباس: النهس بالمهملة بأطراف الأسنان وبالمعجمة الأضراس. (شرح صحيح مسلم: ۳/٦٦، ط: بيروت).
ونقل ابن بطال في شرحه للبخاري عن أبي زيد وغيره: النهس بمقدم الفم كنهس الحية، وانتشال اللحم نتفه وقطعه. (۹/٤۷۷، ط: مكتبة الرشد، الرياض).
قال في عمدة القاري: باب النهس وانتشال اللحم، أي هذا باب في بيان نهس اللحم
وجزم الأصمعي والجوهري وهو القبض على اللحم بالفم وإزالته من العظم وغيره. (عمدة القاري: ۱٤/٤۱۲، باب النهس وانتشال اللحم من كتاب الأطعمة، دار الحديث ملتان).
حدیث شریف میں نوچ کر کھانے کا حکم آیا ہے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: "لا تقطعوا اللحم بالسكين فإنه من صنيع الأعاجم وانهسوه فإنه أهنأ وأمرأ. قال أبو داود وليس هو بالقوي. (أخرجه أبو داود: رقم الحديث: ۳۷۸۰).
قال الملا على القاري في المرقاة: واستحب النهس للتواضع وعدم التكبر قلت: لأنه أهنأ وأمرأ
أو المراد بالنهي التنزيه وفعله لبيان الجواز ولذا قال: انهسوه أي كلوه بأطراف الأسنان فإنه أي النهس أهنأ من الهنيء وهو اللذيذ الموافق للغرض وأمرأ من الاستمراء وهو ذهاب كظة الطعام وثقله. (مرقاة المفاتيح: ۱۲/٤٦۵، كتاب الأطعمة).
سنتِ نبوی اور جدید سائنس میں مرقوم ہے:
دانتوں سے کاٹ کر کھانے کی ترغیب بھی حضور ﷺ نے فرمائی ہے چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ گوشت کو دانتوں سے کاٹ کر کھایا کرو کہ اس سے ہضم بھی خوب ہوتا ہے اور بدن کو زیادہ موافق پڑتا ہے۔
اس میں حکمت یہ ہے کہ جب گوشت کو دانتوں سے کاٹا یا چبایا جائے گا، جتنا زیادہ اس کو چبایا جائے گا اتنا ہی اس کے اندر ہمارا لعاب دہن شامل ہو جائے گا جو کہ معدہ میں جا کر ہضم ہونے میں دقت نہیں ہو گی اور معدہ کو کام زیادہ نہیں کرنا پڑے گا، اگر گوشت کو دانتوں کے درمیان زیادہ نہ چبائے تو اس میں لعابِ دہن کم ہوگا جو کہ معدہ کے ہضم میں مشکل ہو گی۔
دراصل گوشت کو دانتوں سے کاٹنے کی وجہ سے (salivary glands) کی رطوبت زیادہ ہو جاتی ہے کہ جو معدہ میں جا کر قوتِ ہاضمہ کو قوی کرتی ہے جس سے انسان بے شمار بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ (سنتِ نبوی اور جدید سائنس، جلدِ دوم، ص
۱۳
)۔
مذکورہ بالا نقول سے معلوم ہوا کہ پھلوں کے چھلکے دانتوں سے نوچ کر اور اُتار کر کھانا اقرب الی السنہ ہوگا اور یہ طبی اعتبار سے مفید ہوگا اور قوتِ ہاضمہ میں معاون ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.